رسائی کے لنکس

logo-print

مضبوط بولنگ اٹیک کی حامل ٹیم ورلڈ کپ جیتے گی، ائن چیپل


سابق آسٹریلوی کپتان این چیپل کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہونے والے ماضی کے عالمی کپ کے مقابلوں میں وہی ٹیم کامیاب رہی ہے جس کے پاس بہترین بولنگ اٹیک تھا۔ 2019ء کے ورلڈ کپ میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہو گی۔

ائن چیپل نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایک بار پھر غیر متوقع ٹیم کا خطاب دے دیا۔

ماہرین اور کرکٹ سے گہری دلچسپی رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وہی ٹیم جیت کی حقدار ٹھہرے گی جس کے کھلاڑی انگلش کنڈیشنز کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں گے۔

این چیپل نے برطانیہ میں ہونے والے 1983ء کے ورلڈ کپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ فائنل میں بھارت کے تیز بولنگ اٹیک نے موافق کنڈیشنز کا فائدہ اٹھا کر ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر اپ سیٹ کیا تھا۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق انگلینڈ میں ایک روزہ میچ جیتنے کی کنجی یہی ہے کہ ٹیم موسم اور گراؤنڈ کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو کر بہترین کھیل پیش کرے۔ اگر مطلع ابر آلود رہے تو اچھی سیم بولنگ فائدہ مند ہو گی جبکہ حالات بلے بازوں کے لئے اتنے سازگار نہیں ہوں گے۔

ائن چیپل کے بقول اگر موسم گرم اور خشک ہے تو عموماً انگلینڈ میں یہ حالات بیٹنگ کے لئے سازگار ہوتے ہیں اور بلے بازوں کو آزادانہ شاٹس کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے تاہم اگر آپ کے پاس بہترین سپن اور تیز فاسٹ بالر موجود ہیں تو میگا ایونٹ میں کامیابی کے امکانات بھی اتنے ہی روشن ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر کا مزید کہنا ہے کہ اگر انجریز نہ ہوں تو اس معیار پر زیادہ پورا اترنے والی ٹیمیں آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا ہیں اور ورلڈ کپ میں شریک بڑی ٹیموں میں سے ممکنہ طور پر انہی پانچوں ٹیموں میں سے کوئی ایک فاتح ہو سکتی ہے۔

این چیپل نے ویسٹ انڈیز اور پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی پرفارمنس میں اچانک بہتری آئی ہے جبکہ پاکستان کی ٹیم بہت زیادہ غیر متوقع ہے۔

سابق آسٹریلوی کرکٹر کا کہنا ہے کہ ان پانچ ٹیموں کے پاس ممکنہ طور پر بہترین بولنگ اٹیک ہوگا، انہیں کلائی کا استعمال کرنے والے اسپنرز کی خدمات بھی حاصل ہیں جو بہت زیادہ موثر رہے ہیں۔

بھارت دو بالرز کے ساتھ شاید بہترین ہے لیکن جنوبی افریقا کے عمران طاہر اور انگلینڈ کے عادل رشید بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ آسٹریلیا کے ایڈم زمپا اور نیوزی لینڈ کے اسپنر سودھی بھی خریف بلے بازوں کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

ائن چیپل کے مطابق اگر ٹورنامنٹ کے اختتام تک پچز اچھی رہیں تو بھارت کے کلدیپ یادیو اور یوزویندر چاہل بھی بازی پلٹ سکتے ہیں۔

ائن چیپل کا کہنا ہے کہ جہاں تک فاسٹ بولرز کی بات ہے تو آسٹریلیا اور جنوبی افریقا نمایاں ہیں۔ جسپریت بومرہ اور محمد شامی کے ساتھ بھارت کی پوزیشن بھی اچھی ہے لیکن شاید ٹرینٹ بولٹ اور ٹم ساؤتھی پر مشتمل نیوزی لینڈ کی جوڑی کسی بھی قسم کی موافق سیمنگ کنڈیشنز کا بہترین استعمال کر سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG