رسائی کے لنکس

اولیور کرام ویل کون تھا؟


اولیور کرامویل کا مجسمہ

جنرل پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے میں شامل ایک پیراگراف جمعرات کو پاکستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث کی وجہ بنا رہا۔ اس پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ جنرل مشرف اگر سزائے موت سے پہلے انتقال کرجائیں تو ان کی میت کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں تین دن کے لیے لٹکادیا جائے۔

اس فیصلے پر تبصرے کرنے والے لوگ انگلینڈ کے فوجی اور سیاسی رہنما اولیور کرامویل کا تذکرہ کررہے ہیں جن کے انتقال کے ڈھائی سال ان کی قبر کھود کر لاش نکالی گئی اور اسے سر عام لٹکایا گیا۔

اولیور کرام ویل بادشاہ چارلس اول کے دور میں پہلی بار پارلیمنٹ کے رکن بنے تھے۔ چارلس اول اور پارلیمان کے درمیان اقتدار پر تنازع تھا۔ پارلیمان کا تقاضا تھا کہ ملک میں آئینی بادشاہت ہونی چاہیے اور بادشاہ کا کردار گھٹنا چاہیے۔ اس تنازعے پر خانہ جنگی ہوئی اور پارلیمان کی فوج نے شاہی فوج کو شکست دے دی۔ چارلس اول کو سنگین غداری کا مجرم قرار دے کر سر قلم کردیا گیا۔

بادشاہ کے حامی آئرلینڈ میں جمع ہونا شروع ہوئے تو کرامویل نے وہاں فوجی کارروائی کی اور کامیابی حاصل کرکے قبضہ کرلیا۔ خانہ جنگی اور آئرلینڈ کی مہم نے ان کے حامیوں اور دشمنوں میں بہت اضافہ کیا۔

کرامویل نے آٹھ جنگوں میں حصہ لیا اور تین میں فوجی جرنیل کی حیثیت سے لوہا منوایا۔ چارلس اول کے قتل کے بعد ملک کو جمہوریہ قرار دیا گیا۔ 1653 میں کرامویل کا اقتدار شروع ہوا جنھیں نئے آئین کے تحت لارڈ پروٹیکٹر یعنی محاظ اعلیٰ قرار دیا گیا۔

کرامویل کی شخصیت ان کے دور میں بھی متنازع رہی اور تاریخ میں بھی۔ ان کے چاہنے والے ان سے بہت محبت کرتے تھے اور دشمن شدید نفرت۔ چاہنے والوں نے انھیں بادشاہ بنانے کی پیشکش کی لیکن کرامویل نے تاج قبول نہیں کیا۔ انھوں نے معاشرے میں مذہبی برداشت اور بہتر نظم و نسق کے لیے حقیقی کوششیں کیں جنھیں آج بھی سراہا جاتا ہے۔ دوسری طرف چارلس اول کی موت میں ان کے کردار کی وجہ سے شاہ پرست سخت خفا تھے۔ فوج پر کرامویل کے اثر کی وجہ سے متعدد پارلیمنٹیرینز بھی ان سے ناخوش تھے۔

اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد کرامویل ملیریا اور گردے میں پتھری کی وجہ سے بیمار ہوکر انتقال کرگئے۔ ویسٹ منسٹر ایبے میں مکمل اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ہوئیں۔ اس وقت حال یہ تھا کہ کرامویل کے قد کا کوئی رہنما موجود نہیں تھا جو اقتدار پر گرفت رکھ سکتا۔ چارلس اول کے وفادار لوگوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور ڈھائی سال کی جدوجہد کے بعد بادشاہت بحال کرکے ان کے بیٹے چارلس دوم کو تخت پر بٹھادیا۔

چارلس اول کی 12ویں برسی پر شاہی افواج نے کرامویل کی قبر کھود کر لاش نکالی اور اسے سر عام پھانسی پر لٹکایا۔ بعد میں سر کاٹ کر لاش کو ایک گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ کٹا ہوا سر 25 سال تک ویسٹ منسٹر ہال کے باہر ایک کھمبے پر لٹکا رہا۔ بعد میں یہ سر کئی لوگوں کے قبضے میں رہا اور اس کی نیلامی بھی ہوئی۔ تین سو سال بعد کرام ویل کے سر کو 1960 میں کیمبرج میں دفن کیا گیا۔

اب اولیور کرامویل کا برطانیہ میں بہت احترام کیا جاتا ہے اور برطانوی پارلیمان کے باہر ان کا مجسمہ نصب ہے۔ انھیں برطانیہ کی تاریخ کے دس اہم ترین رہنماؤں میں شامل کیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG