رسائی کے لنکس

logo-print

سٹیٹ چاہیے، نیشنل سکیورٹی سٹیٹ نہیں، عصمت جہاں


پشتون تحفظ موومنٹ کی راہنما، عوامی ورکرز پارٹی کی لیڈر عصمت شاہ جہاں نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں بتایا ہے کہ منظور پشتین کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک میں جو نعرہ مقبول ہوا ہے اس کی خالق وہ ہیں اور انہوں نے سال 2007 میں سب سے پہلے یہ نعرہ لگایا تھا۔ ان کے بقول آج ملک بھر سے لوگ اس نعرے کے گرد جمع ہو رہے ہیں۔

بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک پاکستان کی فوج کو براہ راست ہدف بنانے والا یہ وہی نعرہ ہے جس کے سبب پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز اور میڈیا پی ٹی ایم کی کوریج سے گریزاں ہے۔

لاہور میں جلسے سے کیا مقاصد حاصل کیے جا سکتے تھے؟ اس بارے میں عصمت شاہ جہاں نے کہا کہ مقصد پنجاب کے عوام تک پہنچنا اور ریاست کے ایک خاص بیانیے کو چیلنج کرنا تھا۔

’’لاہور میں جلسے کا مقصد یہ تھا کہ ہم بنیادی طور پر پنجاب کے سامنے ، لاہور اور اہل لاہور کے سامنے اپنا مقدمہ رکھنا چاہتے ہیں کہ اس ضمن میں ہم پر کیا بیتی۔ ہماری آواز دبانے کے لیے چونکہ میڈیا بلیک آوٹ ہے اس لیے ہم جگہ جگہ جا کر اپنا موقف بیان کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب چونکہ پاور اسٹرکچر کا، اسٹیبلشمنٹ کا دل ہے، اس لیے ان کو ہمارا آنا بہت ناگوار گزر رہا تھا ۔ جیسے ایک حاکم اور محکوم، کسان مزدور اور فیکٹری مزدور کا اپنے جاگیردار اور مالک سے رویہ ہوتا ہے ، اسی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہم سے کہا ہم دہشتگرد ہیں اور یہاں کیسے آ گئے۔ ہم نے جلسے کے لیے موچی گیٹ کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہیں سے (سابق فوجی آمر) ضیاءالحق کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ جو اسٹیبلشمنٹ خود پنجاب کے عوام اور پشتون کے درمیان نفرت کا بیج بوتی ہے، پشتونوں کے ساتھ جس طرح نسلی بنیادوں پر سلوک کیا جاتا ہے جو ریاست کا بیانیہ ہے اور ہم اس بیانیہ کو توڑنے کے لیے یہاں آئے ہیں‘‘۔

عصمت شاہ جہاں کے بقول اس جلسے کا مقصد پشتون کا پنجاب کے عوام اور بائیں بازو کے ساتھ رشتہ جوڑنا بھی مقصود تھا۔

لاہور میں منظور پشتین کے سخت لب و لہجے کے بارے میں سوال پر عصمت شاہ جہاں نے کہا کہ بہت سی سیاسی پارٹیاں خاکی وردی پر سوار ہو کر آتی ہیں، اس لیے وہ ہماری حمایت نہیں کر سکتی ہیں۔ ان کے بقول یہ ایک جدلیاتی عمل ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہمیں سٹیٹ چاہیے، سکیورٹی سٹیٹ نہیں۔ ہمارے بچے مارے گئے ہیں ، گھر بار تباہ ہوئے ہیں، ہمارے بچوں کو طالبان بنایا گیا ہے۔ لہٰذا یہی وہ نعرہ ہے جس کے گرد لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس بیانیے سے بات بن رہی ہے، بہت سے لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی پرچم ان کے بقول کسی بھی انسان کی آزادی اور جمہوری حقوق سے مقدم نہیں ہوتا۔

تجزیہ کار صحافی فخر کاکا خیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کوئی شک نہیں کہ منظور پشتین کی باتیں سخت ہیں۔ ان کو چاہیے کہ ملک کے اندر قربانیاں دینے والے فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات کی شاید ہی کوئی مخالفت کرتا ہو۔ جہاں تک سخت لب و لہجے کی بات ہے، اس سے صرف نظر یہ سوچ کر کیا جا سکتا ہے کہ منظور پشتین نے اپنے سر ڈرون اور جیٹ دیکھے ہیں، میتوں کے انبار دیکھے ہیں، وہ ذہبی صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ ملک میں ایسی اور کئی تنظیمیں ہیں جو سوشل میڈیا پر قومی اداروں کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ استعمال کر رہی ہیں۔

تجزیہ کار اور کالم نگار رانا محبوب نے کہا کہ لاہور نے پشتین کو سنا ہے، امید ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی سنے گی۔ رانا محبوب اور فخرکاکا خیل نے امید ظاہر کی کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات کو میز پر آنے دیا جائے گا اور معاملہ گفتگو کے ذریعے حل ہو گا۔

ادھر منظور پشتین نے اپنے خطاب میں متنبہ کیا تھا کہ ان کا احتجاج پر امن ہے لیکن احتجاج میں شامل زیادہ تر لوگ نوجوان ہیں جو زیادہ دیر پرامن نہیں رہا کرتے۔

اُدھر پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر شمالی وزیرستان میں عمائدین کے ساتھ ایک جرگہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق کوئی ایسا مسئلہ موجود نہیں ہے جس کو افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔ قبل ازیں پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ ایسے میں جبکہ فوج نے بڑی قربانیوں کے بعد امن بحال کیا ہے، بعض شرپسند عناصر قبائلی علاقوں میں تحریک شروع کیے ہوئے ہیں۔

حکومت پنجاب سے اس مسئلے پر بات کے لیے کوئی راہنما دستیاب نہ ہو سکا جبکہ وائس آف امریکہ اردو سروس کی نمائندہ ثمن خان نے بتایا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے لاہور جلسے میں کم و بیش 10 ہزار افراد موجود تھے جن میں لاہور سے تعلق رکھنے والی بائیں بازو کی اور انسانی حقوق کی نمایاں شخصیات بھی شامل تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG