رسائی کے لنکس

logo-print

نئی اسرائیلی بستیاں 'امن کے لیے مدد گار نہیں ہوں گی': وائٹ ہاؤس


وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو دیر گئے کہا کہ نئی یا موجودہ سرحدوں سے باہر توسیع شدہ اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے حصول کی کوششوں کے لیے "مددگار نہیں ہوں گی۔"

تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ یہ خیال نہیں کرتی کہ بستیوں کی موجودگی امن کی راہ میں رکاوٹ ہے لیکن نئی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں ابھی کوئی سرکاری موقف اختیار نہیں کیا ہے۔

سپائسر نے کہا کہ اسرائیل کے وزیراعظم بیجمن نیتن یاہو رواں ماہ واشنگٹن کا دورہ کریں گے اور اُس موقع پر دونوں راہنماؤں کے درمیان بات چیت ہو گی۔

فلسطینوں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینوں کی طرف سے اسرائیلی ریاست کو تسلیم نا کرنے کی وجہ سے بات چیت آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی سیکورٹی فورسز مغربی کنارے میں تعمیر کی گئی ایک غیر قانونی بستی میں موجود لوگوں کو وہاں سے نکال رہی ہیں۔ امونا میں باقی رہ جانے زیادہ تر لوگوں نے ایک یہودی عبادت گاہ میں پناہ لی ہوئی ہے۔

اسرائیلی پولیس نے بدھ کو جب اس بستی کو صاف کرنے کا کام شروع کیا، تو انہیں یہاں کے سینکڑوں مکینوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے رکاوٹیں کھڑی کر کے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

مظاہرین نے پولیس پر آوازیں کستے ہوئے کہا کہ"یہودی یہودیوں کے بے دخل نہیں کرتے۔" اس واقعہ میں تقریباً 20 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے 2014 میں فیصلہ دیا تھا کہ امونا کی بستی ایک نجی فلسطینی زمین پر تعمیر کی گئی تھی اور اسے گرا دیا جائے۔ دوسری طرف قدامت پسند اسرائیلی عہدیدار اس فیصلے کو تبدیل کروانے کے لیے کوشاں رہے۔

XS
SM
MD
LG