رسائی کے لنکس

سیاسی رنگ دینے سے کرونا کے خلاف کوششوں کو نقصان پہنچا: ڈبلیو ایچ او


فائل فوٹو

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے اور اس وبا سے نمٹنے کے لیے لیڈر شپ کا نہ ہونا کرونا سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینم نے یہ گفتگو پیر کو دبئی میں 'ورلڈ گورنمنٹ سمٹ' کے زیرِ اہتمام ہونے والی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا سے نمٹنے کے لیے دنیا کو قومی اتحاد اور بین الاقوامی یک جہتی کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن عالمی وبا کو سیاسی رنگ دینے سے اس یک جہتی اور وبا سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ٹیڈروس ایڈہینم نے کہا کہ اس وقت ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ کرونا وائرس نہیں بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی یک جہتی اور بین الاقوامی لیڈر شپ کا نہ ہونا زیادہ بڑا خطرہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا ملک یا حکومت کرونا کی وبا کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔ البتہ کرونا وائرس کے معاملے پر کئی ممالک ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہے ہیں اور امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی بھی رہی ہے۔

امریکہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور عالمی ادارۂ صحت پر سخت تنقید کی تھی۔ امریکی صدر نے چین کو وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کرونا وائرس ووہان کی ایک لیبارٹری سے پھیلا ہے۔ چین ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کو بھی وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھیرایا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کیں اور سست روی سے کام لیا۔

امریکی صدر یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ عالمی ادارۂ صحت کی زیادہ توجہ چین کی جانب ہے اور وہ چین کی بے جا تعریفیں کرتا ہے۔ امریکی صدر نے عالمی ادارۂ صحت کے فنڈز بھی روک لیے تھے۔

پیر کو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں کہا کہ دنیا بھر میں 90 لاکھ سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ٹیڈروس ایڈہینم نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ابتدائی تین ماہ میں دنیا بھر میں صرف 10 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن اس کے بعد مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھی۔ ان کے بقول اب وائرس اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ صرف گزشتہ آٹھ روز میں 10 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس کے سب سے زیادہ یومیہ کیسز برازیل، امریکہ اور بھارت میں رپورٹ ہو رہے ہیں جب کہ پاکستان میں بھی روز ہزاروں مریض سامنے آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG