رسائی کے لنکس

logo-print

وائٹ ہاوس میں تصاویر لینے پر عائد 40 سالہ پابندی ہٹا لی گئی


پالیسی میں اس تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن کہا گیا ہے کہ بعض کیمرے اور ان سے منسلک آلات جیسے کہ سیلفی اسٹک وغیرہ کی اب بھی یہاں ممانعت ہو گی۔

وائٹ ہاوس نے عوام پر ایگزیکٹو مینشن کے دورے کے موقع پر تصاویر لینے پر عائد 40 سالہ پابندی ختم کر دی ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ دورے کے دوران بنائی گئی تصاویر ٹوئٹر پر اس ہیش ٹیگ ’وائٹ ہاوس ٹوئر‘ کے ساتھ شیئر کریں۔

اس بات کا اعلان بدھ کو خاتون اول مشیل اوباما نے انسٹاگرام پر اپنے وڈیو پیغام میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ "اگر آپ نے وائٹ ہاوس کی سیر کی ہے تو آپ نے ایک انتباہ دیکھا ہوگا جس کے مطابق تصویر لینا اور سوشل میڈیا کی اجازت نہیں، اب ایسا نہیں ہے۔"

مشیل اوباما نے اس انتباہی پیغام کو مسکراتے ہوئے پھاڑ دیا۔

وائٹ ہاوس نے پالیسی میں اس تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن کہا گیا ہے کہ بعض کیمرے اور ان سے منسلک آلات جیسے کہ سیلفی اسٹک وغیرہ کی اب بھی یہاں ممانعت ہو گی۔

وڈیو کیمرا، ایسے کیمرے جن کا لینز اتارا جا سکتا ہے، ٹیبلٹس، ٹرائی پوڈ اور مونو پوڈ لے جانے پر پابندی برقرار رہے گی۔

وائٹ ہاوس کے مطابق موبائل فون کیمرہ اور ایسے کیمرے جن کا لینز تین انچ سے زیادہ نہ ہو، سیر کے دوران ساتھ رکھے جا سکیں گے۔

یہ رعایت ایک ایسے وقت دی گئی ہے جب بدھ کو ہی ایگزیکٹو مینشن کے گرد نئے سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔

فی الوقت آہنی باڑ پر نوکیں لگائی گئی ہیں جو کہ آئندہ سال یہاں مستقل سکیورٹی انتظامات کیے جانے تک لگی رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG