رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کی منتقلی کا کھوج لگانے میں ماہرین کو دشواری کا سامنا


فائل فوٹو

چین سے باہر جنوبی کوریا، سنگاپور اور ایران تین ایسے ملک ہیں جہاں کرونا وائرس کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت ماہرین کے لیے پریشانی کی بات کرونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ پھیلاؤ شروع کیسے ہو جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے وائرس کے خلاف بروقت سخت کارروائیوں کے نتیجے میں بیرونی دنیا کو اس نئے وائرس کے مقابلے کے لیے تیار ہونے کا موقع مل گیا ہے۔ مگر جیسے جیسے دنیا کے مختلف حصوں میں یہ مرض ظاہر ہو رہا ہے، ماہرین کو یہ کھوج لگانے میں دشواری پیش آ رہی ہے کہ وہاں وہ کون شخص تھا جو نئی جگہوں پر وائرس پھیلانے کا سبب بنا۔

صحت کا عالمی ادارہ ایران اور جنوبی کوریا میں وائرس کے واقعات سامنے آنے پر فکر مند ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بیرونی دنیا کو چین سے بھی زیادہ سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ عالمی ادارے نے انتباہ کیا ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، عالمی وبا وہ مرض ہوتا ہے جو دو براعظموں میں پھیل جائے جب کہ ماہرین اس وبا کو عالمی وبا قرار دیتے ہیں جس سے مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو جائیں۔

جنوبی کوریا میں سینکڑوں نئے کیسوں کی شناخت بدھ کے روز شروع ہوئی، جن کا تعلق ڈائگو نامی شہر کے ایک گرجا گھر اور ایک مقامی اسپتال سے بتایا گیا ہے۔ لیکن، صحت کے حکام کو ابھی تک اس کلیدی کیس کی شناخت نہیں ہوئی جو دوسروں میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنا۔

اسی طرح ملک کے مرکزی شہر سیول میں بھی کرونا وائرس کے متعدد کیسوں کی نشاندہی ہوئی ہے، لیکن ابھی تک یہ کھوج نہیں لگایا جا سکا کہ وہاں یہ وبا کیسے پہنچی۔

اسی طرح، اٹلی کے شمالی علاقے میں بھی کرونا وائرس کے کچھ واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے متعلق شبہ ہے کہ وہاں یہ وائرس ایک اسپتال اور ایک کیفے کے ذریعے پھیلا ہے۔

ماہرین کے نزدیک کرونا وائرس کے کیسز کا زیادہ ہونا اتنا پریشان کن نہیں ہے، بلکہ اس پریشانی کا سبب یہ ہے کہ وہ تیزی سے دوسرے افراد کو منتقل ہو جانے والا وائرس ہے۔ اور غالباً مسافر اسے پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔

ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ علامتیں ظاہر ہونے تک ہر اس شخص کو جس پر وائرس کا حملہ ہونے کا شبہ ہو، طبی نگرانی میں الگ تھلگ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وائرس کسی اور کو منتقل نہ ہو، اس کے لیے اسپتالوں میں بہت سے بستر اور عملہ درکار ہوتا ہے۔ چونکہ وائرس کی علامات کئی دیگر انفکشنز سے ملتی جلتی ہیں اور یہ عام نزلے زکام کی طرح پھیل جاتا ہے، اس لیے ہر مریض کو اسپتال میں زیر نگرانی رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حال ہی میں سنگاپور کے وزیر اعظم لی ہسین لونگ نے کہا تھا کہ اگر ہر مشتبہ مریض کو اسپتال میں الگ تھلگ رکھنے کی ضرورت ہے تو پھر ہمارے اسپتالوں میں جگہ کہاں رہے گی۔

ہانگ کانگ نے بھی کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ تین اور افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، لیکن یہ پتا نہیں چل سکا کہ انہیں یہ وائرس کہاں سے لگا۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیدورس ایڈہامن نے کہا ہے کہ اگرچہ ہمارے پاس کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی مہلت سکڑتی جا رہی ہے، لیکن ابھی بھی ہمارے پاس اس پر قابو پانے کا موقع موجود ہے۔ ایسا کرتے ہوئے ہمیں کسی بھی ناگہانی صورت حال کے مقابلے کی تیاری بھی جاری رکھنا ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG