رسائی کے لنکس

خدیجہ صدیقی کیس: ملزم شاہ حسین سزا پوری کیے بغیر کیسے رہا ہو گیا؟


خدیجہ صدیقی (فائل فوٹو)

لاہور میں طالبہ پر خنجر کے کئی وار کر کے زخمی کرنے والے طالبِ علم شاہ حسین کو چند روز پہلے سزا مکمل ہونے سے قبل ہی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں نظامِ انصاف اور خواتین کے خلاف تشدد کرنے والے عناصر کی جلد رہائی پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نور مقدم نامی لڑکی کے بہیمانہ قتل پر سماجی اور عوامی حلقوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایسے میں شاہ حسین کی سزا پوری ہونے سے قبل رہائی پر بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں نالاں ہیں۔

خدیجہ صدیقی پر خنجر کے وار کرنے والے شاہ حسین کو عدالت نے 2017 میں سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم شاہ حسین کے والدین کی اپیل پر یہ سزا کم کر کے پانچ برس کر دی گئی تھی۔

البتہ شاہ حسین کو ساڑھے تین برس بعد ہی رہا کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق مجرم شاہ حسین کو جیل میں اچھے برتاؤ اور پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھنے پر سزا میں رعایت دی گئی۔

پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ شاہ حسین کو قبل از وقت رہائی قانون کے مطابق دی گئی۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ شاہ حسین کی چار تیکنیکی بنیادوں پر سزا کم کی گئی اور سلسلے میں سپریڈینٹ سینٹرل جیل لاہور کی جانب سے ایک مراسلہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق مجرم کو مختلف مشقتیں کرنے، بی اے کرنے، خون دینے اور اچھے چال چلن کی بنیاد پر سزا میں کمی (ریمیشنز) دی گئیں ہیں جن کی بنیاد پر مجرم شاہ حسین کی سزا میں تقریباً 17 ماہ کی کمی کی گئی ہے۔ فیاض الحسن چوہان کے مطابق یہ تمام ریمیشنز آئینِ پاکستان اور قوانین کے مطابق ہیں۔

شاہ حسین نے تین مئی 2016 کو دن دیہاڑے خدیجہ صدیقی نامی طالبہ پر خنجر کے پے در پے وار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق خدیجہ اپنی چھوٹی بہن کو لاہور کے علاقے شملہ پہاڑی کے قریب اسکول سے لینے گئی تھیں جہاں شاہ حسین نے اُن پر چھریوں سے وار کیے۔

متاثرہ خاتون خدیجہ صدیقی سمجھتی ہیں کہ ریاستی قوانین میں سقم موجود ہیں جس کے باعث ایک مجرم کو سزا پوری ہونے سے قبل ہی رہا کر دیا گیا ہے۔

اُن کے مطابق وہ مجرم کی رہائی پر خاصی محتاط ہیں کیوں کہ اُن کے پاس اب کوئی بھی قانونی پلیٹ فارم نہیں بچا جہاں وہ اپنا کیس پیش کر سکیں۔

خدیجہ صدیقی کہتی ہیں کہ وہ اب خوف زدہ ہیں کہ کہیں اُن کے منہ سے کوئی ایسے الفاظ نہ نکل جائیں جس سے مجرم دوبارہ طیش میں آ کر اُنہیں نقصان پہنچائے کیوں کہ اب وہ آزاد ہو چکا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے خدیجہ صدیقی نے کہا کہ اُنہوں نے اپنا یہ کیس جنگ کی طرح لڑا جو چار برس تک چلتا رہا۔

اُن کے بقول اُنہوں نے اِس کیس میں سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور عدلیہ کے ذریعے انصاف مانگا جس میں وہ کامیاب رہیں۔

کیس سے متعلق بات کرتے ہوئے خدیجہ صدیقی نے کہا کہ اُن کا کیس میڈیا میں زیرِ بحث رہا اور اعلٰی عدلیہ نے اس کا نوٹس لیا۔ ورنہ پاکستان میں اثرو رسوخ رکھنے والے افراد با آسانی سزا سے بچ نکلتے ہیں۔

اُن کے بقول اُن پر حملہ کرنے والے مجرم شاہ حسین کی قانونی ٹیم نے ماتحت عدالتوں سے لے کر اعلٰی عدلیہ تک اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی۔

خدیجہ صدیقی بتاتی ہیں کہ دورانِ کیس مختلف وکلا تنظیمیں، سول سوسائٹی کے ارکان اور خاص طور پر نوجوان وکلا اُن کے ساتھ رہے۔

خدیجہ صدیقی نے مزید کہا کہ شاہ حسین ایک سزا یافتہ مجرم ہے اور پاکستانی قوانین کے مطابق ایک سزا یافتہ شخص کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل ہوتا ہے۔

اُن کی رائے میں پاکستانی قوانین میں بہت سے سقم موجود ہیں جس کا فائدہ غریب لوگ نہیں اٹھا سکتے، لیکن امیر اور اثرو رسوخ رکھنے والے افراد ایسی چیزوں کا فائدہ ضرور اٹھاتے ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر کوئی بھی کیس 10 سے 15 برس یا اِس سے بھی زیادہ عرصے تک چلتا رہتا ہے۔ لیکن اُن کا کیس چار برس میں ختم ہو گیا۔ خدیجہ صدیقی کے مطابق اُن کے کیس میں دوسرے فریق کو وکیل کا بیٹا ہونے کا پورا فائدہ دیا گیا اور ماتحت عدالت سے لے کر اعلٰی عدلیہ تک ملزم کی اپیلوں پر تیزی سے سماعت ہوتی رہی۔

خدیجہ صدیقی بتاتی ہیں کہ دورانِ کیس اُن کا کیس لاہور کی ماتحت عدالت میں دو ماہ تک زیرِ سماعت رہا۔ جس دوران شہادتیں بھی پیش کی گئیں اور گواہوں کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے۔

شاہ حسین کے والد تنویر ہاشمی جو خود بھی ایک وکیل ہیں سمجھتے ہیں کہ اُن کے بیٹے کو غیر قانونی طور پر سزا دی گئی ہے۔ اُن کا بیٹا معصوم ہے جس کے خلاف کوئی شہادت موجود نہیں تھی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے تنویر ہاشمی نے کہا کہ عدالتِ عالیہ لاہور نے شاہ حسین کو بری کر دیا تھا کیوں کہ اُس کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ شاہ حسین بے گناہ ہے جس کے خلاف کوئی شہادت نہیں ہے۔

تنویر ہاشمی کے مطابق خدیجہ صدیقی کا سارا کیس سوشل میڈیا پر ہے۔ جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شاہ حسین کے والد تنویر ہاشمی کے مطابق دورانِ قید اُن کے بیٹے کا برتاؤ بہت اچھا تھا۔

اُن کے بقول “تین وجوہات کی بنیاد پر شاہ حسین کی سزا میں کمی کی گئی ہے۔ خون کا عطیہ دینے پر، دورانِ قید اپنی تعلیم اور ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے پر قانون کے مطابق اُس کی سزا کم کی گئی۔"

تنویر ہاشمی بتاتے ہیں کہ خدیجہ صدیقی نے اُن کے بیٹے کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کیے۔ جس سے اُس کی شہرت کا نقصان پہنچا۔ وہ مستقبل میں خدیجہ صدیقی کے خلاف ہتکِ عزت کا دعوٰی دائر کر سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایسے کیسوں سے ایک بات بہت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ پاکستان میں قوانین اور سزاؤں کے بارے میں اصلاحات ضروری ہیں۔

ماہرِ قانون اور پاکستان میں انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن حنا جیلانی سمجھتی ہیں کہ جب خواتین کے خلاف کیسوں میں جب مجرمان کو یوں چھوڑ دیا جائے گا تو اُن پر قانون کی گرفت مضبوط نہیں ہو گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حنا جیلانی نے کہا کہ جب ایسے افراد کھلے عام خواتین کے خلاف تشدد کرتے ہیں تو ایسے اقدامات سے اُن کے ہاتھ نہیں رکیں گے۔

بطور ماہرِ قانون حنا جیلانی سمجھتی ہیں کہ حالیہ کیسز کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بہت ضروری ہے کہ انصاف کے نظام میں اصلاحات کی بات کی جائے۔

حنا جیلانی نے مزید کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پھانسی کی سزا ہی کسی بھی مسئلے کا حل ہے تو وہ غلط ہے۔ اِس کے مقابلے میں کسی بھی جرم کے لیے لمبی سزائیں دینے کا رحجان زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے جس سے ایسے اقدامات کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG