رسائی کے لنکس

logo-print

میر شکیل الرحمٰن دو ماہ سے گرفتار، کیس سست روی کا شکار کیوں؟


Shakeel

پاکستان کے بڑے صحافتی ادارے 'جنگ گروپ' کے مالک میر شکیل الرحمٰن، پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں گزشتہ دو ماہ سے جیل میں ہیں۔ منگل کو اُنہیں لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اُنہیں ایک بار پھر یکم جون تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔

پاکستان کے صحافتی اور سیاسی حلقے میر شکیل الرحمٰن کی طویل عرصے سے گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ جنگ گروپ سے وابستہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں حکومت کی ناقص پالیسیوں کا پردہ فاش کرنے پر جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا۔

دو ماہ گزر جانے کے باوجود بھی نیب میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ریفرنس فائل نہیں کر سکا۔

روزنامہ ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر اشعر رحمان کہتے ہیں کہ تحقیقات سے قبل ہی ملزم کو پکڑ لینے کا نیب کا طریقہ کار، نیب کے اپنے قوانین کے خلاف ہے۔

اُن کے بقول پہلے کسی شخص کو گرفتار کرنا اور پھر اس پر کیس بنانا انصاف کے اُصولوں کی نفی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اشعر رحمان نے کہا کہ نیب تفتیش بعد میں کرتی ہے اور ملزم کو پہلے پکڑ لیتی ہے۔ لہذٰا نیب جب اس طرح سے کارروائی کرتا ہے تو باتیں بھی بنتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ نیب بطور ادارہ انتقامی کارروائیاں کر رہا ہے۔

اشعر رحمان کے بقول نیب کو بالکل پولیس کی طرح بنا دیا گیا ہے۔ اُن کے بقول میر شکیل الرحمٰن باقاعدگی سے نیب میں پیش ہو رہے تھے۔ وہ کہیں بھاگ نہیں رہے تھے، لہذٰا اُنہیں گرفتار کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔

اشعر رحمان کے بقول میر شکیل کا میڈیا گروپ ایک خاص طریقے کی رپورٹنگ کر رہے ہیں چاہے وہ اچھی ہے یا بری اُس پر یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ ایسی رپورٹنگ مت کریں یا متوازن رپورٹنگ کریں۔

'پہلے گولی ماری جاتی تھی، اب گالی دی جاتی ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:46 0:00

لیکن اُن کے بقول "میر شکیل الرحمٰن کو یوں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ اُن کا حق ہے وہ جیسے چاہے کریں۔ آپ میر صاحب کو صحافتی طور پر اور سیاسی طور پر جواب دیں۔"

اشعر رحمان کہتے ہیں کہ اسی طرح سیاست دانوں کو نیب نے پکڑا۔ خواجہ سعد رفیق کی گرفتاری پر بھی سوال اُٹھائے گئے۔ اُن کے بقول جب ملک کی ایک اہم شخصیت ماضی میں کہتی رہی کہ میں میر شکیل الرحمٰن کو نہیں چھوڑوں گا۔ تو پھر باقی کیا بچتا ہے۔

اُن کے بقول اگر موجودہ حکومت نے بھی نوے کی دہائی کی سیاست کرنی ہے تو پھر ان میں اور سابق حکومتوں میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔

پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرینسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ دو ماہ سے میر شکیل کے خلاف ریفرنس دائر نہ کرنے کا مطلب ہے کہ اُن پر صرف دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ میر شکیل کے خلاف جو تحقیقات کرنی ہیں وہ بھلے کریں لیکن اُنہیں یوں گرفتار کر کے دو ماہ سے بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ ایسی کارروائیوں سے پاکستان اور پاکستانی اداروں کی عالمی سطح پر بدنامی ہوتی ہے۔ اُن کے بقول ایسی کون سی معلومات ہیں جو دو ماہ گزر جانے کے باوجود بھی میر شکیل الرحمٰن نیب کو نہیں دے سکے۔

احمد بلال کے بقول میر شکیل نہ تو حکومت میں ہیں اور نہ ہی وہ ریکارڈ چھپانے کی سکت رکھتے ہیں۔ لہذٰا صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اُنہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اُن کے بقول 'جیو نیوز' کی ایک ایڈیٹوریل پالیسی ہے اور اُس پالیسی سے حکومت کو یہ لگتا ہے کہ اُسے اِس کا نقصان ہوتا ہے۔"

نیب کا یہ موقف رہا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کے خلاف کارروائی کے لیے اُن کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہے۔ نیب قوانین چیئرمین نیب کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ ملزم کو کسی بھی مرحلے پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

لہذٰا یہ تاثر درست نہیں کہ نیب قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

امریکی ریاست نیویارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس بھی میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی مذمت کر چکی ہے۔

فرانس میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'رپورٹر ودآوٹ بارڈرز' بھی میر شکیل کی گرفتاری کی مذمت کر چکی ہے۔

میر شکیل الرحمٰن پر 1986 میں اُس وقت کے وزیر اعلٰی نواز شریف سے پلاٹ لینے کا الزام ہے۔ (فائل فوٹو)
میر شکیل الرحمٰن پر 1986 میں اُس وقت کے وزیر اعلٰی نواز شریف سے پلاٹ لینے کا الزام ہے۔ (فائل فوٹو)

میر شکیل الرحمٰن کے خلاف کیس کیا ہے؟

نیب نے جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن کو 12 مارچ کو اُس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے خلاف تحقیقات کے لیے نیب لاہور کے دفتر گئے تھے۔

نیب ترجمان کے مطابق میر شکیل الرحمان پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے 54 کنال اراضی کے پلاٹ بطور رشوت لینے کا الزام ہے جب نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔

البتہ جنگ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ 34 سال پرانا ہے اور انہوں نے پلاٹ حکومت سے نہیں بلکہ پرائیویٹ افراد سے خریدے تھے۔

منگل کو لاہور کی احتساب عدالت نے ایک بار پھر میر شکیل الرحمٰن کو جوڈیشل ریمانڈ پر یکم جون تک جیل بھیج دیا۔ سماعت کے دوران ملزم کی غیر حاضری پر جج جواد الحسن نے جیل حکام پر برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ ملزم عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟

جس پر جیل افسر عاشق حسین نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈسٹرکٹ جیل میں ہے۔ لہذٰا کرونا کی صورتِ حال کے پیش نظر اُنہیں پیش نہیں کیا جا سکا۔

نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر عاصم ممتاز نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اسپتال میں ہے۔ جس پر جج جواد الحسن نے کہا کہ کہاں لکھا ہے کہ اسپتال منتقل کیا گیا؟

جج نے ریمارکس دیے کہ کس قانون کے تحت ملزم کو پیش نہ کرنے کے ایس او پیز بنائے گئے۔ حکومتِ پنجاب کے پاس کیسز کی کارروائی معطل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

جج جواد الحسن نے ریمارکس دیے کہ "عدالتوں کو تالہ مار دیتے ہیں پھر، عدالت کو کوئی اعتراض نہیں اگر ملزموں کو پیش نہیں کیا جا رہا۔ وزارت قانون، آئین پاکستان کہاں ہے، ایسی پالیسیوں نے سسٹم کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔"

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے میر شکیل کی رہائی کی درخواست پر نیب کو 28 مئی کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران میر شکیل الرحمٰن کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو جیل میں رکھنا بلا جواز ہے۔ لہذٰا عدالت اُنہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے۔

سماعت کرنے والے دو رُکنی بینچ کے سربراہ جسٹس سردار احمد نعیم نے استفسار کیا کہ اس وقت کے وزیر اعلی کو شامل تفتیش کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ جس پر نیب کے اسپیشل پراسیکوٹر فیصل بخاری نے عدالت کو بتایا کہ اُنہیں طلبی کے نوٹس بھجوائے جا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG