بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں واقع ایک کچرا پٹی کچرا چننے والوں میں ہیپا ٹائٹس سے لے کر ایچ آئی وی تک متعدد بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہی ہے لیکن اس کے باوجود کچرا چننے والے وہاں کام کر رہے ہیں۔
کچرا چننے والے وائرس سے کیوں نہیں ڈرتے؟
9
منصور خان کی 38 سالہ اہلیہ لطیفہ بی بی کا کہنا ہے کہ انہیں تو بس یہی فکر ہے کہ ان کے بچے کسی طرح اس وبا سے محفوط رہیں۔
10
لطیفہ بی بی کا کہنا ہے کہ انہیں واپسی کے وقت گھر میں داخل ہونے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں بچے کسی مرض میں مبتلا نہ ہوجائیں۔
11
دہلی میں واقع تھنک ٹینک سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ کے بائیو میڈیکل ویسٹ کے ماہر دنیش راج بانڈیلا نے بتایا کہ بائیو میڈیکل کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے نیشنل پلوشن ریگولیٹر کا باقاعدہ وضع کردہ پروٹوکول موجود ہے لیکن وبا کے دوران اس پرمکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ایسی صورت میں کچرا پٹی پر کام کرنے والوں میں ہیپاٹائٹس سے لے کر ایچ آئی وی تک تمام بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔
12
منصور خان تمام خطرات اور خدشات کے باوجود ہر روز صبح گھر سے نکل کر کچرا پٹی جاتے ہیں اور دن بھر وہاں کام کرتے ہیں۔ ان کی واپسی اکثر شام میں ہوتی ہے۔ ان کی اہلیہ لطیفہ بی بی بھی ان کے ساتھ ہی کام کرتی ہیں۔ اس کے باوجود ان کی یومیہ اجرت 5 ڈالر سے زیادہ نہیں ہو پاتی۔