رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت کی بندش، صدر ٹرمپ کے مثبت اشارے اور دھمکی


صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کر رہے ہیں

وائٹ ہاؤس نے آج اتوار کے روز حکومت کی بندش کے حوالے سے اپنے مؤقف میں کچھ نرمی کے اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر میکسیکو کے ساتھ سرحد پر کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے کے مؤقف میں قدرے لچک پید ا کرتے ہوئے فولادی باڑ تعمیر کرنے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس نرمی کے باوجود تیسرے ہفتے میں داخل ہونے والی حکومت کی بندش مزید طوالت اختیار کر سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے آج وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے دوبارہ دھمکی دی کہ اگر وہ آئیندہ چند روز کے اندر ہونے والے مزاکرات سے مطمئن نہ ہوئے تو وہ قومی سطح پر ہنگامی صورت حال کا اعلان کر کے دیوار کی تعمیر کیلئے فوج کو استعمال کر سکتے ہیں اور اسے روکنے کیلئے کانگریس کچھ نہیں کر پائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے قائم مقام چیف آف سٹاف مک ملوینی نے این بی سی کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے کنکریٹ کی دیوار کے بجائے فولادی باڑ تعمیر کرنے پر رضامندی سے ڈیموکریٹک پارٹی کنکریٹ کی دیوار کی مخالفت کے مؤقف پر قائم رہ سکتی ہے جس سے معاملہ صحیح سمت کی طرف جا سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایک ایسے سمجھوتے کو قبول کر سکتی ہے جس میں کنکریٹ کی ویوار کا منصوبہ ترک کرتے ہوئے فولادی باڑ پر اتفاق کر لیا جائے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی طرف سے امیگریشن کے حوالے سے مزید مطالبات بھی سامنے آ سکتے ہیں جن میں ’ڈاکا‘ پروگرام کے تحت والدین کے ہمراہ بغیر قانونی دستاویزات کے امریکہ وارد ہونے والے تارکین وطن بچوں کے تحفظ کی یقین دہانی شامل ہو۔

ملوینی کا کہنا ہے کہ اُن کے عملے اور کانگریس کے ڈیموکریٹک ارکان کے درمیان ہفتے کی صبح ہونے والے مزاکرات ٹکنکی بنیادوں پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ لہذا اس بات کی توقع موجود ہے کہ حکومت کی بندش کا معاملہ مزید طوالت اختیار کر سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG