رسائی کے لنکس

ہزاروں امریکی فوجی، سرکاری اہلکار پورٹوریکو بھیجنے کا اعلان


پورٹو ریکو کے ایک متاثرہ علاقے کا فضائی منظر

پورٹو ریکو بحرِ اوقیانوس میں واقع ایک جزیرہ ہے جو امریکہ کی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام ہے۔ پینتیس لاکھ آبادی پر مشتمل یہ جزیرہ طوفان مریا سے بری طرح متاثر ہوا تھا جو 17 ستمبر کو جزیرے سے ٹکرایا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ سمندری طوفان مریا سے بری طرح متاثر ہونے والے امریکی جزیرے پورٹو ریکو پر امدادی سرگرمیوں کے لیے وفاقی حکومت کے 10 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ٹام بوسارٹ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے لیے پورٹو ریکو بھیجے جانے والے افراد میں سے سات ہزار فوجی اہلکار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست ورجینیا میں لنگر انداز ایک ہزار بستروں پر مشتمل امریکی بحریہ کا شپ اسپتال 'کمفرٹ' بھی پورٹو ریکو روانہ کیا جارہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق پورٹو ریکو میں واقع 69 اسپتالوں میں سے طوفان کے بعد صرف 44 اسپتال کام کر رہے ہیں اور بحری اسپتال کے وہاں پہنچنےسے صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

امریکی محکمۂ دفاع 'پینٹاگون' نے پورٹو ریکو پر فوج کی جانب سے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کے لیے لیفٹننٹ جنرل جیفری بیوکینن کو نگران مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پورٹو ریکو بحرِ اوقیانوس میں واقع ایک جزیرہ ہے جو امریکہ کی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام ہے۔ پینتیس لاکھ آبادی پر مشتمل یہ جزیرہ طوفان مریا سے بری طرح متاثر ہوا تھا جو 17 ستمبر کو جزیرے سے ٹکرایا تھا۔

طوفان کے باعث جزیرے کے بنیادی انفراسٹرکچر کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ طوفان سے ہزاروں سرکاری اور رہائشی عمارتیں اورسڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں جب کہ بجلی کی ترسیل کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

طوفان کے بعد جزیرے پر ایندھن، غذائی اشیا اور صاف پانی کی شدید قلت ہے۔

صدر ٹرمپ کے ناقدین ان کی حکومت پر طوفان کے بعد امدادی سرگرمیاں بروقت شروع نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

امریکی حکومت نے طوفان کے چند روز بعد جزیرے پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا البتہ امدادی سرگرمیوں کے نگران کے نام کا اعلان ہنگامی حالت کے نفاذ کے بھی آٹھ روز بعد کیا گیا۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو پورٹو ریکو میں جاری امدادی کارروائیوں کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر ٹام بوسارٹ نے ٹرمپ حکومت کے اقدامات کا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ آٹھ دن قبل جزیرے کی صورتِ حال اتنی خراب نہیں تھی کہ ایک تھری اسٹار فوجی جنرل کو وہاں امدادی سرگرمیوں کا نگران بنایا جاتا۔

امریکہ میں 2005ء میں آنے والے تباہ کن طوفان کترینہ کے بعد فوج کی امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے سابق فوجی جنرل رسل آنر نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے پورٹو ریکو میں کم از کم چار دن کی تاخیر سے فوج تعینات کی۔

امریکہ کے 'نیشنل پبلک ریڈیو' سے گفتگو کرتے ہوئے آنر نے کہا کہ امریکہ کی سرزمین سے دور ہونے اور بجلی کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوجانے کے باعث پورٹو ریکو پر بحالی کا کام کترینہ سے کہیں زیادہ دشوار ہوگا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی سرزمین سے کئی سو میل دور ہونے کے باعث پورٹو ریکو تک صرف بحری اور فضائی راستے سے سے ہی امدادی سامان پہنچایا جاسکتا ہے جو مہنگا، وقت طلب اور مشکل عمل ہے۔

امریکہ میں آفات سے نبٹنے کے ادارے 'فیما' کے علاقائی ڈائریکٹر جان رابن کے مطابق امریکی حکومت اب تک پورٹو ریکو میں 11 لاکھ لیٹر صاف پانی اور ایک لاکھ کھانے پہنچا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امدادی سامان جزیرے پر پہنچانے کے لیے ہوائی جہازوں سے کہیں زیادہ بڑے بحری جہازوں کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG