رسائی کے لنکس

logo-print

مکی آرتھر کو غصے پر قابو پانا سیکھنے کی ضرورت ہے؟


فائل: پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر

کوچ آرتھر اس سے قبل 2005 سے 2010 تک جنوبی افریقہ اور 23 جون 2013 کو اپنی برطرفی تک آسٹریلوی ٹیم کی کوچنگ کے دوران بھی ایسی صورتحال پیدا کر چکے ہیں۔

سینچورین ٹیسٹ میں پاکستانی بیٹسمینوں کی خراب کارکردگی کے بعد کوچ مکی آرتھر کا غصے سے بے قابو ہو کر میچ کے دوران ہی ڈریسنگ روم میں کپتان سمیت دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ جھڑپ کا واقعہ کرکٹ حلقوں میں تاحال موضوع بحث ہے۔

سوشل میڈیا ہو یا کوئی اور تقریب بیشتر لوگ اس سوال پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں کہ آخر مکی آرتھر کو اتنا زیادہ غصہ کیوں آیا؟ بیٹسمینوں کی مسلسل ناکامی اور جیتا ہوا میچ ہاتھ سے نکل جانے پر وہ اس کیفیت سے دوچار ہوئے؟ یا واقعی وہ غصے کے تیز ہیں؟ کیونکہ ماضی میں بھی وہ ایسے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔سینچورین ٹیسٹ میں بیٹسمینوں کی غیرذمہ دارانہ بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چائے کے وقفے پر پاکستان کا اسکور100رنز تھا اور اس کا صرف ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا لیکن اگلے 90رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی تھی۔اس پر جب دوسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو کوچ مکی آرتھر سخت غصے میں آگئے۔

چائے کے وقفے کے بعد کوچ کے رویے سے ٹیم کا مورال ڈاؤن ہوا یا کچھ اور بات تھی کہ پاکستان ٹیم کو اگلے روز یعنی میچ کے تیسرے ہی دن شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے پیر کو سامنے آنے والے بیان سے بھی ڈریسنگ روم میں ہونے والے واقعے کی ناصرف تصدیق ہوتی ہے بلکہ انہوں نے کچھ کھلاڑیوں کے لئے اسے خطرہ بھی قرار دیا ہے۔

اینڈی فلاور کا کہنا ہے ’میچ میں شکست کسی کو پسند نہیں ہوتی، شکست کے بعد ڈریسنگ روم کا ماحول بھی اچھا نہیں ہوتا لیکن پاکستان ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول پہلے کی طرح نہیں ہے۔ میں سلیکشن کے معاملات میں شامل تو نہیں لیکن بہت سے کھلاڑیوں کے لیے خطرہ دکھائی دے رہا ہے ۔‘

اب اطلاعات ہیں کہ چیئرمین احسان مانی نے مکی آرتھر اور سرفراز احمد کے درمیان گلے شکوے دور کرا دیے ہیں، ٹیم دوبارہ شیر و شکر ہوگئی ہے اور دوسرے ٹیسٹ میں اچھی پرفارمنس کے لئے ’پرعزم‘ ہے۔

کوچ آرتھر اس سے قبل 2005 سے 2010 تک جنوبی افریقہ اور 23 جون 2013ء کو اپنی برطرفی تک آسٹریلوی ٹیم کی کوچنگ کے دوران بھی ایسی صورتحال پیدا کر چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا مکی آرتھر کو (اینگر منیجمنٹ) یعنی غصے پر قابو پانا سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان کا غصے پر سے مسلسل ختم ہوا کنٹرول کئی بار سکرین پر بھی نظر آچکا ہے۔ آرتھر کے غصے کی ایک تازہ مثال ٹی وی امپائر جوئیل ولسن پر ان کا ’بے حد‘ بھی ہے۔ سنچورین ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ڈین ایلجر کے کیچ پر تھرڈ امپائر جوئیل ولسن نے کئی بار ری پلے دیکھنے کے بعد فیصلہ بیٹسمین کے حق میں دیا جس پر مکی آرتھر سے نہ رہا گیا اور وہ احتجاج کرنے جوئیل ولسن کے کمرے میں پہنچ گئے اور وہاں جا کر شور مچانا شروع کر دیا۔

آئی سی سی نے آرتھر کے اس اقدام کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں وارننگ دی اور ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی دے دیا گیا۔ میچ کے بعد ہیڈ کوچ نے میچ ریفری ڈیوڈ بون کے سامنے پیش ہو کر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا جس سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔

وقار یونس سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ مکی آرتھر کی تلخ کلامی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں تو ان کہنا تھا ’ یہ کھلاڑیوں کے لئے استاد کی ڈانٹ ہے۔‘ سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں وقار یونس کا کہنا تھا’ آرتھر اگر کھلاڑیوں پر چلائے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں، وہ ہیڈ کوچ اور استاد ہیں، ٹیم کو غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG