رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز پر حملہ، تین اہل کار ہلاک


سیکورٹی فورسز کا ایک قافلہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے شمالی وزیرستان کی طرف جا رہا ہے۔ فائل فوٹو

شمالی وزیر ستان کی تحصیل رزمک کے علاقے منظرخیل میں سیکورٹی فورسز کے ایک قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔

سیکورٹی حکام نے اس حملے میں تین اہل کاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق حملے کی ذمہ داری حزب الاسلام نامی گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شمالی وزیرستان کے انتظامی مرکز میران شاہ میں اہل کاروں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے اہل کاروں کی نعشیں اور زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے میران شاہ کے ضلعی ہیڈکوارٹرز اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

اس سے چند روز قبل افغانستان کی سرحد سے 60 سے 70 دہشت گردوں کے ایک گروہ نے شمالی وزیرستان میں الوارہ کے علاقے میں سرحدی باڑ لگانے میں مصروف سیکورٹی اہل کاروں پر حملہ کیا، جس میں دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلہ میں 3 پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کی فوج سرحدی سیکورٹی کو موثر بنانے کے لیے افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگا رہی ہے اور سرحد پر قلعے تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ سرحد کے آر پار آزادانہ نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے۔

پاکستان اور افغان کے درمیان 22 سو کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے فرار ہو کر سرحد پار جانے والے پاکستانی طالبان اور عسکری گروپس کو افغانستان پناہ فراہم کر رہا ہے اور وہ سرحد پار کر کے پاکستانی علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG