رسائی کے لنکس

logo-print

نقل مکانی کرنے والوں کو خوراک کی فراہمی تیز


فائل فوٹو

ڈبلیو ایف پی کے ترجمان نے بتایا کہ چار روز کے دوران ساڑھے چھ ہزار خاندانوں کو راشن فراہم کیا جاچکا ہے اور آئندہ دس بارہ روز میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے تمام رجسٹرڈ افراد کو راشن فراہم کر دیا جائے گا۔

عالمی ادارہ خوراک "ڈبلیو ایف پی" نے شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے افراد کو خوراک کی فراہمی تیز کردی ہے جب کہ امریکہ نے قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی غذائی ضرورت کے لیے پاکستان کو 80 لاکھ ڈالر کی اعانت فراہم کی ہے۔

شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے نتیجے میں اب تک تقریباً پانچ لاکھ افراد شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر چکے ہیں جن کی سب سے زیادہ تعداد بنوں میں منتقل ہوئی جب کہ ملحقہ علاقوں لکی مروت، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی چند بے گھر خاندانوں نے جائے پناہ بنایا ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے ترجمان امجد جمال نے جمعہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ اتوار کو نقل مکانی کر کے بنوں آرنے والے تین سو خاندانوں کو راشن فراہم کیا گیا تھا لیکن اب چار روز کے دوران ساڑھے چھ ہزار خاندانوں کو راشن فراہم کیا جاچکا ہے۔

" اپنی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کے لیے مزید ڈسٹری بیوشن پوائنٹس کھولے جارہے، بنوں میں ایک اور ڈسٹری بیوشن سنٹر کھول رہے ہیں، ٹارگٹ یہ کہ دس بارہ دنوں میں جتنے بھی افراد رجسٹر ہوچکے ہیں ان خاندانوں کو 15 دن کا راشن مہیا کر دیا جائے۔"

ادھر امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی "یوایس ایڈ" نے پاکستانی حکومت اور ڈبلیو ایف پی کے اشتراک سے ایک مشترکہ پروگرام کے تحت ان بے گھر افراد کے لیے 80 لاکھ ڈالر کی اعانت فراہم کی ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے ترجمان امجد جمال کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے ان کے ادارے کو رواں سال ایک لاکھ پچاس ہزار ٹن گندم عطیہ کرنی ہے جس میں سے اب تک اس نے 25 ہزار ٹن گندم نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے فراہم کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گندم سے غذائیت بخش آٹا بنانے اور پھر اس کی ترسیل و تقسیم پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں یو ایس ایڈ کی فراہم کردہ اس اعانت سے ادارے کو ضرورت مند خاندانوں تک خوراک کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG