رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کے دورۂ امریکہ کا ایجنڈا کیا ہے؟


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان رواں ماہ امریکہ کا دورہ کریں گے جہاں ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہوگی۔

اس دورے کا اعلان ہونے کے بعد سے ذرائع ابلاغ اور سفارتی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ اس ملاقات کا ایجنڈا کیا ہوگا اور دونوں ممالک اس دورے سے کیا حاصل کرنے کی توقع کر رہے ہیں۔

تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے خیال میں امریکہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا تعاون چاہتا ہے اور اسی لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ 22 جولائی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران زیادہ تر بات افغانستان سے متعلق ہوگی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں حائل بد اعتمادی دور کرنے پر دھیان مرتکز کیا جائے اور اسے جس حد تک ہو سکے، دور کیا جائے۔

ان کے بقول، دہشت گردی کے معاملے پر بھی پاکستان اور امریکہ کے درمیان جو نا اتفاقی رہی ہے، اس دورے میں اسے بھی دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

ڈاکٹر حسن عسکری کے خیال میں پاکستان چاہے گا کہ امریکہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاک بھارت بات چیت کا سلسلہ بھی شروع کرائے۔ لیکن ان کے بقول، امریکہ کا مفاد بنیادی طور پر افغانستان کے ارد گرد گھومتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ میڈیا میں اب تک اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے کہ امریکہ نے بھارت سے کہا ہو کہ اسے پاکستان سے گفتگو کرنی چاہیے۔

جب ان کا دھیان وائٹ ہاؤس کے اس بیان کی جانب مبذول کرایا گیا جس میں وزیرِ اعظم پاکستان کے دورے کے دوران تجارت کے علاوہ دفاعی امور پر بھی گفتگو کا عندیہ دیا گیا ہے، تو ڈاکٹر رضوی کا کہنا تھا کہ پاک امریکہ دفاعی تعلقات دیرینہ ہیں جن میں بگاڑ آتا رہتا ہے اور اس وقت بھی آیا ہوا ہے۔

ان کے بقول، "غالباً امریکہ اس بات میں دلچسپی رکھتا ہوگا کہ ان تعلقات کو بحال کیا جائے، چونکہ اس سے پاکستان کو کچھ اسلحہ بیچا جا سکتا ہے۔"

ان کے خیال میں اس کے برعکس پاکستان کی دلچسپی امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی اور ملٹری ٹریننگ کے پروگرام کی بحالی میں ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ دورے میں علاقے کی مجموعی سیکورٹی کے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے جن میں افغانستان اور بھارت کے علاوہ ایران اور چین کے ساتھ تعلقات بھی شامل ہیں۔

جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر مارون وائن بام کے خیال میں عمران خان کے دورۂ واشنگٹن کے دوران دہشت گردوں کی مالی معاونت اور طالبان پر دباؤ ڈالنے کے معاملے کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی جب کہ باہمی تجارت پر بھی گفت و شنید متوقع ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے مارون وائن بام نے کہا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات سے دونوں رہنماؤں اور ان کی حکومتوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع میسر آئے گا۔

ان کے بقول، ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ذاتی قربت پیدا ہو جائے جس سے ان کے ملک کو فائدہ پہنچے۔

انھوں نے کہا کہ امکان یہی ہے کہ ٹرمپ عمران خان کے لیے انتہائی عزت کا اظہار کریں گے، اور بدلے میں عین ممکن ہے کہ انہیں ایسے ہی رویے کا سامنا ہو۔

تجارت سے متعلق سوال پر ڈاکٹر وائن بام کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ نے یہ بات یقینی بنائی ہوئی ہے کہ پاکستان کو کسی قسم کا فوجی ساز و سامان نہ دیا جائے؛ اور اب دیکھنا ہوگا کہ اس ضمن میں اسے کوئی رعایت دی جاتی ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان چاہے گا کہ اس کے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات بحال ہوں۔

بقول ان کے، "پاکستان کا موقف ہوگا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں ہم نے بہت مدد دی ہے جس کی بنیاد پر ہم پر زیادہ اعتماد کیا جانا چاہیے۔ اس سے قبل امریکہ کو شکایت رہی تھی کہ پاکستان اتنا کچھ نہیں کر رہا ہے۔"

ڈاکٹر وائن بام نے کہا کہ اگر بات چیت اچھے انداز میں ہوتی ہے تو عین ممکن ہے کہ اس کے اثرات تجارت اور دفاعی تعلقات میں بہتری کی صورت میں دکھائی دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG