رسائی کے لنکس

پاکستانی نژاد امریکی شہری مجاہد پرویز کو امریکہ کے حوالے کیوں کیا جا رہا ہے؟


فائل فوٹو

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے کرپشن کیس میں مطلوب پاکستانی نژاد امریکی شہری مجاہد پرویز کو امریکہ کو حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ مذکورہ شخص 2012 میں پاکستان آ گیا تھا۔

مجاہد پرویز جن کا پورا نام مجاہد پیٹر پرویز ہے کئی برسوں سے امریکہ ہی میں مقیم تھے لیکن مئی 2012 میں امریکی اسپیشل اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے ان کا انٹرویو کیا جس میں انہیں آگاہ کیا گیا کہ ان کے بارے میں کریمنل انوسٹی گیشن کی جا رہی ہیں جس کے بعد مجاہد پرویز 29 ستمبر 2012 کو پاکستان فرار ہو گئے۔

مجاہد پرویز پر الزام کیا ہے؟

امریکی حکام کی طرف سے دی جانے والی دستاویزات کے مطابق مجاہد پرویز پر ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے زائد رقم کے فراڈ اور غبن کا الزام ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق مجاہد پیٹر پرویز امریکہ میں فارمیسی کے کاروبار سے منسلک تھے۔ لیکن ان پر 1991 میں فراڈ کے الزامات لگے جس کے بعد امریکی محکمۂ صحت نے ان پر کسی بھی قسم کے فارمیسی کے کاروبار کی ملکیت اور انتظامی کردار ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی جس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کو فرنٹ مین کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یہی کاروبار کیا۔

امریکی حکام کے مطابق مجاہد پرویز اور ان کے بیٹے کے میڈیکل اسٹورز نے مبینہ طور پر جعلی بلز کے ذریعے 'میڈی کیڈ' سے لاکھوں ڈالرز وصول کیے جب کہ اس کے عوض مریضوں کو ادویات دی ہی نہیں گئی تھیں۔

'میڈی کیڈ' امریکی محکمۂ صحت کے تحت چلنے والا سرکاری پروگرام ہے جس کے تحت مستحق مریض ڈاکٹری نسخوں کی بنا پر میڈیکل اسٹورز سے مفت ادویات حاصل کر لیتے ہیں جب کہ حکومت میڈیکل اسٹورز کو ادائیگیاں کرتی ہے۔

مجاہد پرویز اور اُن کے بیٹے پر یہ الزام تھا کہ اُن کے میڈیکل اسٹورز ایسے مریضوں کو کچھ رقم دے کر یہ نسخے حاصل کر لیتے تھے اور ان کی بنا پر 'میڈی کیڈ' مجاہد پرویز اور اس کے بیٹے کے میڈیکل اسٹورز کو ادائیگیاں کرتا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق نیوریارک سٹی اور لانگ آئی لینڈ میں مجاہد پرویز کے بیٹے کے نام پر کم از کم 11 فارمیسیز موجود تھیں۔ ملزم مجاہد پرویز نے ان فارمیسیز کی ملکیت چھپائی اور اپنے بیٹے کا نام استعمال کیا۔

مجاہد پرویز نے اس فراڈ میں بظاہر ملوث دیگر ساتھیوں کے ذریعے ایچ آئی وی کے بعض مریضوں کے ساتھ مبینہ طور پر معاہدے کیے جس کے مطابق وہ اپنے نسخے نقد رقم کے بدلے ان میڈیکل اسٹورز پر دے جاتے تھے اور بعدازاں 'میڈی کیڈ' سے ان نسخوں کے بدلے مہنگی ایچ آئی وی کی ادویات کے پیسے وصول کیے جاتے تھے۔

مجاہد پرویز کے میڈیکل اسٹورز کی طرف سے ایسے سیکڑوں نسخے پیش کیے گئے جن میں سے بعض نسخوں پر میڈی کیڈ نے لاکھوں ڈالرز کی ادائیگی کی۔

اس کیس میں دورانِ تفتیش ہی ملزم پاکستان فرار ہو گیا اور اس کے بعد سے اسلام آباد میں ہی مقیم ہے۔ امریکی حکام نے اس کیس کی تحقیقات جاری رکھیں اور اس کے فرار کے نو ماہ بعد باقاعدہ کیس فائل کر دیا گیا۔

'میڈی کیڈ' فراڈ کنٹرول یونٹ نے اس معاملے کی تحقیقات کیں اور 25 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا جن میں سے آٹھ اس کے ساتھی تھے۔ لیکن انہوں نے فراڈ کنٹرول یونٹ سے مکمل تعاون کیا۔ اس بارے میں مکمل دستاویزی ثبوت بھی عدالت میں پیش کر دیے گئے۔

ملزم کے پاکستان فرار ہونے کے بعد 2013 میں عدالتی حکم پر انٹر پول کے ریڈ وارنٹ جاری ہوئے لیکن 2017 تک اس بارے میں کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔ البتہ ریڈ وارنٹس کی بنیاد پر پاکستانی حکام نے اکتوبر 2015 میں اسے گرفتار کر لیا۔

مجاہد پرویز کو امریکہ لانے کے لیے کوششیں

مجاہد پرویز کو امریکہ لانے کے لیے امریکہ اور پاکستان کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات رہیں۔ اس مقصد کے لیے امریکی ایف بی آئی، اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے، امریکی کسٹم اینڈ امیگریشن اور نیو یارک پولیس ڈپارٹمنٹ نے پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر کوششیں کیں۔

حکام کے مطابق ملزم نے ابتداً اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ اپنی امریکہ حوالگی کو چیلنج نہیں کرے گا جس کے بعد انہوں نے ٹکٹ خرید لیے اور اکتوبر 2017 میں امریکہ واپس آنے کا بتایا۔

اسلام آباد ایئر پورٹ پر امریکی ایف بی آئی ایجنٹ موجود تھے، پاکستانی حکام نے ملزم کو ایف بی آئی کے حوالے کرنا تھا لیکن آخری لمحات پر بتایا گیا کہ ملزم نے اپنی امریکی حوالگی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور وہاں سے امریکہ حوالگی پر حکم امتناع جاری کر دیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ملزم کے وکیل نے حکم امتناع کے بعد عدالت سے درخواست کی کہ ان کے موکل کو امریکہ منتقل کرنے کے لیے تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں لہٰذا ٹیلی فون پر جیل حکام کو آگاہ کیا جائے جس پر عدالت کی طرف سے جیل حکام کو ٹیلی فون پر ملزم کو امریکہ کے حوالے نہ کرنے کا حکم دیا گیا جب کہ بعد میں تحریری احکامات انہیں پہنچائے گئے۔

پاکستانی عدالتوں میں کیا ہوتا رہا؟

امریکہ کو مطلوب مجاہد پرویز اسلام آباد میں ہی مقیم ہیں لیکن اس وقت جیل سے باہر ہیں۔ وفاقی حکومت نے ان کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے۔ مجاہد پرویز کی عمر 71 برس سے زائد ہے اور طبی بنیادوں پر عدالت نے مختلف شرائط پر انہیں جیل سے باہر آنے کی اجازت دی تھی۔

مجاہد پرویز کی گرفتاری 2015 میں ہوئی جب امریکی حکام کی طرف سے ریڈ نوٹسز پاکستانی حکام کو ملے اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اس بارے میں انکوائری کرنے کے بعد حکم جاری کیا کہ جو شواہد پیش کیے گئے ہیں ان کے مطابق ملزم کا جرم ثابت ہوتا ہے جس کے بعد اسے اڈیالہ جیل راولپنڈی بھجوا دیا گیا۔

اڈیالہ جیل میں تقریباً ساڑھے چار برس سے زائد عرصے تک قید رہنے کے بعد مئی 2020 میں مجاہد پرویز کے وکیل قیصر امام نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی کہ امریکہ نے مجاہد پرویز کی حوالگی کی درخواست دے رکھی ہے۔ ان کے موکل کی عمر 70 برس سے زائد اور وہ دل کے مریض ہیں۔ لہٰذا کرونا کے دنوں میں ان کی حوالگی سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

مجاہد پرویز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے موکل کی امریکہ حوالگی کا معاملہ کابینہ میں زیرِ غور لایا جائے گا اور وہیں اس کا فیصلہ ہونا ہے۔ لہٰذا ان کی ضمانت منظور کی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے طبی بنیادوں پر پر ملزم کی ضمانت دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی لیکن ملزم کو پابند کیا گیا وہ عدالت کو آگاہ کیے بغیر اسلام آباد سے باہر نہیں جائے گا۔

ان عدالتی احکامات کے بعد ملزم اسلام آباد میں ہی موجود تھا اور اب وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد ان کی امریکہ حوالگی کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہو گئی ہے جس کے بعد امریکی حکام کسی بھی وقت انہیں امریکہ منتقل کر سکتے ہیں جہاں ادویات اسکینڈل میں امریکی عدالت میں ان کا کیس چلے گا۔

اس اسکینڈل میں ملوث ان کے بیٹے راحیل پرویز کے خلاف جرم ثابت ہونے پر 2014 میں تین سال قید کی سزا دی جا چکی ہے جو وہ مکمل کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG