رسائی کے لنکس

پاکستان میں اندرونی خلفشارعسکریت پسندوں کےلیے تحفہ ہو گا: امریکی اسکالر


امریکہ پاکستان کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا مگردونوں ملکوں میں غلط فہمیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ پریشان کن بات کہ ہے کہ اب واشنگٹن اور اسلام آباد کے بااثر حلقے حالات کی نزاکت سے لا پرواہی برت رہے ہیں۔ مڈل انسٹی ٹیوٹ کے سکالر ان ریزیڈنس مارون وائن بام کی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ گفتگو

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات نازک مرحلے پر ہیں اورپریشان کن بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے با اثر حلقے حالات کی نزاکت سے صرف نظر کررہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ اسکالر مارون وائن بام نے ورجینیا میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ظہرانے کے دوران غیر رسمی گفتکو کے دوران کیا۔

مارون وائن بام کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر عوامی سطح تک امریکہ کے بارے میں غلط فہمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہاں لوگ سوچتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے، امریکہ پاکستان کا خیر خواہ نہیں ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ان کے بقول، مستحکم پاکستان امریکہ کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ روابط کے پیش نظر بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ امریکہ پاکستان کو مشکلات سے نکلتا دیکھنا چاہتا ہے۔

’’ وہ (امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار) آج بھی راستے تلاش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو درپیش مشکلات میں اس کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے۔ یہاں حکام یہ بات سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو کس طرح کے معاشی دباو کا سامنا ہے‘‘۔ ان کے بقول، امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، کیونکہ یہ چیزتباہ کن ہو گی۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ عسکریت پسندوں کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہوگا۔

تاہم ممتاز تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ اب امریکہ میں بھی یہ بحث چل نکلی ہے کہ آخر کب تک ہم پاکستان کو امداد دیتے رہیں گے۔

’’ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو سوال اٹھا رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو سالانہ تین ارب ڈالر دیے اور ان کے خیال میں اب بھی پاکستان کے اندر اسامہ بن لادن کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے۔ یہ بحث یہاں پر ہے اور میرے خیال میں ہمھیں اس پر اثرانداز ہونے کی ضرورت ہے۔ اور پاکستان میں بھی ایک کھلی بحث کی ضرورت ہے۔ لیکن وہاں ایسی بحث نہیں ہو رہی۔ سیاستدان اپنے انداز سے بات کر تے ہیں۔ فوج کا اپنا ایک ایک ایجنڈا ہے ۔ کالم نگاروں کا اپنا ایجنڈا ہے۔ بعض کالم نگاروں سے میری باقاعدگی سے بات چیت ہوتی ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ وہ ایسی باتیں نہیں کر سکتے جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا پاکستان میں اس بارے میں کھل کر بحث ہونی چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاملات کو کس طرح چلانا چاہتے ہیں‘‘

مارون وائن بام نی اس موقع پر ان خدشات کا اظہار کہا کہ بظاہر امریکہ اور پاکستان دونوں ملکوں میں حالات کی نزاکت کا احساس کم ہو رہا ہے۔ ان کے بقول اوبامہ انتظامیہ کو حکومت سبھالنے کے بعد بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ معاملات چلانے کے لیےوہاں کی فوج سے بات کی جائے لیکن اس انتظامیہ نے سول حکومت کو ترجیح دی۔ کیری لوگر بل اس کی اہم مثال ہے لیکن ان کے خیال میں حالات اب تبدیل ہو رہے ہیں۔

’’ یہ خطرناک پہلو ہے کہ انتظامیہ کے اندر ایسی آوازوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ہم پاکستان کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے کر چکے اور پاکستان کی فوج کے اندر بھی ایسے لوگ ہیں جو اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم امریکہ کے بغیر بھی رہ لیں گے‘‘

مارون وائن بام نے اس موقع پر پاکستان کی اندرورنی سیاست پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں آئندہ انتخابات بڑی اہمیت کے حامل ہوں گے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں اپنے منشور کی بجائے پاوربروکرز پر زیادہ انحصار کرتی ہیں اور اچنبھے کی بات ہے کہ الیکشن سے چند ہفتے قبل ہی پارٹیاں اپنا منشور بیان کرتی ہیں۔

ظہرانے میں شریک محکمہ خارجہ کے ایک سابق عہدیدار باب ماروز نے کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں عام امریکیوں کے ذہنوں میں موجود منفی تاثر کو زائل کریں اور امریکی حکام کے ساتھ روابط استوار کریں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG