رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کی وجوہات اور مقاصد


شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کی وجوہات اور مقاصد

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ممکنہ آپریشن شروع کئے جانے کی اطلاعات سرگرم ہیں تاہم ان اطلاعات پر سرکاری طور پر کوئی رائے ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان پر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کئے جانے کا مسلسل دباوٴ ہے اس لئے عین ممکن ہے کہ کسی بھی وقت یہ آپریشن شروع کردیا جائے۔

اس آپریشن کی کیا اہمیت ہے ، شمالی وزیرستان کی کیا اہمیت ہے اور آپریشن سے کیا فوائد حاصل ہوں گے ، اس کا مختصر جائزہ ذیل میں پیش ہے:


شمالی وزیرستان : وجہ 'شہرت'
وزیرستان 2004 ء سے ڈورن حملوں ، دہشت گردوں کے ٹھکانوں ، عسکری آپریشنز اوردہشت گردی کے تربیتی مراکز کے حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز ہے ۔یہ پاک افغان سرحد پر واقع وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ ہے جسے مختصراً فاٹا کہا جاتا ہے۔ فاٹا افغانستان کی ستائس ہزار دو سو بیس مربع کلومیٹر تک پھیلی سرحد سے ملا ہواہے ۔ یہ افغانستان کا شمال مغربی حصہ ہے جبکہ اس کے مشرق میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور جنوب میں بلوچستان واقع ہے۔

وزیرستان کی سات ایجنسیاں ہیں۔ (1)باجوڑ،(2) مہمند، (3)خیبر،(4) اورکزئی، (5)کرم، (6)شمالی وزیرستان اور (7)جنوبی وزیرستان۔

وزیرستان کا شمال مغربی پہاڑی علاقہ گیارہ ہزار پانچ سو پچاسی مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور یہ دو ایجنسیوں شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں منقسم ہے۔ شمالی او ر جنوبی وزیرستان کی سرحدیں آپس میں بھی ملتی ہیں۔حالیہ سالوں میں جنوبی وزیرستان کے چھ ہزار چھ سو انیس مربع کلومیٹر کے علاقے میں پاکستانی فوج دہشت گردوں و عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کرچکی ہے تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آپریشن سے بچنے کے لئے جنوبی وزیرستان کے دہشت گرد شمالی وزیرستان میں جاکر چھپ گئے تھے اور اب وہ دوبارہ سے نیٹوفورسز کے خلاف سرگرم ہوگئے ہیں لہذا ان کے خلاف شمالی وزیرستان میں بھی آپریشن ناگزیر ہے۔

وزیرستان ،سن انیس سو اناسی میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے ساتھ ہی القاعدہ اور طالبان کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا۔اگرچہ اب سوویت یونین نہیں رہا تاہم ماہرین کے مطابق یہاں موجود القاعدہ اور طالبان عسکریت پسند افغانستان میں موجود نیٹو فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی یہیں کرتے ہیں اور افغانستان میں اپنی کارروائیاں کرکے یہاں روپوش ہوجاتے ہیں۔

سراج الدین حقانی نیٹ ورک
رپورٹس کے مطابق نیٹو فورسز کے خلاف سب سے زیادہ سر گرم عمل سراج الدین حقانی نیٹ ورک ہے ۔ اس کا نام جلال الدین حقانی کے نام سے منسوب ہے ۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 1980ء میں جلال الدین حقانی افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کا سب سے اہم کمانڈر شمار ہوتا تھا۔ وہ مجاہدین کو متحد رکھنے کے فن سے بخوبی واقف تھا ۔ اس فن کی بدولت اسے امریکی ، پاکستانی اور سعودی عرب سے بڑے پیمانے پر فنڈزکے ساتھ ساتھ جدید ہتھیاربھی ملے۔ صدر رونالڈ ریگن کے دور میں اس نے وائٹ ہاوٴس کا دورہ بھی کیا۔ لیکن 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد جلال الدین حقانی نے مغربی طاقتوں کے خلاف صف بندی شروع کردی جس کے سبب اس کا نام سی آئی اے کی ہٹ لسٹ پر آگیا ۔

جلال الدین حقانی ضعیفی کے سبب بیمار ہوگیا لیکن اسے چار ہزار عسکریت پسندوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ دوسرے گروپ بھی بڑے پیمانے پر اسے ہر طرح کی امداد فراہم کرتے تھے۔ بیماری کے سبب اس کے بیٹے سراج حقانی نے نیٹ ورک کی باگ دوڑ سنبھالی ۔

حقانی قبیلے کے افرادنسلاً پشتون ہیں اور ان کا تعلق جنوب مشرقی افغانستان کے صوبہ پکتیا سے ہے ۔ یہ نیٹ ورک سب سے زیادہ یہیں سرگرم ہے جبکہ خوست اور پکتیکا صوبوں میں بھی اس کا خاصا اثرو رسوخ ہے۔کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں خود کش حملوں کو حقانی نیٹ ورک نے ہی متعارف کرایا۔ افغانستان میں ہونے والے اہم ترین حملوں کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ بتایا جاتا ہے جبکہ اسی تنظیم کو افغان صدر حامد کرزئی پر قاتلانہ حملے میں ملوث قراردیا جاچکا ہے۔ بھارتی سفارت خانے پر حملے اور کابل ہوٹل پر حملے سے بھی اسی کا نام جڑا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ان کا سرچشمہ شمالی وزیرستان میں ہے۔ اگرچہ اس گروپ پر سب سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملے ہوچکے ہیں مگر اب بھی اس کے ٹھکانے بہت محفوظ تصور کئے جاتے ہیں۔ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان بنیادی اصرار حقانی گروپ کی سرگرمیاں کا خاتمہ ہے۔ امریکہ کا پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے ۔ مبصرین کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن کا سب سے بڑا مقصد حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG