رسائی کے لنکس

جنگ گروپ سے وابستہ سینئر رپورٹر عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ دو دن سے نوے فیصد پاکستان میں جیونیوز موجود نہیں۔

پاکستان کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹیلی ویژن نیوز چینلوں میں سے ایک، جیونیوز کی نشریات مختلف شہروں میں کیبل پر بند کردی گئی ہے۔ یہ چینل بعض شہروں کے ڈیفنس اور کینٹ ایریاز میں پہلے ہی بند تھا۔ لیکن اب دوسرے علاقوں میں بھی اس کی نشریات نہیں دیکھی جارہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا یا وزارت اطلاعات نے جیونیوز کی بندش کے لیے کوئی ہدایات نہیں دیں۔ یہ چیزیں ٹھیک نہ ہوئیں تو انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

جنگ گروپ سے وابستہ سینئر رپورٹر عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ دو دن سے نوے فیصد پاکستان میں جیونیوز موجود نہیں۔ پیمرا کے عہدیداروں سے رابطہ کیا ہے لیکن وہ بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ پیمرا نے ہدایات نہیں دیں تو پھر وہ کون سا طاقتور ادارہ ہے جس نے چینل بند کروایا ہے؟

کیبل آپریٹرز ایسوی ایشن اس بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں۔ ایک عہدے دار نے نام نہ لیے جانے کی شرط پر وائس آف امریکا کو بتایا کہ صرف انھیں نہیں بلکہ کیبل آپریٹرز کی تمام تنظیموں پر جیونیوز بند کرنے کے لیے دباؤ ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں بتاسکتے کہ دباؤ کس کی جانب سے ہے کیونکہ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔

جنگ گروپ سے تعلق رکھنے والے طلعت حسین، حامد میر اور احمد نورانی کے علاوہ دوسرے میڈیا گروپس سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوں نے بھی جیونیوز کی بندش پر احتجاجی ٹوئیٹ کیے ہیں، جن میں مطیع اللہ جان، رضا رومی اور صحافیں کی تنظیم سیفما کے سیکریٹری جنرل امتیاز عالم شامل ہیں۔

امتیاز عالم نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جیونیوز کی نشریات روکنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ چینل کی انتظامیہ معاملات ٹھیک کرنے کے لیے مقتدر قوتوں سے مذاکرات کررہی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ بات چیت ناکام ہوگئی ہے۔ جیونیوز کے خلاف اگر ملک دشمنی کا کوئی کیس ہے تو عدالت میں لانا چاہیے تاکہ سب کو پتا چلے کہ کیا الزامات ہیں۔ اس طرح کی غیر علانیہ بندش آزادی اظہار پر حملہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG