رسائی کے لنکس

بلوچستان: کوہلو کی 15 فی صد آبادی یرقان کا شکار، پانچ اضلاع ہائی رسک قرار


پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کوہلو کی کل آبادی کے 15 فی صد حصے کے یرقان میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد حکام نے صوبے کے پانچ اضلاع کو ہائی رسک قرار دے دیا ہے۔

محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کے پانچ اضلاع کوہلو، ژوب، نصیر آباد، جعفرآباد اور صحبت پور کو ہیپاٹائٹس کے حوالے سے ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔

ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی صوبائی سربراہ کے مطابق اس وقت بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کے مثبت رجسٹرڈ مریضوں کی کل تعداد 15 ہزار سے زائد ہے۔ جب کہ صوبے کی تمام جیلوں میں بھی قیدیوں کی بڑی تعداد یرقان کے مرض کا شکار ہے۔

ہیپاٹائٹس جگر کی ایک ایسی بیماری ہے جس کی مختلف اقسام اے، بی، سی، ڈی اور ای جگر کی سوزش کا باعث بنتی ہیں۔ یہ مرض پینے کے صاف پانی، غیر محفوظ جنسی تعلقات، استعمال شدہ سرنجز اور بلیڈز کے دوبارہ استعمال سمیت دیگر وجوہات کے باعث پھیلتا ہے۔

بلوچستان کے ضلع کوہلو سے تعلق رکھنے والے یرقان کے ایک مریض 40 سالہ ارباب مری کو یرقان کا مرض 2016 میں لاحق ہوا تھا۔

ارباب مری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب 2016 میں ان کی طبیعت اچانک خراب ہوئی جس کے بعد خون کی الٹیاں آئیں مجھے تشویش ناک حالت میں ملتان لے جایا گیا جہاں سے میں چھ ماہ تک ہیپاٹائٹس بی کا کورس کیا جس سے میں ٹھیک ہو گیا۔

جگر کی بیماری عام لیکن علاج مہنگا
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:57 0:00

انہوں نے بتایا کہ دو برس بعد ایک بار پھر انہیں یرقان کی بیماری ہوئی اور حالت خراب ہو گئی جس پر انہیں علاج کے لیے اسلام آباد لایا گیا اور اب ان کا علاج جاری ہے۔

ارباب مری کا شکوہ ہے کہ کوہلو ایک پسماندہ علاقہ ہے اور یہاں کے لوگ انتہائی غربت کی زندگی گزارتے ہیں۔ کوہلو میں صحت کی سہولیات بہت ہی کم ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں علاج کے لیے ملتان اور اسلام آباد جانا پڑا۔

ارباب مری کے بقول "میں نے اب تک یرقان کے علاج معالجے پر دو لاکھ روپے سے زائد کا خرچہ کیا ہے اور اب بھی میرا علاج جاری ہے۔ دواؤں کا ماہانہ خرچہ چار سے پانچ ہزار ہے جو کوہلو میں سرکاری سطح پر مفت دستیاب نہیں ہیں۔

کوہلو سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی قیوم مری کے بقول یہ کہانی صرف ارباب مری کی نہیں کوہلو میں بسنے والے ہر گھر میں یرقان کے مریض اسی کرب سے گزر رہے ہیں۔

قیوم مری کے مطابق یہ مرض کوہلو میں عطائی ڈاکٹروں کی جانب سے استعمال شدہ سرنج کو دورباہ کئی بار استعمال کرنے سے پھیل رہا ہے جب کہ کوہلو میں پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں جو یرقان کے پھیلنے کی وجہ بن رہا ہے۔

صحافی قیوم مری نے بتایا کہ کوہلو میں یرقان کے مرض کو پھیلانے میں یہاں حجاموں کا بھی ہاتھ ہے جو ایک بلیڈ کو کئی بار استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کوہلو کے اسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے علاج معالجے کے لیے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو چاہیے کہ وہ کوہلو میں انسدادِ ہیپاٹائٹس مہم چلانے کی ہدایات جاری کریں۔

ضلع کوہلو کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر عطا اللہ مری کے مطابق ضلع بھر میں یرقان کے کیے جانے والے ٹیسٹ کے مطابق 100 میں سے 11 افراد ہیپاٹائٹس بی اور 100 میں تین افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں۔

عطا اللہ مری کے بقول "اس وقت ہمارے پاس ہیپاٹائٹس بی کی گولیاں دستیاب ہیں اور 300 کے قریب رجسٹرڈ مریض روزانہ ادویات لے جا رہے ہیں جن میں ایک سال اور چھ ماہ کے کورس والے مریض شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوہلو کے دور دراز علاقوں کی رسائی ڈی ایچ کیو اسپتالوں تک نہیں ہے۔ اس لیے ہیپاٹائٹس کے حوالے سے شعور و آگاہی اور ویکسی نیشن کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے بقول "کوہلو میں یرقان کے مرض کے پھیلنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن گھروں میں پہلے سے یہ مرض موجود ہو وہ بچوں میں پھیل رہی ہے اس کے علاوہ عطائی ڈاکٹر اور حجام بھی قصور وار ہیں۔"

ضلعی سطح پر جمع کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوہلو میں سالانہ 30 سے 40 افراد ہیپاٹائٹس کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔

ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی صوبائی سربراہ ڈاکٹر گل سبین اعظم غوریزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پانچ اضلاع ہیپاٹائٹس کے مرض کے حوالے سے ہائی رسک پر ہیں۔

سربراہ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے مطابق یہ مرض صرف کوہلو میں ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں موجود ہے کہیں کیسز کی تعداد کم اور کہیں پر زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر گل سبین کے بقول "حالیہ ایک سروے میں بتایا گیا ہے کی ہیپاٹائٹس کے سب سے زیادہ مریض بلوچستان کے ضلع ژوب میں موجود ہیں جب کہ نصیر آباد ڈویثرن میں بھی صورتِ حال خراب ہے۔"

سروے کے مطابق اس وقت بلوچستان میں یرقان کے رجسٹرڈ کل مریضوں کی تعداد 15 ہزار سے زائد ہے جب کہ ان رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

ڈاکٹر گل سبین اعظم کا کہنا تھا کہ مختلف اضلاع میں ویکسین اور ادویات موجود ہیں مگر ڈی ایچ اوز اور عملے کی جانب سے یہ عمل سست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضلع کوہلو میں حال ہی میں تین ہزار ویکسینز پہنچائی گئیں مگر 300 مریضوں کی بھی ویکسی نیشن نہیں کی جا سکی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ فنڈ کی کمی ہے پانچ سالہ پروگرام کے لیے اب تک صرف 43 فی صد فنڈز کا اجرا ممکن ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG