رسائی کے لنکس

جرمنی کے نئے چانسلر اولاف شولز کون ہیں؟

حلف برداری کے بعد نو منتخب جرمن چانسلر اولاف شولز پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے
حلف برداری کے بعد نو منتخب جرمن چانسلر اولاف شولز پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے

جرمنی کی پارلیمنٹ نے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئےملک کا نیا سربراہ چن لیا ہے جس کے بعد اولاف شولز جنگ عظیم دوم کے بعد جرمنی کے نویں چانسلر بن گئے ہیں۔

بدھ کو جرمن پارلیمنٹ کے انتخاب میں اولاف شولز کو 395 ووٹ ملے۔ واضح رہے کہ جرمن پارلیمنٹ میں ملک کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، اس کی اتحادی گرین پارٹی اور لبرٹیرین لیفٹ پارٹی 736 میں سے 416 نشستیں رکھتی ہیں۔

جرمن پارلیمانی روایات کے مطابق، ووٹ کے ذریعے انتخاب کے بعد اولاف شولز کے چانسلر بننے کا صدر کی جانب سے باقاعدہ اعلان ہوا اور پھر اسپیکر اسمبلی نے ان سے چانسلر کے عہدے کا حلف لیا۔

جرمنی یورپی یونین میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ جرمنی کی سابق چانسلر اینگلا مرکل اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے سولہ سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے پر ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوا ہے۔

امریکہ کے ایک نشریاتی ادارے، این پی آر کے مطابق، 63 سالہ اولاف شولز طویل عرصے سے سیاست میں ہیں اور رکن پارلیمان ہونے کے ساتھ ساتھ ماضی میں اینگلا مرکل کی اتحادی حکومت میں وزیر مالیات اور وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔

ان کی اہلیہ بریٹا ارنسٹ بھی سیاستدان ہیں اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہی وابستہ ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، اولاف شولز اینگلا مرکل کی ہی طرح زیرک سیاستدان ہیں۔ پر سکون شخصیت کے مالک اور بحرانوں میں استقامت پسند رہنے کی اینگلا مرکل جیسی ہی خصوصیات ان کے انتخاب میں اہم ثابت ہوئی ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق، وہ شکست کو خاموشی سے تسلیم کرکے پھر سے کھڑے ہو کر جدوجہد کرنے والے رہنما ہیں۔ خواہ کچھ ہو جائے، وہ طیش میں نہیں آتے۔

گو کہ شولز حکومت بننے سے مرکل اور ان کی پارٹی کا اقتدار ختم ہوا ہے مگر ماہرین جرمنی کی سیاست اور پالیسیوں میں کسی حیرت انگیز تبدیلی کی توقع نہیں کر رہے ہیں۔ جرمنی میں حکومتیں استحکام اور اتفاق رائے کی نظریے پر بنتی ہیں۔ نئی حکومت نے جرمنی کو جدت پسندی کی طرف لے جانے کا عندیہ دیا ہے۔

جرمنی کو جدید طرز پر چلانا اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنا اولاف شولز کی حکومت کے ایجنڈے پر سر فہرست ہے، مگر ان کی نئی حکومت کے لئے پہلا اور سب سے بڑا چیلنج اس وقت کرونا وائرس سے نمٹنا ہے۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG