بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں واقع ایک کچرا پٹی کچرا چننے والوں میں ہیپا ٹائٹس سے لے کر ایچ آئی وی تک متعدد بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہی ہے لیکن اس کے باوجود کچرا چننے والے وہاں کام کر رہے ہیں۔
کچرا چننے والے وائرس سے کیوں نہیں ڈرتے؟
1
منصور خان اور ان کی اہلیہ لطیفہ بی بی تقریبا 20 سال سے اس کچرا پٹی سے پلاسٹک اور دیگر اشیاء چننے کا کام کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ اس کام سے پانچ ڈالر (375 بھارتی روپے) یومیہ کی آمدنی سے گھر کے اخراجات کے ساتھ تین بچوں کے اسکول کی فیس ادا کرتے ہیں۔
2
منصور اور ان کی اہلیہ اپنے بچوں کو کچرا پٹی کے تعفن سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
3
چند ماہ سے کچرا پٹی پر بائیو میڈیکل فضلے کی مقدار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے سبب ماہرین کا کہنا ہے کہ کچرا چننے والوں کی صحت کو وبائی مرض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
4
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے تمام علاقوں سے سیکڑوں ٹن کچرا اس 52 ایکٹر رقبے پر پھیلی کچرا پٹی پر اکھٹا ہوتا ہے۔ اس میں استعمال شدہ پلاسٹک، کرونا وائرس کی ٹیسٹ کٹس، استعمال شدہ حفاظتی لباس اور نرسنگ ہومز کا فضلہ یہاں لاکر جمع کیا جاتا ہے۔