رسائی کے لنکس

کرونا وائرس کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ سے وائٹ ہاؤس کا اظہار لاتعلقی


امریکی حکومت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جون تک کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو گنی ہو جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جڈ ڈئیر نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ وائٹ ہاؤس کی دستاویز نہیں ہے اور نہ ہی اس رپورٹ کو وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کے سامنے پیش کیا گیا۔

بقول ترجمان، اس میں جو ڈیٹا دیا گیا ہے وہ نہ تو ٹاسک فورس کے کسی ماڈل سے مطابقت رکھتا ہے، نہ ہی ٹاسک فورس نے اس کا تجزیہ کیا ہے۔

اس معاملے پر، وائٹ ہاوس کے ترجمان نے پیر کے روز متعدی بیماریوں کے انسداد اور کنٹرول کے سرکاری ادارے، سی ڈی سی سے بات کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی تھی کہ اس ماہ کے آخر تک کرونا کے نئے متاثرین کی تعداد تقرباً دو لاکھ روزانہ ہوگی جو کہ اس وقت پچیس ہزار ہے۔ یہ معلومات حکومت کے ایک ماڈل اور فیڈرل ایمرجینسی مینیجمنٹ ایجنسی کے چارٹ کو ملا کر حاصل کی گئی ہے، جسے پیر کے روز اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے شایع کیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ ''امریکی عوام کی صحت صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح ہے۔ ہم ریاستوں کی جانب سے پابندیوں کو نرم کی جانے والی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں''۔

حکومت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چار ہفتوں کے دوران امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار روزانہ تک پہنچ سکتی ہے، جو اس وقت ساڑھے سترہ سو کے قریب ہے۔

کرونا وائرس کا ایک اور ماڈل جو وائٹ ہاوس بھی استعمال کر رہا تھا، اس میں بھی اگست تک کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی اموات میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

سائنس دانوں اور محققین کا خیال ہے کہ اس پیش گوئی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں کو کھولنے کی وجہ سے سماجی دوری کی پالیسی پر عمل درآمد کم ہوتا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نےسات ہفتوں کے بعد گھروں میں بند رہنے کی ہدایت کو ختم کر دیا تھا، کیوں کہ اس کی وجہ سے ملک کی معاشی سرگرمیاں مفقود ہو گئی تھیں۔ بہت سی ریاستوں کے گورنروں نے مئی میں بعض کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

کیلی فورنیا کے گورنر نے پیر کے روز کہا تھا کہ جمعے کے روز سے ریاست میں چند کاروبار دوبارہ کھل گئے مگر ان سب نے حفاظتی پابندیوں کا خیال رکھا ہے اور اسی لیے یہاں کرونا وائرس کے پھیلنے کو روکنے کے سلسلے مین مناسب پیش رفت ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG