رسائی کے لنکس

طالبان کے لیے ظاہر شاہ کے دور کا آئین کیوں قابلِ قبول ہے؟


افغان طالبان نے افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ کے دور میں بنائے گئے آئین کی بعض شقوں کے مطابق ملکی انتظام و انصرام چلانے کا عندیہ دیا ہے۔

طالبان نے منگل کے روز کہا کہ ملک کا انتظام چلانے کے لیے عبوری طور پر 1964 کے افغانستان کے آئین کی ان شقوں کو نافذ کیا جائے گا جو اسلامی شرعی قوانین سے متصادم نہیں۔

طالبان کے قائم مقام وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی سے منسوب ایک بیان کے مطابق عبوری دور کے دوران اسلامی امارات سابق بادشاہ محمد ظاہر شاہ کے دور کے آئین کی ان شقوں پر عمل درامد کرے گی جو اسلامی شریعت سے متصادم نہیں۔ واضح رہے کہ طالبان اپنی حکومت کے لیے اسلامی امارات کا نام استعمال کرتے ہیں۔

البتہ طالبان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ ظاہر شاہ کے بنائے گئے آئین کی کن شقوں کو تسلیم یا نافذ کریں گے اور کن شقوں کو وہ اسلام سے متصادم تصور کرتے ہیں۔

لیکن ان کے اس بیان کے بعد اس سوال کا جواب تلاش کیا جا رہاہے کہ طالبان کی طرزِ حکومت اور ظاہر شاہ کے دور میں مںظور ہونے والے آئین میں ایسی کیا ہم آہنگی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اس لگ بھگ چھ دہائی پرانے آئین کے بعض حصوں کو تسلیم کرنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔

ظاہر شاہ کے آئین میں کیا تھا؟

موجودہ افغانستان کی تاریخ 1747 سے شروع ہوتی ہے جب احمد شاہ ابدالی نے یہاں ایک مرکزی بادشاہت قائم کی۔ 1923 میں امیر امان اللہ خان نے افغانستان کا پہلا آئین مرتب کرایا تھا۔ اس کے بعد نادر شاہ کے دور میں 1931 میں افغانستان کا دوسرا آئین مرتب کیا گیا۔

افغانستان میں آئین سازی کی تاریخ پر نگہت مہروز چشتی نے اپنی کتاب ’کانسٹی ٹیوشنل ڈیولپمنٹ ان افغانستان‘ میں لکھا ہے کہ ان دونوں تحریری دساتیر میں باشاہ کو انتظامِ حکومت میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

اس کے علاوہ قانون سازی کے لیے دو ایوان پر مشتمل نظام، عدلیہ، بنیادی حقوق اور بادشاہ کے انتخاب وغیرہ سے متعلق بھی شقیں شامل تھیں۔

افغانستان کے پہلے دو آئین میں یہ قدر بھی مشترک تھی کہ ان میں اسلام کو ریاستی مذہب اور فقہ حنفی کو قانون کی بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

نگہت مہروز چشتی کے مطابق 1964 میں ظاہر شاہ کے دور میں نافذ ہونے والے ملک کے تیسرے آئین میں ریاستی مذہب اور فقہ حنفی سے متعلق شقیں برقرار رکھی گئی تھیں۔ لیکن اس آئین میں کچھ اضافی شقیں بھی تھیں۔

اس آئین کے تحت پہلی مرتبہ افغانستان میں دستوری بادشاہت قائم کی گئی اور پارلیمانی نظامِ حکومت قائم کیا گیا جو 1977 میں ظاہر شاہ کے چچا اور سابق وزیرِ اعظم داؤد خان کی بغاوت تک قائم رہا۔

اس کے علاوہ آئین میں بنیادی شہری حقوق کے قوانین بھی شامل تھے اور سیاسی جماعتوں کے قیام کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

آئین کی تیاری میں بھی افغانستان کے تمام طبقات کو نمائندگی دی گئی تھی اورآئین کے مسودے کی منظوری کے لیے تشکیل دی گئی 27 رکنی آئینی مشاورتی کونسل میں مختلف نسلی گروہوں کے نمائندوں کے ساتھ دو خواتین بھی شامل تھیں۔

طالبان اس آئین سے کتنے متفق ہیں؟

اگرچہ طالبان ظاہر شاہ کے دور کے آئین کی شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے بھی ان کی ’شریعت‘ سے مطابقت کو شرط قرار دیتے ہیں. لیکن ماہرین کے مطابق اس آئین کے بعض بنیادی نکات سے طالبان بڑی حد تک متفق ہیں۔

کابل کی امیرکن یونیورسٹی آف افغانستان میں قانون کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ان دنوں اٹلی کے ’انسٹی ٹیوٹ فور یونیفکیشن آف پرائیوٹ لا‘ سے وابستہ محقق ہارون رحیمی کا کہنا ہے کہ طالبان کا 1964 کے آئین سے متعلق بیان معنی خیز ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ہارون رحیمی کا کہنا تھا کہ اس آئین میں قانون کی جس اساس اور طرزِ حکومت کی وضاحت کی گئی ہے وہ طالبان کی اندازِ فکر سے مطابقت رکھتی ہے۔

ان کے بقول 1964 کے آئین میں نظام کی کچھ بنیادیں واضح کی گئی تھیں جن کے مطابق ملک میں قانون سازی اسلام کے مطابق ہوگی اور قانون کی تشریح میں کسی اختلاف کی صورت میں فقہ حنفی کو حتمی تسلیم کیا گیا تھا۔ طالبان کے لیے یہ بات قابلِ قبول ہے۔

لیکن ہارون رحیمی کے مطابق طالبان اس معاملے میں بھی پوری طرح 1964 کے آئین میں بیان کیے گئے طریقے سے متفق نہیں کیوں کہ اس آئین میں یہ قانون سازی یا کسی قانون کے شریعت کے مطابق ہونے کے فیصلے کا اختیار قانون ساز اداروں کو دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان اس کے لیے علما کی رائے کو حتمی تسلیم کرتے ہیں اور ان کے نزدیک قانون بنانے یا اس کی تشریح و تعبیر میں عوامی نمائندگی یا رائے کی اہمیت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ طالبان عام طور پر نظامِ حکومت اور قانون سازی کو علما کی مشاورت اور رائے سے مشروط کرتے ہیں۔

شہری حقوق

کسی بھی ملک کا آئین بنیادی طور پر ریاست اور فرد کے درمیان تعلق کی وضاحت کرتا ہے جس میں انفرادی حقوق سے متعلق شقوں کو کلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

نگہت مہروز چشتی کی کتاب ’کانسٹی ٹیوشنل ڈویلپمنٹ ان افغانستان‘ کے مطابق 1964 میں بنائے گئے آئین میں بنیادی شہری حقوق کی وضاحت کی گئی تھی جس میں افغان عوام کو نقل و حرکت، تعلیم، آزادیٔ اظہار کی آزادی بھی دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 32 میں سیاسی جماعت بنانے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

طالبان کی حکومت کے بارے میں افغانستان کے اندر اور عالمی سطح پر زیادہ تر خدشات شہری آزادیوں اور حقوق سے متعلق ہی پائے جاتے ہیں۔

ظاہر شاہ کے دور کے آئین میں خواتین کے ووٹ کا حق تسلیم کیا گیا تھا اور انہیں حکومت میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

ہارون رحیمی کا کہنا ہے کہ طالبان 1964 کے آئین کا حوالہ تو دے رہے ہیں لیکن وہ بنیادی شہری حقوق کے متعلق کوئی واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرتے آئے ہیں۔

خواتین کی حکومت میں شمولیت، سیاسی اور تعلیمی حقوق سے متعلق بھی طالبان پالیسی واضح نہیں ہے۔

ہارون رحیمی نے بتایا کہ ظاہر شاہ کے دور میں منظور ہونے والے آئین میں پارلیمان کو بنیادی حقوق کا ضامن بنایا گیا تھا جب کہ طالبان اس معاملے میں بھی علما کی رائے کو حتمی قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اور بھی کئی ایسے نکات ہیں جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ 1964 کے آئین میں قانون ساز اداروں سمیت حکومت کا جو ڈھانچا بیان کیا گیا ہے طالبان اس سے بھی اتفاق نہیں رکھتے اور ان کا طرزِ حکومت یکسر مختلف ہے۔

طالبان چاہتے کیا ہیں؟

ان اختلافات کے باوجود طالبان 1964 کے آئین کا حوالہ کیوں دے رہے ہیں؟ اس سوال پر ہارون رحیمی کا کہنا تھا کہ اس بیان کو مقامی کے بجائے عالمی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ طالبان کے وزیر عبدالحکیم شرعی کا یہ بیان چینی سفیر سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

ان کے بقول اس لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ طالبان آئین کا حوالہ دے کر چین سمیت ان ملکوں کو پیغام دے رہے ہیں جو ان کی حکومت تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔

یہی آئین کیوں؟

کینیڈا میں رہائش پذیر سیاسی تجزیہ کار اور افغان حکومت کے ایک سابق اہل کار سعید اعظم کا خیال ہے کہ 1964ء کا آئین اختیار کر کے طالبان عملیت پسندی کا انداز اپنا رہے ہیں۔

سعید اعظم نے اس جانب توجہ دلائی کہ 1964 کا آئین مربوط قومی مباحثے کا نتیجہ تھا جس کی تیاری اور توثیق کے کام میں دو سال کا عرصہ لگا تھا۔

لیکن یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ اگر طالبان کو تمام طبقات کی نمائندگی اور موقف میں لچک ہی کا پیغام دینا تھا تو طالبان نے 2004 کے آئین کا حوالہ کیوں نہیں دیا۔

افغانستان میں مذہبی حکومت کیسی ہو سکتی ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:04 0:00

ماہر قانون ہارون رحیمی کا کہنا ہے کہ 2004 کے آئین کا بڑا حصہ بھی 1964 کے آئین سے لیا گیا تھا۔ البتہ اس میں فقہ حنفی کے ساتھ اہل تشیع کے مذہبی امور میں ان کے فقہ کو بھی قانون کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سوویت انخلا کے بعد برہان الدین ربانی کی حکومت نے بھی 1964 ہی کے آئین میں کچھ تبدیلیاں کرکے اسے نافذ کیا تھا۔

ہارون رحیمی کا کہنا ہے کہ 1996 میں جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے کوئی تحریری آئین اختیار نہیں کیا تھا اور مذہبی فتووں پر نظام حکومت چلایا جارہا تھا۔

البتہ ان کا کہنا ہے اس طرح کی اطلاعات تھیں کہ طالبان نے برہان الدین ربانی کے دور میں تیار کیے گئے آئین ہی میں کچھ تبدیلیاں کرکے اس کے مسودے پر کام شروع کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملا عمر کی ہدایت پر طالبان کے چیف جسٹس نے یہ کام شروع کیا تھا اور مبینہ طور پر اس کا ایک مسودہ بھی تیار کرلیا گیا تھا۔ بعد میں حالات تبدیل ہونے کی وجہ سے کسی تحریری آئین کے نفاذ کا موقع ہی نہیں آیا۔

آئین اور طالبان کا بیانیہ

ہارون رحیمی کا کہنا ہے کہ یہ سوال اہم ہے کہ طالبان جس مسودے پر کام کررہے تھے اسے کیوں نافذ نہیں کررہے؟ یا اگر اپنے سیاسی مؤقف میں لچک اور تمام طبقات کی شمولیت کا پیغام دنیا کو دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ان کے خیال میں 2004 کا آئین زیادہ بہتر پیغام ثابت ہوسکتا تھا۔

تجزیہ کار سعید اعظم کے مطابق 1964 کے آئین پر عمل درآمد کا یقین دلا کر طالبان در اصل یہ ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ افغان معاشرہ وسیع طور پر ان کے طور طریقے تسلیم کرلے گا۔

ہارون رحیمی بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ طالبان 1964 کے آئین کا حوالہ اس لیے دے رہیں کہ یہ سوویت دور اور ان کے پہلے دورِ حکومت سے بھی پہلے کی دستاویز ہے جو عام طور پر افغانوں کے لیے قابلِ قبول بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 2004 کا آئین ان کے لیے اس لیے موزوں نہیں کہ اسے تسلیم کرنے سے ان کا یہ بیانیہ کمزور ہوتا ہے کہ 2001 کے بعد افغانستان میں قائم ہونے والی حکومت غیر ملکی قبضے کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی اور یہ آئین اسی دور میں بنایا گیا تھا۔

رحیمی کا کہنا ہے کہ اگر طالبان اس آئین کے نفاذ کی بات کرتے تو یہ بات ان کے اپنے ہی بیانیے کے خلاف جاتی۔

بادشاہ یا امیر

نگہت مہروز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 1964 کے آئین میں بادشاہ اور شاہی خاندان کو افغانستان کے عوام کے اتحاد کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 15 میں یہ بات واضح تھی کہ بادشاہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ 1964 کے آئین میں بادشاہ کی اسی مرکزی حیثیت کی وجہ سے بھی طالبان اس کا حوالہ دے رہے ہیں کیوں کہ طالبان کے ’امارت اسلامی‘ کے حکومتی ڈھانچے میں امیر کو یہی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ہارون رحیمی اس بارے میں کہتے ہیں کہ اس امکان کو مسترد تو نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کا اصرار ہے کہ آئین سے متعلق طالبان کے حالیہ بیان کو اندرونی سیاست کے بجائے عالمی تناظر ہی میں دیکھنا بہتر ہوگا۔

ہارون رحیمی کا کہنا ہے کہ طالبان ہر وعدے اور اعلان سے اپنے لیے کوئی راستہ کھولتے ہیں۔ جس طرح انہوں نے کابینہ کی تشکیل میں تمام فریقین کو شامل کرنے کی بات کی۔ لیکن جب کابینہ سامنے آئی تو ایسا کچھ نہیں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آئین کی بات کرکے بھی طالبان دراصل ایک آپشن کھلا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ عالمی سطح پر یہ پیغام دیا جاسکے کہ وہ وقت کے ساتھ اپنے مؤقف میں لچک لانے کے لیے تیار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG