رسائی کے لنکس

بھارت میں فوجی مشقیں اور پاکستان کی شرکت : ' سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں؟'


فائل فوٹو
فائل فوٹو

شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن(ایس سی او ) کے تحت اکتوبر میں بھارت میں ہونے والی 'ریٹس' فوجی مشقوں میں پاکستان کی شمولیت کے اعلان پر دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایوں میں رابطہ کاری جاری رہنی چاہیے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان ایس سی او کے تحت ہونے والی انسدادِ دہشت گردی کی فوجی مشقوں میں حصہ لینےکے لیے اپنا وفد بھارت بھیجے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس سی او کے تحت یہ مشقیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں اور ان مشقوں کی کوئی سیاسی وجوہات نہیں۔

واضح رہے کہ ایس سی او ایک بین البراعظمی ادارہ ہے جس کے چین اور جاپان سمیت کئی ممالک ارکان ہیں۔ بھارت اور پاکستان 2017 میں اس تنظیم کے مکمل رکن بنے تھے۔

یہ تنظیم ممبر ممالک کے مابین سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے امور میں تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ اس سلسلے میں تنظیم کے علاقائی انسداد دہشت گردی کے اسٹرکچر (ریٹس) کے تحت اکتوبر میں بھارت کے شہر مہیسر میں فوجی مشقیں ہو رہی ہیں جن میں پاکستان سمیت روس، چین، ایران، ازبکستان، تاجکستان، قزاقستان اور قرغیزستان شرکت کر رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ 2021 میں بھی ایس سی او کے تحت ریٹس کی فوجی مشقیں پاکستان کے علاقے پبی میں کی گئی تھیں۔ ان مشقوں میں بھارت کی جانب سے تین جنرل شرکت کے لیے آئے تھے۔ اس وقت بھارت کا کہنا تھا کہ وہ ان مشقوں میں شرکت تو کر رہا ہے لیکن ان کا یہ نکتہ نظر ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی میں شامل ہے، جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ان مشقوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ سارک کی تنظیم کام نہیں کر رہی۔ ایسے میں اگر علاقائی طور پر مل بیٹھنے کا موقع ملے تو یہ مثبت اقدام ہے۔ تاہم اگر کوئی ان مشقوں سے امید لگائے بیٹھا ہے تو ایسا کچھ نہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ بہت سارے ممالک ریٹس کے تحت اکٹھے ہو کر انسدادِ دہشت گردی کی مشقیں کرتے ہیں۔ان کے بقول، "ظاہر ہے کہ ان مشقوں میں دوسرے ممالک پر اپنی کوئی ٹیکٹیکل اور اسٹرٹیجک صلاحیت ظاہر نہیں کی جاتی لیکن ان سے دوسرے ممالک کے تعاون کے ساتھ آپریشنز کرنے کا موقع ملتا ہے۔"

انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ کنفلیکٹ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر میجر جنرل ریٹائرڈ دیپانکر بینرجی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ان مشقوں میں مختلف ممالک کے فوجی مل کر ٹریننگ کرتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں اور الگ الگ قسم کے انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز میں ایک دوسرے سے معلومات حاصل کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا دہشت گردی کے خلاف کیسے کارروائی کرنی ہے، کون سے ہتھیار استعمال کرنے ہیں، اس کے لیے ہر ملک میں مختلف طریقہ کار ہے۔ ایسے میں ایک ملک کے اہلکار دوسرے ممالک کے تجربے سے سیکھتے ہیں۔

دیپانکر بینرجی کہتے ہیں ایس سی او مشقوں کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں اور یہ ایک فوجی معاملہ ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ ان کے لیے آپس میں کسی قسم کا بھی تعاون اہم ہے۔ بقول ان کے، دونوں ممالک کے درمیان عرصے سے سرد جنگ کی سی کیفیت ہے۔ ایسے میں مل بیٹھنے سے ایک دوسرے کی بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

XS
SM
MD
LG