رسائی کے لنکس

logo-print

ہزاروں تارکین وطن کے قافلے کا سفر کب اور کہاں ختم ہو گا؟


وسطی امریکہ کے تارکین وطن کا قافلہ امریکہ کی جانب سفر پر رواں۔

صدر ٹرمپ نے وسطی امریکہ سے تشدد اور شدید غربت کے حالات میں فرار ہو کر امریکہ کی طرف بڑھنے والے تارکین وطن کے قافلے کو روکنے کے لئے 7,000 فوجیوں کو جنوبی سرحد کی جانب روانہ کر دیا ہے باوجود اس کے کہ یہ قافلہ ابھی امریکی سرحد سے سینکڑوں میل دور ہے۔

امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے ان خواہش مند افراد کی ایک منزل ایل پاسو ہے اور اس شہر کے رہائشیوں کا خیال ہے کہ دکھائی دینے والی صورت حال اصل حقیقت سے بالکل مختلف ہے۔

ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کئی ہزار تارکین وطن پر مشتمل اس قافلے کا سفر کہاں ختم ہو گا۔ تاہم امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کا انعقاد منگل کے روز ہو رہا ہے اور ان تارکین وطن کو روکنے کے لئے امریکی فوجی میکسیکو کے ساتھ جنوبی سرحد پر تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ ریاست ٹیکساس کے رہائشیوں میں ان دنوں اس بات پر بحث جاری ہے کہ ایسی صورت حال کیسے پیدا ہو سکتی ہے جسے بحران کا نام دیا جا سکے۔

سفر کے دوران بس کے انتظار میں تارکین وطن کے ایک خاندان کی بچی سڑک کنارے سوئی ہوئے ہے
سفر کے دوران بس کے انتظار میں تارکین وطن کے ایک خاندان کی بچی سڑک کنارے سوئی ہوئے ہے

مغربی ٹیکساس اور میکسیکو کے شہروں نیو میکسیکو اور سوداد ہواریز کے شہری خاندانی اور ثقافتی رابطوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب کی برادریاں ہر سال اکٹھی ہو کر ان لوگوں کو یاد کرتی ہیں جو پناہ کی تلاش میں آتے ہوئے اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ یہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر تارکین وطن کا قافلہ ان کے شہر میں پہنچتا ہے تو وہ انہیں خوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہیں۔

ایل پاسو کے کیتھلک ڈایوسیس کے مارکو ریپوسو کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ وہاں کیسے رہ رہے ہیں۔ وہ کن تجربات سے گزر رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں اور ان پر کیا بیت رہی ہے۔ لہذا جب ہم انہیں یہاں پائیں گے تو ہم کہیں گے ، ’ضرور ۔ آئیے۔‘

ایل پاسو ٹیکساس کا سب سے محفوظ اور امریکہ کا ساتواں محفوظ ترین شہر سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ اگرچہ ایک جمہوری ملک ہے، صدر ٹرمپ کے مقامی حامی سرحد کی قلعہ بندیوں میں مصروف ہیں تاکہ تارکین وطن کے قافلے کو امریکی سرزمین چھونے سے روکا جا سکے۔ ان کا یہ مؤقف امریکہ کے دیگر علاقوں میں امیگریشن کے بارے میں سخت مؤقف رکھنے والوں جیسا ہی ہے۔ ایل پاسو کے ایک شہری آئن والدیز نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی تعداد 7,000 ہے تو انہیں مزید سات ہزار اور پھر مزید سات ہزار افراد کو لانے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ ہمیں اس بات کی حد مقرر کرنا ہو گی کہ ہم کہاں اور کیسے ان لوگوں کو امریکہ آنے دیں۔

صدر ٹرمپ سیاسی پناہ کے ان خواہش مند افراد کو روکنے کے لئے قومی سلامتی کو جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کی طرف وسط مدتی انتخابات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے کیونکہ بقول ان کے ان انتخابات کے نتائج سے صدر کے اختیارات کم ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG