رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا: وائٹ ہاؤس


(فائل فوٹو)

جنرل ملر نے کہا ہے کہ انہیں افغانستان میں امریکہ دستوں کی تعداد میں کسی قسم کی تبدیلی کے بارے میں کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاعات منظرِ عام پر آئی تھیں کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے سات ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ "یہ ٖفیصلہ ہو چکا ہے اور بہت نمایاں تعداد میں (امریکی) فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلایا جائے گا۔"

تاہم بین الاقوامی نشریاتی ادارے 'بلوم برگ' نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان گیرٹ مارکس نے ایک ای میل کے ذریعے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے دعویٰ کو مسترد کر دیا ہے۔

'بلوم برگ' کے سوال کے جواب میں بھیجی گئی ای میل میں کہا گیا ہے کہ "صدر نے افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کو کم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور انہوں نے محکمۂ دفاع کو افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپسی شروع کرنے کی بھی کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہے۔"

گیرٹ مارکس کے اس بیان کی افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر نے بھی تائید کی ہے۔

جنرل ملر نے کہا ہے کہ انہیں افغانستان میں امریکہ دستوں کی تعداد میں کسی قسم کی تبدیلی کے بارے میں کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

افغانستان سے امریکی فوج کو واپس بلانے کے صدر ٹرمپ کے فیصلے سے متعلق قیاس آرائیاں ایسے وقت سامنے آئی تھیں جب صدر نے شام سے امریکی فوج کو واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے وہاں داعش کو شکست دے دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG