رسائی کے لنکس

logo-print

زلزلہ آنے کی صورت میں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں؟


انسان زلزلے کے وقت گھبرا کر اور پریشان ہو کر زلزلہ تو نہیں روک سکتا لیکن اپنے اعصاب قابو میں رکھ کر خود کو اور دوسروں کو زلزلے کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کی کوشش ضرور کر سکتا ہے۔

جب بچے کھیل کھیل میں کچھ دیر گول گول گھومتے ہیں اور پھر سیدھے کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ سیدھے کھڑے نہیں ہو پاتے، انھیں لگتا ہے کہ زمین گول گول گھوم رہی ہے۔ وہ ادھر پیر رکھتے ہیں تو ادھر پڑتا ہے اور ادھر پیر رکھتے ہیں تو ادھر پڑتا ہے، لگتا ہے کہ زمین ہل رہی ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب سچ مچ زمین ہلتی ہے تو کیسا لگتا ہے؟ کیا اس وقت انسان کچھ کر سکتا ہے؟ کسی طرح اپنی اور اپنوں کی مدد کر سکتا ہے اور خود کو یا انہیں سہارا دے سکتا ہے؟

انسان زلزلے کے وقت گھبرا کر اور پریشان ہو کر زلزلہ تو نہیں روک سکتا لیکن اپنے اعصاب قابو میں رکھ کر خود کو اور دوسروں کو زلزلے کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کی کوشش ضرور کر سکتا ہے۔

زلزلے کے وقت کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں یہ سمجھنے کے لئے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ زلزلے میں انسان کے زخمی اور ہلاک ہونے کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟

زلزلے کے دوران لوگوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کی وجوہات کے بارے میں وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کراچی کے جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ کیونکہ زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے مختلف چیزیں ٹوٹ سکتی ہیں اور گر سکتی ہیں اس لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ زلزلے کے وقت آپ کہاں موجود ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا تھا کہ زلزلے کے دوران کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر لوگوں کو زخمی کر سکتے ہیں، چھت پر لگے پنکھے یا لائٹس گر کر لو گوں کو زخمی کر سکتی ہیں، خود چھت یا دیواریں گر سکتی ہیں، الماریوں سے چیزیں گر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ لوگ گرنے والے ملبے تلے دب بھی سکتے ہیں اور گرنے والی چیزوں سے ان کے جسم کے مختلف حصوں پر زخم بھی لگ سکتے ہیں۔

صوبہ سندھ میں آفات سے نمٹنے کے ادارے پروونشل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر اجے کمار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ان کے ادارے کی ویب سائٹ پر لوگوں کی تربیت کے لئے لکھا ہے کہ لوگوں کو اپنے گھر میں یہ بات ضرور کرنی چاہئے کہ کسی آفت کی صورت میں کیا کرنا چاہئے، گھر میں اور باہر کیسے اور کہاں پناہ لینی چاہئے، گھر میں ایمرجنسی کٹ رکھنی چاہئے جس میں دوائیں اور کچھ کھانا پینا ہو تاکہ برے وقت میں کام آ سکے، اگر دیواروں پر چیزیں لٹکائی گئی ہوں تو وہ مضبوطی سے لگی ہونی چاہئے تاکہ زلزلے کے دوران یہ چیزیں لوگوں پر نہ گریں ۔

پروونشل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زلزلے کے دوران نقل و حرکت چند قدموں تک ہی رکھنی چاہئے اور وہ بھی کسی محفوظ مقام تک۔ اگر انسان گھر، دفتر یا کسی چھت کے نیچے ہو تو اسے تب تک وہیں رہنا چاہئے جب تک کہ باہر نکلنا محفوظ نہ ہو۔ انسان کو زلزلے کے وقت زمین پر لیٹ کر کسی مضبوط فرنیچر کے نیچے یا عمارت کے کسی مضبوط حصے میں پناہ لے لینی چاہئے اور اپنے سر، چہرے اور گردن کو اپنے بازؤں اور ہاتھوں سے ڈھانپ لینا چاہئے۔ زلزلے کے دوران لفٹ یا سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے سے گریز ضروری ہے۔

انسان کو شیشے اور دوسری ٹوٹ کر گرنے والی چیزوں سے دور رہنا چاہئے، اگر انسان بستر میں ہو تو اسے چاہیے کہ وہیں لیٹا رہے اور چہرے کو تکیے سے ڈھانپ لے۔ لیکن اگر اس کے اوپر کوئی لائٹ یا پنکھا گرنے کا خدشہ ہو تو پھر بہتر ہے کہ کسی اور محفوظ جگہ پر منتقل ہو جائے۔ زلزلے کے جھٹکوں کے دوران عمارت سے باہر نہ نکلا جائے کیونکہ تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ تر لوگ اس وقت زخمی ہوتے ہیں جب وہ زلزلے کے جھٹکوں کے دوران عمارت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی یا عمارت سے باہر سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر انسان کھلے آسمان تلے ہو تو اسے وہیں رہنا چاہئے اور عمارتوں، کھمبوں اور تاروں سے دور رہنا چاہئے۔ اگر انسان گاڑی میں ہو تو اسے محفوظ مقام پر گاڑی روک کر اندر ہی رہنا چاہئے۔ گاڑی عمارتوں، درختوں، کھمبوں اور تاروں سے دور ہی کھڑی کرنی چاہئے اور زلزلے کے بعد سڑک، پل یا عمارتیں یہ دیکھ کر استعمال کرنی چاہئے کہ کہیں وہ زلزلے سے ٹوٹ تو نہیں گئیں۔

زلزلے کے جھٹکے خود تو نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ان سے گرنے والی چیزیں اور عمارتیں ضرور نقصان پہنچاتی ہیں اس لئے زلزلے کے دوران اور ان کے بعد بھی اس حوالے سے احتیاط کرنی چاہئے۔

XS
SM
MD
LG