رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان میزائل حملے میں تین ہلاک


افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بدھ کی صبح ہونے والے مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق بغیر ہوا باز کے جاسوس طیارے سے داغے گئے میزائلوں کا ہدف ٹبی ٹول خیل نامی گاؤں میں ایک گھر تھا۔

پاکستان کے یہ سرحدی قبائلی علاقے طالبان شدت پسندوں کی آماجگاہ سمجھے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان علاقوں سے شدت پسند سرحد پار افغانستان میں امریکی اور تحادی افواج پربھی حملے کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس قبائلی علاقے میں رواں سال اب تک ایک درجن سے زائد ”ڈرون “ حملوں میں 150 سے زائد افراد مارے گئے ہیں جن میں کئی مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندبھی شامل ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جنوری کے وسط میں ایک ایسے ہی ڈرون حملے میں پاکستانی طالبان کے رہنماء حکیم اللہ محسود بھی زخمی ہونے بعد حال ہی میں ہلاک ہو گئے ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ مشتبہ ڈرون حملے سے ایک روز قبل ہی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یہ خبر دی تھی کہ طالبان کے ایک اعلیٰ کمانڈر ملاعبدالغنی برادر کو کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے گو کہ پاکستانی حکام نے براہ راست اس طالبان کمانڈر کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان سے سرحد پار کر کے پاکستان داخل ہونے والے کئی مشتبہ طالبان جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کی شناخت اور اُن سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG