رسائی کے لنکس

امریکہ کی برطانیہ میں سابق روسی جاسوس پر حملے کی مذمت


برطانوی فوج کے اہلکار اس مقام پر تفتیش میں مصروف ہیں جہاں سابق روسی جاسوس پر زہریلی گیس سے حملہ کیا گیا تھا۔

برطانیہ نے اس حملے کا الزام روس پر عائد کیا ہے لیکن وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اپنے بیان میں اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے یا کسی کو حملے کا ذمہ دار ٹہرانے سے گریز کیا۔

امریکہ نے برطانیہ میں مقیم روس کے ایک سابق جاسوس پر زہریلی گیس کے حملے کی سخت مذمت کی ہے تاہم حملے کا الزام روس پر عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی سرزمین پر برطانوی شہریوں کے خلاف انتہائی مہلک گیس کا استعمال اشتعال انگیز اقدام ہے۔

ترجمان نے حملے کو بے رحمانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کی شدید مذمت کرتا ہے اور متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور برطانیہ کی حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

برطانیہ نے اس حملے کا الزام روس پر عائد کیا ہے لیکن وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اپنے بیان میں اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے یا کسی کو حملے کا ذمہ دار ٹہرانے سے گریز کیا۔

ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا امریکہ بھی برطانیہ کی طرح سمجھتا ہے کہ حملے میں روس کا ہاتھ ہے، سارہ سینڈرز نے کہا کہ برطانوی حکومت اب تک حملے سے متعلق بعض تفصیلات کا کھوج لگانے میں مصروف ہے لہذا وہ اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہیں گی۔

چار مارچ کو برطانیہ کے شہر سالسبری میں کیے جانے والے زہریلی گیس کے حملے میں سرگئی اسکری پال اور ان کی بیٹی یولیا شدید متاثر ہوئے تھے جو تاحال تشویش ناک حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

سرگئی اسکری پال روسی فوج میں انٹیلی جنس افسر تھے جو برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا کرتے رہے تھے۔ وہ 2010ء میں روس اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے جاسوسوں کے تبادلے کے نتیجے میں برطانیہ منتقل ہوگئے تھے۔

برطانیہ نے اس حملے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی خود مختاری اور سلامتی کے منافی اقدام قرار دیا ہے۔

پیر کو پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس حملے میں روس ملوث ہے۔

انہوں نے روس کو اس معاملے پر وضاحت دینے کے لیے بدھ تک کا وقت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کریملن نے اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسا ردِ عمل نہ دیا تو برطانوی حکومت یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگی کہ یہ حملہ کرکے روس نے برطانیہ کے خلاف طاقت کا ناجائز استعمال کیا ہے۔

تھریسا مے نے کہا کہ اس صورت میں وہ پارلیمان کے سامنے وہ تمام اقدامات تجویز کریں گی جو اس حملے کے ردِ عمل میں برطانیہ روس کے خلاف اٹھا سکتا ہے۔

روس کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے برطانوی وزیرِ اعظم کے پارلیمان میں بیان کو "برطانوی پارلیمان میں سرکس شو" قرار دیتے ہوئے حملے میں ملوث ہونے کا الزام مسترد کیا ہے۔

مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ جینز اسٹالٹن برگ نے بھی حملے کو انتہائی ہولناک اور قطعی ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ نیٹو کے لیے بھی باعثِ تشویش ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG