رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی مظاہروں میں پاکستانی مزاحمتی شاعری کی گونج کیوں؟


بھارت بھر میں جاری شہریت اور قومی سطح پر اندراج کے قوانین CAA اور NRC کے خلاف مظاہروں میں پاکستان کے نامور شعرا کی مزاحمتی شاعری کی گونج اس قدر تواتر سے سنی گئی کہ بعض لوگوں نے اسے روکنے کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا ہے۔

فیض احمد فیض، حبیب جالب اور علامہ اقبال کی شاعری ان مظاہروں میں شامل نوجوانوں میں شدت سے مقبول ہونے لگی ہے۔

اتر پردیش کے شہر کانپور میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے کیمپس سے وابستہ پروفیسر واشی منت شرما نے کچھ طلبا کے خلاف شکایت درج کرائی کہ وہ پاکستانی شعرا کی مزاحمتی شاعری گاتے ہوئے ’’نفرت پھیلا رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے اپنی شکایت میں خاص طور پر فیض احمد فیض کے ان اشعار پر سخت اعتراض کیا:

جب ارض خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردود حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

ہم دیکھیں گے

پروفیسر شرما نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان اشعار میں تمام بتوں کو ہٹانے کی بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آخر میں صرف اللہ کا نام باقی رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ تو نہیں جانتے کے ان اشعار کا مفہوم کیا ہے مگر اہم بات وہ الفاظ ہیں جو دہرائے گئے ہیں۔

ادھر آئی آئی ٹی کانپور کے ڈائریکٹر ابھے کرندیکر نے ایک ٹویٹ کے ذریعے طلبا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

فیض احمد فیض کی یہ مشہور نظم پاکستان کی نامور گلوکارہ اقبال بانو نے گا کر امر کر دی تھی اور اس کی ریکارڈنگ پاکستان کے باہر لوگوں میں بھی انتہائی مقبولیت حاصل کرتی گئی، جن میں بھارت کے لوگ بھی شامل ہیں۔

معروف مصنفہ اور تنقید نگار رخشندہ جلیل نے اخبار ’الجزیرہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنوبی ایشیا بھر میں جب لوگ کسی بھی حکومتی اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ بات اہم نہیں رہتی کہ ان مظاہروں میں استعمال کیے جانے والے اشعار کسی پاکستانی شاعر کی تخلیق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ایسے مظاہروں میں فیض کے اشعار ’جب تاج اچھالے جائیں گے‘ یا ’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘ دہرائے جاتے ہیں تو وہ ہمیشہ حسب حال، موذوں اور پُر اثر محسوس ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فیض اور جالب نے یہ مزاحمتی شاعری پاکستان میں فوجی آمریت کے دور میں کی تھی۔ بھارتی مظاہروں میں جالب کے یہ مشہور الفاظ بھی مسلسل سنے جا رہے ہیں، جو انہوں نے پاکستان کے سابق فوجی صدر ایوب خان کے دور میں کہے تھے:

ایسے دستور کو صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے

میں بھی منصور ہوں، کہہ دو اغیار سے

کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

نئی دہلی کے شاہین باغ میں ہزاروں خواتین دو ہفتے سے زائد عرصے سے دھرنا دے رہی ہیں۔ وہاں جواہر لعل یونیورسٹی کے طالب علم ششی بھوشن سمد کو اس وقت تک سٹیج سے نہیں اترنے دیا گیا جب تک انہوں نے حبیب جالب کی یہ نظم گا کر نہیں سنائی۔

ششی بھوشن سمد اس نظم کے حوالے سے اس وقت شہرت اختیار کر گئے تھے جب انہوں نے کچھ عرصہ قبل جواہر لعل یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے ہوسٹل کی فیس میں اضافے کے خلاف مظاہرے کے دوران اسی یونیورسٹی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر یہ نظم ’دستور‘ گائی تھی۔

بھارت کے معروف شاعر گوہر رضا نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہمیشہ سے حبیب جالب اور ان کی یہ نظم ’دستور‘ بے حد پسند رہے ہیں۔ تاہم، ہم نے اس سے پہلے کبھی کسی بھی مظاہرے میں اس نظم کو دہراتے ہوئے نہیں سنا۔ انہوں نے کہا کہ شہریت اور قومی سطح پر اندراج کے قوانین کے خلاف مظاہروں میں یہ نظم بے حد مقبولیت اختیار کر گئی ہے۔

گوہر رضا کا کہنا تھا کہ حبیب جالب نے اس نظم میں ملکی آئین کو مسترد کیا ہے اور ایسی مزاحمتی شاعری فسطائیت کے عروج کے دور میں زیادہ مقبول ہوتی رہی ہے جیسے مختلف وقتوں میں یہ صورت حال پاکستان، جرمنی، لاطینی امریکہ اور اب بھارت میں دیکھی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG