رسائی کے لنکس

پاکستان کابل ہوٹل حملے میں ملوث طالبان رہنماؤں کو فوری گرفتار کرے: وائٹ ہاؤس


پریس سکریٹری سارا سینڈرز نے کہا ہے کہ ’’اِس طالبان گروپ کو پاکستانی سرزمین استعمال کرنے سے روکا جائے‘‘

وائٹ ہاؤس نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کابل ہوٹل پر حملے میں ملوث ’’طالبان رہنماؤں کو فوری طور پر گرفتار یا بے دخل کیا جائے‘‘۔

یہ بات وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری، سارا سینڈرز نے پیر کو روزانہ پریس بریفنگ کے آغاز پر اپنے کلمات میں کہی۔

ترجمان نے کہا کہ ’’اِس طالبان گروپ کو پاکستانی سرزمین استعمال کرنے سے روکا جائے‘‘۔

ادھر کابل میں انٹرکانٹی ننٹل ہوٹل پر حملے کے بعد، افغان حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ حملے میں طالبان کا دھڑا، حقانی نیٹ ورک ملوث ہے؛ جس کے مبینہ طور پر پاکستانی حدود میں ٹھکانے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ہوٹل پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے زائد ہوگئی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان، محمد فیصل نے کہا ہے کہ ’’حملے کی قابل بھروسہ تحقیقات کرائی جانی چاہیئے‘‘، اور یہ کہ ’’ان اطلاعات کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیئے کہ حملے کی وجہ سکیورٹی انتظامات میں برتی جانے والی غفلت بھی تھی‘‘۔ ادھر، پاکستانی فوج کے ترجمان، میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کابل میں دھماکہ ’’افغان دہشت گردوں کی کارستانی ہے‘‘، جب کہ، بقول ترجمان، ’’حقانی نیٹ ورک کا تعلق بھی افغانستان سے ہے‘‘۔

افغان حکام کے مطابق، اس حملے میں مارے جانے والوں میں 14 غیر ملکی شامل ہیں جن میں ہوٹل میں ٹہرے ہوئے مہمان، عملہ اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

حملہ آوروں نے فوجی اہلکاروں کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ حملے کے دوران 150 افراد، بشمول 41 غیر ملکیوں کو ہوٹل سے محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG