رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کی پگڑیاں اور میڈیا کے کیمرے


شاید 29 فروری کا دن افغان طالبان کا دن تھا جو معاہدے کے بعد کافی خوش اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ یہ درست ہے کہ اب حالات بدل رہے ہیں طالبان بھی بدل رہے ہیں۔

دنیا کے کسی بھی پرتعیش ہوٹل میں داخل ہوتے ہی عموماً متاثر کن احساس محسوس ہوتا ہے مگر یہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ 29 فروری کو دوحہ کے 'شیرٹن' ہوٹل میں داخل ہونے پر کسی راحت یا اطیمنان کا احساس ہونے کے بجائے کچھ تناؤ کی سی کفیت تھی جو وہاں موجود مہمان بھی محسوس کر رہے تھے اور ہم میڈیا والے بھی۔

سکیورٹی بہت سخت تھی۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ سے وابستہ صحافی امریکہ اور طالبان کے درمیان 19 برس پر مبنی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کی کوریج کے لیے صبح سے ہی ہوٹل میں موجود تھے۔

گو کہ معاہدے پر دستخط شام میں ہونے تھے لیکن دن بارہ بجے کے بعد سے افغان طالبان کے شرکا کی ہوٹل آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

طالبان اپنے روایتی لباس سفید شلوار قمیض، پگڑی اور کندھے پر رومال ڈالے ہوئے تھے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب شیرٹن کے المجلس ہال میں منعقد ہونی تھی اور میڈیا کے افراد نے وہاں صبح سے ہی ڈیرے ڈال لیے تھے۔ ہر کوئی سب سے بہتر جگہ سے ویڈیو یا تصاویر لینے کے لیے مناسب جگہ تلاش کر رہا تھا۔

جوں جوں تقریب کا وقت قریب آ رہا تھا میڈیا سینٹر اور ہال میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔دوپہر دو بجے کے بعد سے طالبان وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔

میرے لیے طالبان کی اتنی بڑی تعداد کو ایک جگہ دیکھنا کافی مختلف تجربہ تھا۔

طالبان رہنماؤں کی بڑی تعداد امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں موجود تھی۔
طالبان رہنماؤں کی بڑی تعداد امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں موجود تھی۔

نائن الیون کے بعد صحافت شروع کرنے والے اکثر صحافیوں کے لیے کوئٹہ شوریٰ، حقانی نیٹ ورک ’دہشت‘ کی علامت تھی۔ ملا عمر تھے جنھیں امریکی افواج تلاش کر رہی تھیں اور اب ہوٹل میں موجود یہ طالبان جن میں کئی گوانتاناموبے جیل سے رہا ہوئے تھے۔

حالات بدلے، امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے اور جو ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے تھے وہ آج ایک معاہدے پر متفق تھے جس پر باضابطہ طور پر دستخط ہونا تھے۔

تقریب سے قبل مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور سفیر بھی المجلس ہال پہنچے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی آمد پر میڈیا نے اُنہیں گھیر لیا اور سخت سوال پوچھے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اتنے تاریخی موقع پر ایسی باتیں نہ کی جائیں۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب شروع ہوئی تو قطری وزیرِ خارجہ، امریکی سیکریٹری خارجہ اور افغان طالبان کے رہنما ملا برادر نے خطاب کیا۔

عربی، انگریزی اور دری تین مختلف زبانوں میں ہونے والے خطاب میں سب سے زیادہ پرجوش مناظر ملا برادر کی تقریر میں دیکھنے کو ملے۔ کیونکہ ہال میں اُن ہی کی طرح کے افراد کی اکثریت تھی۔

طالبان اور میڈیا

ملا برادر کی تقریر کے دوران طالبان نے کئی مرتبہ پر جوش انداز میں اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔

اس تقریب کے بعد امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے میڈیا سے مختصر گفتگو کی لیکن افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ہوٹل میں آتے جاتے میڈیا کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور تقریب ختم ہونے کے فوراً بعد چلے گئے۔

اس کے برعکس افغان طالبان کی سینئر قیادت تقریب کے کئی گھنٹے بعد بھی ہوٹل میں موجود تھی اور مختلف ذرائع ابلاغ کو خوشی خوشی انٹرویوز دے رہے تھے۔

طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالسلام ضعیف امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ ملا عبدالسلام ضعیف افغانستان میں طالبان کی حکومت کے وقت پاکستان میں سفیر تھے۔
طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالسلام ضعیف امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ ملا عبدالسلام ضعیف افغانستان میں طالبان کی حکومت کے وقت پاکستان میں سفیر تھے۔

شاید 29 فروری کا دن افغان طالبان کا دن تھا جو معاہدے کے بعد کافی خوش اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔

یہ درست ہے کہ اب حالات بدل رہے ہیں طالبان بھی بدل رہے ہیں کیونکہ طالبان کا یہ نیا روپ نوے کی دہائی سے کافی مختلف ہے۔ طالبان اب خواتین سے بات کرنے سے نہ تو انکار کر رہے تھا بلکہ سیاسی لحاظ سے زیادہ پختگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG