رسائی کے لنکس

کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات، کیا کالعدم تحریکِ لبیک کو الیکشن لڑنے کی اجازت تھی؟


فائل فوٹو

پاکستان بھر میں قائم فوجی چھاؤنیوں میں ہونے والے انتخابات میں حکمراں جماعت نے مجموعی طور پر برتری حاصل کی ہے جب کہ بعض شہروں کے کنٹونمنٹ بورڈز میں اپوزیشن جماعتوں نے میدان مار لیا ہے۔

ملک کے 41 کنٹونمنٹ بورڈز کے 212 وارڈز میں 1560 اُمیدوار مدِمقابل تھے جن کے لیے پولنگ اتوار کو ہوئی۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ملک بھر میں63، مسلم لیگ (ن) کے 52، پاکستان پیپلزپارٹی کے 18، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 10، جماعتِ اسلامی کے سات، بلوچستان عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے دو، دو امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں تحریکِ لبیک پاکستان نے بھی بطور جماعت حصہ لیا اور ملک بھر کنٹونمنٹ بورڈز میں اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ جس کے بعد ملک کے سیاسی اور ساجی حلقوں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا کوئی کالعدم جماعت انتخابات اور خاص طور پر کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے بقول کابینہ سے تحریکِ لبیک کو کالعدم قرار دینے کی منظوری کے باوجود فی الحال بطور جماعت اسے ختم کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوا۔ لہذٰا اب بھی قانونی طور پر اسے الیکشن لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

پاکستان میں جمہوریت، گورننس اور پبلک پالیسی پر تحقیق کرنے والے غیر سرکاری ادارے پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ تاحال تحریکِ لبیک پاکستان کو حکومتِ پاکستان نے مکمل طور پر کالعدم قرار نہیں دیا۔ ایسی صورت میں اُسے کالعدم جماعت نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں ٹی ایل پی کی پابندی کے خلاف اپیلوں کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے 'پلڈاٹ' کے صدر کا کہنا تھا کہ 'ٹی ایل پی' کے کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں حصہ لینا ایک دلچسپ سی بات لگتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے تحت منتخب ہونے والے ارکان کے اختیارت بہت محدود ہوتے ہیں جن کا کنٹونمنٹ بورڈ کے کاموں میں کوئی خاص عمل یا کردار نہیں ہوتا۔

اُن کے بقول “کسی بھی فوجی چھاؤنی کا اسٹیشن کمانڈر کنٹونمنٹ بورڈ کا چیئرمین ہوتا ہے۔ اُن کے پاس اختیارات ہوتے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن کے تحت انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان کے پاس زیادہ اختیارات نہیں ہوتے یہ بس علامتی بندوبست ہے۔"

احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومت اور غالباً اسٹیبلشمنٹ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسی تمام تنظیموں کو اپنی اصلاح کے بعد قومی دھارے میں شامل کیا جائے تاکہ وہ ریاست کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

اُنہوں نے 2018 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت ملی مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ایسی صورت میں کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں۔ جن میں مقبول جماعتوں کا ووٹ بینک متاثر ہوتا ہے۔ وہ کچھ کمزور ہو جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ ملی مسلم لیگ کالعدم تنظیم جماعت الدعوة کی سیاسی جماعت ہے جس کے سربراہ حافظ محمد سعید ہیں۔

پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کرنے والے غیر سرکاری ادارے 'فافن' کے ڈائریکٹر پروگرام مدثر رضوی کہتے ہیں کہ ٹی ایل پی صرف ذرائع ابلاغ کی حد تک ہی کالعدم ہے جب کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا ایک پورا طریقۂ کار آئین میں موجود ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ٹی ایل پی ابھی تک بدستور ایک سیاسی جماعت درج ہے اور اُن کا انتخابی نشان بھی موجود ہے۔ وہ انتخابات بھی لڑ سکتی ہے اور اُس کو انتخابی نشان بھی مل سکتا ہے۔

اُن کے بقول اِس بات پر حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ تاحال اُنہوں نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کے لیے وضع کردہ طریقہ کیوں نہیں اپنایا۔

صوبائی وزیر پنجاب برائے جیل خانہ جات اور ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں کہ کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان اپنے نام اور الیکشن کمیشن کی جانب سے الاٹ کیے گئے انتخابی نشان کے تحت کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ ایسی صورت میں اُنہیں نہیں روکا جا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیلٹ پیپر میں اُن کا نام تحریک لبیک پاکستان اور انتخابی نشان کرین لکھا اور چھپا ہوا ہے تو فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی غلطی ہے۔

ٹی ایل پی نے 2018 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔
ٹی ایل پی نے 2018 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔

ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے۔ وہ کسی صوبائی حکومت یا وفاقی حکومت کے ماتحت کام نہیں کرتا۔

سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا طریقہ کیا ہے؟

احمد بلال محبوب کے مطابق پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ہے جس کے ذریعے وفاقی کابینہ نے تحریکِ لبیک کو کالعدم جماعت قرار دینے کی منظوری دی۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کسی جماعت کو آئین کے تحت کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ اُس کے تحت وفاقی حکومت ایک اعلان کر کے دستاویزات عدالتِ عظمٰی کو بھیجتی ہے۔ جس کے بعد عدالتِ عظمٰی اُس جماعت کا کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔

پِلڈاٹ کے صدر کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے پاکستان کی حکومت نے آئینی طریقیہ اختیار نہیں کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ٹی ایل پی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا تھا۔ جس پر بھی تاحال اپیلوں کے فیصلے آنے باقی ہیں۔ اُن کے مطابق اِس طریقۂ کار میں پہلے اپیل حکومت کے پاس ہوتی ہے، پھر عدالت میں جاتی ہے۔ ابھی تک یہ سلسلہ چل رہا ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ جب تک ٹی ایل پی یا کوئی بھی کالعدم جماعت کی اپیلوں کے حتمی فیصلے نہیں ہو جاتے وہ کسی بھی الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے۔

احمد بلال محبوب کے بقول انسدادِ دہشت گردی کے طریقے کے علاوہ کسی بھی جماعت کو جب وفاقی حکومت کالعدم قرار دیتی ہے تو وہ کالعدم ہو جاتی ہے۔ اِس صورت میں متاثرہ جماعت وفاقی حکومت سے اپیل کرتی ہے۔ اپیل منسوخ ہونے کی صورت میں فیصلہ عدالت میں جاتا ہے۔ جس کے بعد عدالتِ عظمٰی اُس کی تصدیق کرتی ہے یا حکومتی فیصلے کو ختم کر دیتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ چونکہ ابھی تک دونوں مراحل مکمل نہیں ہوئے۔ اِسی لیے ٹی ایل پی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن کتنے اہم؟

'فافن' کے ڈائریکٹر پروگرام مدثر رضوی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بلدیاتی انتخابات بھی نہیں ہوئے، لہذٰا اس تناظر میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات ایک طرح سے سیاسی ماحول گرم کرنے اور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی جانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔

مدثر رضوی کی رائے میں کنٹونمںٹ بورڈ کے انتخابات ایک طرح کے پہلے بلدیاتی انتخابات ہیں جس کی وجہ سے گہما گہمی نظر آ رہی ہے۔ دوسرا 2023 میں ہونے والے عام اتنخابات میں دو سال کا وقت رہ گیا ہے۔

کنٹونمںٹ بورڈز کے غیر حتمی نتائج

پاکستان کے صوبہ سندھ میں کنٹونمنٹ بورڈ کے 53 وارڈز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے 14، 14، متحدہ قومی موومنٹ 10، آزاد امیدوار پانچ، جماعتِ اسلامی پانچ اور مسلم لیگ (ن) کے تین وارڈز میں امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

اسی طرح غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے 18، آزاد اُمیدواروں نے نو، مسلم لیگ (ن) نے پانچ، پیپلز پارٹی نے تین اور عوامی نیشنل پارٹی کو دو وارڈز میں کامیابی ملی ہے۔

صوبۂ بلوچستان میں کنٹونمنٹ بورڈ کے نو وارڈز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار چار، پی ٹی آئی تین جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی دو وارڈز میں کامیاب ہوئی ہے۔

اِس طرح غیر سرکاری نتائج کے مطابق صوبہ پنجاب کے کنٹونمنٹ بورڈز میں مسلم لیگ (ن) 51، آزاد امیدوار 32، پی ٹی آئی 28 اور جماعتِ اسلامی دو وارڈز میں کامیاب ہوئی ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی صوبۂ پنجاب میں ایک بھی وارڈ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG