رسائی کے لنکس

logo-print

لارڈز میں جیت اہم کیوں؟


محمد عباس انگلینڈ کے کھلاڑی سٹوئرٹ براڈ کو آؤٹ کر کے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم جب انگلیڈ کے دورے پر جا رہی تھی تو 12 کھلاڑی ایسے تھے جنہوں نے انگلینڈ میں ایک ٹیسٹ میچ بھی نہیں کھیل رکھا تھا۔ ٹیم سپرٹ پر بھروسہ تو تھا لیکن زیادہ توقعات نہیں تھیں۔ انگلینڈ میں جہاں آسٹریلیا سمیت دنیا کی بڑی بڑی ٹیمیں سیریز کے ابتدائی دنوں میں بالخصوص ڈگمگاتی نظر آتی ہیں اور پاکستان کی ٹیم عام طور پر سٹار کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود وہاں مشکلات کا شکار رہتی ہے، سرفراز الیون نے انگلینڈ کو 9 وکٹوں کی واضح برتری سے شکست دے دی ہے۔ سرفراز احمد لارڈز میں فتح حاصل کرنے والے پاکستان کے پانچویں کپتان بن گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ اعزاز عمران خان، جاوید میانداد ،وسیم اکرم اور مصباح الحق حاصل کر چکے ہیں۔ سیریز کے اس پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی ٹیم سوائے دوسری اننگ میں ساتویں وکٹ پر 120 رنز کی شراکت کے، کہیں کسی لمحے پاکستان کا مقابلہ کرتی نظر نہیں آئی۔ ورلڈ رینکنگ میں پانچویں نمبر کی ٹیم پاکستان نے نمبر ون انگلینڈ کو کھیل کے ہر شعبے میں ماہرین کے بقول آؤٹ کلاس کر دیا۔

پاکستان کے سابق کپتان وسیم باری وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں،

’’ انگلش کپتان جو روٹ نے میرے خیال میں بہت ایماندارانہ رائے دی ہے کہ پاکستان کی ٹیم نے ہر شعبے میں آؤٹ شائن کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے نوجوانوں کھلاڑیوں نے لارڈز میں ثابت کیا ہے کہ وہ زیادہ تجربہ بھلے نہیں رکھتے مگر ان کے اندر پروفیشنلزم اور سپرٹ کی کمی نہیں‘‘

محسن حسن خان جو سابق ٹیسٹ اوپنر ہیں اورجن کے کیرئرپر لارڈز میں ہی ڈبل سنچری کا سہرا سجا ہے، وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہتے ہیں کہ پاکستان میں نوجوان ٹیلنٹ پر کسی کو شبہ نہیں ہے۔ عباس، حسن، عامر، شاداب، بابر، فہیم حارث سب نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ اسد شفیق، سرفراز اور اظہرعلی بھلے تجربہ کار ہیں لیکن انہیں بھی کچھ زیادہ وقت نہیں ہوا۔ اس لحاظ سے یہ شاندار فتح ہے۔

وسیم باری کے بقول ’’ لگتا تھا لارڈز پر میزبان ٹیم پاکستان کی ہے، انگلینڈ کی نہیں‘‘۔

پاکستان میں جیت کی خوشی اپنی جگہ، لارڈ میں فتح پر خاص طور پر ٹیم کو سراہا جا رہا ہے۔ آخر لارڈ میں فتح اس قدر اہم کیوں ہوتی ہے؟ لارڈز کے میدان میں 13 اگست 1982 کو ڈبل سنچری سکور کرنے والے محسن حسن خان کہتے ہیں

’’ لارڈز کو کرکٹ کا مکہ کہا جاتا ہے۔ یہاں اچھی پرفارمنس کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ میں نے اگرچہ آسٹریلیا میں دو سنچریاں مشکل وقت میں اسکور کر رکھی ہیں لیکن ماہرین لارڈزپرمیری اننگ کو میرے کیرئر کی بہترین اننگ گردانتے ہیں۔ سو لارڈز میں پرفارم کرنا ہمیشہ یاد رہ جاتا ہے اور یہ گراؤنڈ ایک اعتبار سے کرکٹ کو جنم دینے والے گراؤنڈ کی اہمیت رکھتا ہے‘‘

محسن حسن خان کے بقول،لارڈز پراور مجموعی طور پر انگلینڈ میں کرکٹ ایک حسن کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں میچ دیکھنے کے لیے آنے والے 90 فیصد شائقین کھیل کی باریکیوں اور اس کی نفاست کو سمجھتے ہیں۔ وہ یقیناً اپنی ٹیم کو ہارتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ لیکن مخالف ٹیم کو ہر اچھی شارٹ پر کھل کر داد دیتے ہیں۔

پاکستان کے سابق کپتان وسیم باری وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں،

’’ لارڈز کی ایک تاریخ ہے۔ یہاں ہونے والی پرفارمنس باقی میدانوں سے بہتر سمجھی جاتی ہے۔ اچھا کھیلنے والے بالر یا بلے باز کا نام رول آف آنر میں نام لکھا جاتا ہے اور یہ نام کرکٹ گراؤنڈ کے پویلین میں لکھا جاتا ہے۔ کرکٹ کے مکہ سمجھے جانے والے لارڈز میں فتح پر پوری ٹیم پوری قوم کو مبارکباد ملنی چاہیے‘‘

محسن حسن خان اور وسیم باری، دونوں سابق کھلاڑی پاکستان کی نوجوان ٹیم کو سراہتے ہیں۔ مین آف دا میچ محمد عباس کو بہترین ٹیلنٹ قرار دیتے ہیں

وسیم باری کے مطابق محمد عباس کا میکگرا یا محمد آصف سے موازنہ درست ہے۔ بالخصوص وہ محمد آصف کی طرح لائن اور لینتھ کا خیال رکھتا ہے۔

محسن کہتے ہیں کہ محمد عباس کوئی شک نہیں کہ میکگرا اور آصف کی طرح ایک خاص لائن اور لینتھ پر تسلسل سے گیند کراتے ہیں۔ ان کے بقول محمد عباس جیسا باولر انگلش کنڈشن میں بہت خطرناک ہوتا ہے۔

’’سونگ کو تو بلے باز کھیل لیتے ہیں، لیکن سیم کا سامنا کرنا بہت مشکل لگتا ہے اور عباس کے پاس سونگ اور سیم دونوں ہیں‘‘

سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ لارڈز کی فتح سے حاصل ہونے والی برتری کو سیریز کی فتح میں تبدیل کرنے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ آئندہ میچ لیڈز میں ہو گا جہاں ایشیائی بلے بازوں کو خاص طور پر مشکل ہوتی ہے۔ یہاں کنڈیشنز مختلف ہوں گی اور گیند زیادہ سونگ اور سیم کرے گا۔

وسیم باری اور محسن حسن خان کی رائے سننے کیلئے اس لنگ پر جائیں:

please wait

No media source currently available

0:00 0:05:06 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG