رسائی کے لنکس

logo-print

شام: باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں طبی امداد ندارد، عالمی ادارہ صحت کی فوری امداد کی اپیل


فائل

صحت کے عالمی ادارے نے اس ضرورت کی نشاندہی کی ہے کہ جنوبی شام میں 210،000 سے زائد افراد کو فوری طبی مدد کی ضرورت ہے، جہاں حالیہ دِنوں روسی حمایت یافتہ شامی حکومت کی افواج اور مخالف مسلح گروپوں کے درمیان شدید لڑائی جاری رہی ہے۔

اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارے جنوبی شام کے سرکاری کنٹرول والے علاقوں میں رہنے والے افراد کو طبی اور دیگر امداد فراہم کرتے ہیں۔ لیکن، شمال مغرب میں واقع درعا اور قنیطرہ کے صوبوں میں جن علاقوں کے کچھ حصے باغیوں کے زیر قبضہ ہیں، وہاں رسائی ممکن نہیں، جس کے باعث دو لاکھ سے زائد افراد کی صحت کے بارے میں تشویش لاحق ہے، جو لوگ لڑائی کے نتیجے میں بے دخل ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ترجمان، طارق جسارک نے بتایا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد کی زندگی کو خطرہ ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ادارے نے اِن علاقوں تک فوری اور بغیر کسی رکاوٹ کے رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ صحت سے وابستہ کارکنان کو فوری ضرورت والے علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے، تاکہ ضرورتمندوں کو درکار ادویات اور طبی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

بقول ترجمان، ''بے دخل ہونے والے افراد کی اکثریت کھلے میدان میں رہتی ہے جہاں درجہ حرارت 45 درجے سیلشئس ہے جب کہ صحرا میں دھول کی آندھیاں چلتی رہتی ہیں، صاف پانی دستیاب نہیں، نکاسی آب کا کوئی بندوبست نہیں اور صحت عامہ ناکافی ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے اندر کم از کم 15 شامی، جن میں 12 بچے، دو خواتین اور ایک عمر رسیدہ شخص شامل ہے، پانی کی کمی اور دستیاب پانی کے زہریلے اثرات کے باعث بیمار ہوکر چل بسے''۔

صحت کے عالمی ادارے کی اطلاع کے مطابق، درعا اور قنیطرہ کے تقریباً 75 اسپتالوں اور صحت مراکز بند پڑے ہیں یا پھر جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ زخمی ہونے والے افراد، جن میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں، اور ساتھ ہی حاملہ خواتین جنھیں ہنگامی طبی امداد کی ضرورت ہے، اُن کی صحت عامہ کی ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG