رسائی کے لنکس

مالدیپ اور چین کا دفاعی معاہدہ بھارت کے لیے خطرہ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟


مالدیپ نے بھارت کے ساتھ باہمی تعلقات کے کشیدہ ہونے کے دوران چین کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا ہے جسے نئی دہلی میں تشویش کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مالدیپ میں چین کی بڑھتی دلچسپی کے اثرات انڈوپیسفک خطے پر بھی مرتب ہوں گے۔

مالدیپ کی وزارتِ دفاع کے مطابق چین مالدیپ دفاعی تعاون معاہدے کا مقصد دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ یاد رہے کہ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے وہاں موجود بھارتی فوجی اہلکاروں کو واپس بلانے کے لیے بھارت سے اپنے اصرار کا اعادہ کیا تھا۔

مالدیپ کی وزارتِ دفاع نے 'ایکس' پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ مالدیپ کے وزیر دفاع محمد غسان مامون نے چین کے ’انٹرنیشنل ملٹری کو آپریشن‘ کے دفتر کے ڈپٹی ڈائریکٹر ژانگ باؤشون سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے دوران باہمی دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال کے بعد مذکورہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تاہم اس معاہدے کی تفصیل عام نہیں کی گئی ہے۔

دریں اثنا میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے ماحول دوست 12 ایمبولینس بھی مالدیپ کو بطور تحفہ دیے ہیں۔ اتوار کو مالدیپ کی وزارتِ صحت میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران مالدیپ میں چین کے سفیر وانگ لیکسن نے یہ ایمبولینس مالدیپ کے حوالے کیں۔

اس سے قبل محمد معیزو نے چین کے ایک ہائی ٹیک بحری ریسرچ جہاز کو مالدیپ میں تعینات کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان کے مطابق یہ جہاز ایک سال تک وہاں رہے گا۔ یاد رہے کہ چین نے سری لنکا میں بھی اسے تعینات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

مالدیپ چین دفاعی تعاون معاہدے کے ایک روز بعد محمد معیزو نے کہا کہ 10 مئی کے بعد کسی بھی بھارتی فوجی ہلکار کو خواہ وہ سویلین لباس میں ہو، مالدیپ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ مالدیپ میں بھار ت کے 89 فوجی اہلکار ہیں جو انسانی امداد کے کاموں میں مصروف ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال اور ان کو آپریٹ کرتے ہیں۔ قبل ازیں محمد معیزو نے بھارت سے کہا تھا کہ وہ ان فوجی اہلکاروں کو 15 مارچ تک واپس بلا لے۔

گزشتہ دنوں وہاں کی حکومت نے کہا کہ ان فوجی اہلکاروں کا پہلا گروپ 10 مارچ تک نکل جائے گا اور پورا عملہ 10 مئی تک واپس ہو جائے گا۔ اسی درمیان بھارت کی ایک سویلین ٹیم مالدیپ پہنچ گئی ہے جو ہوا بازی کے تین پلیٹ فارموں میں سے ایک کا چارج سنبھالے گی۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے 29 فروری کو اپنی پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹروں کو آپریٹ کرنے کے لیے بھارت کی ٹیکنیکل ٹیم مالدیپ پہنچ گئی ہے۔

'پیش رفت کا انڈوپیسفک خطے پر اثر پڑے گا'

نئی دہلی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالدیپ میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ سے بھارت میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارت اور مالدیپ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی کسی حد تک ذمہ دار بھارت کی وزارتِ خارجہ بھی ہے۔

بین الاقوامی امور کے سینئر تجزیہ کار اسد مرزا کے مطابق مالدیپ اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد چین مالدیپ میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھائے گا جس کا انڈوپیسفک خطے پر بھی اثر پڑے گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مالدیپ میں چین کی موجودگی صرف بھارت کے لیے باعثِ تشویش نہیں ہو گی بلکہ امریکہ کے لیے بھی ہو گی۔ کیوں کہ آگے چل کر مالدیپ میں چین کی مداخلت اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ اس سے نمٹنا بھارت اور امریکہ دونوں کے لیے چیلنج بن جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ چین نے جو ریسرچ بحری جہاز مالدیپ میں تعینات کیا ہے اس سے سمندر کے نیچے بھارت نے انٹرنیٹ کے جو فائبر آپٹکس بچھائے ہیں ان پر ہونے والی بات چیت کو چین ریکارڈ کر سکتا ہے۔ حالاں کہ دنیا کے بیشتر ممالک بالخصوص مغربی ملک اس کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔ لیکن اب ان کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

'چین، بھارت مخالف جذبات کا فائدہ اُٹھا رہا ہے'

سینئر تجزیہ کار پشپ رنجن بھی ریسرچ جہاز کی تعیناتی کو بھارت کے لیے خطرناک بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے پر بھارت میں بہت تشویش ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مالدیپ میں جو بھارت مخالف جذبات ہیں چین بھی ان کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور موجودہ صدر محمد معیزو بھی۔

ان کے بقول محمد معیزو نے ’انڈیا آؤٹ‘ کے نعرے پر صدارتی انتخاب لڑا تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے تھے۔ اب وہاں 21 اپریل 2024 کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ لہٰذا معیزو اپنے اس مؤقف کو اور تقویت پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ ان کی پارٹی کامیاب ہو۔

اسد مرزا کے مطابق چین ایک حکمتِ عملی کے تحت مالدیپ میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہا ہے۔ چین 2010 کے بعد سے ہی مالدیپ میں اپنی مداخلت بڑے پیمانے پر کر رہا ہے۔ وہ وہاں ایئرپورٹ، مکانات اور چائنا مالدیپ فرینڈشپ بریج سمیت دیگر منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

ان کے مطابق ’انڈین اوشن رِم‘ (آئی اور آر) میں مالدیپ ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ مالدیپ کی بحری سرحدیں تقریباً 800 مربع کلومیٹر میں پھیلی ہوئی ہیں اور وہ ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں سے جنوب اور مشرق کے درمیان بحری راستے سے تجارت ہوتی ہے۔

دونوں تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ مالدیپ میں چین کی فوجی سرگرمی بڑھنے والی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مالدیپ میں چین کی موجودگی امریکہ کے لیے بھی خطرہ ہے۔ بھارت، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ پر مشتمل چار ملکوں کے پلیٹ فارم پر بھارت کی بہت زیادہ سرگرمی کی چین مخالفت کرتا رہا ہے۔

'امریکہ چاہتا ہے کہ انڈو پیسفک میں بھارت مضبوط رہے'

اسد مرزا کے مطابق مالدیپ میں چین کی سرگرمیاں بھارت کے لیے خطرہ ہیں۔ بھارت کواڈ میں شامل ہونے کے بعد آئی او آر میں بہت زیادہ سرگرم ہو گیا۔

پشپ رنجن کے مطابق مالدیپ کے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں چینی منصوبے شروع ہو رہے ہیں جس سے وہاں چین کی سرگرمی بڑھے گی۔

اُن کے بقول امریکہ چاہتا ہے کہ انڈوپیسفک میں بھارت مضبوط رہے۔ کیوں کہ اس کی مضبوطی ہی میں امریکہ کی بھی مضبوطی ہے۔

جہاں تک بھارت مالدیپ تعلقات میں کشیدگی کی بات ہے تو مالدیپ کی سابقہ حکومت نے بھارت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جو کہ بھارت کی جانب سے فوجی ہیلی کاپٹر اور ایک طیارہ کی فراہمی سے متعلق تھا جس کا مقصد ہنگامی حالات میں وہاں کے عوام کی مدد کرنا تھا۔ اس وقت کے صدر محمد صالح نے اس معاہدے کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہیں کیا تھا۔ اس کو بنیاد بنا کر وہاں ’انڈیا آؤٹ‘ مہم چلائی گئی۔

اسد مرزا کے مطابق محمد صالح کے زمانے میں بھارت سے مالدیپ کے تعلقات اچھے رہے ہیں لیکن محمد یامین کے زمانے میں بھارت مخالف مہم شروع ہو گئی۔ اسی درمیان جب رواں سال کے جنوری میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی لکش دیپ گئے تو مالدیپ کے بعض وزرا نے ان کے بارے میں نازیبا تبصرے کیے۔

ان کے مطابق بھارتی حکومت نے ان تبصروں پر بہت شدید ردِعمل ظاہر کیا جو کہ پبلک ڈپلومیسی میں اچھی بات نہیں تھی۔ بھارت کو جارحانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے سنجیدہ، مصالحانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے تھا تاکہ باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا نہ ہو۔ لیکن ایسا نہ کرکے جارحانہ مؤقف اختیار کیا گیا جس سے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

فورم

XS
SM
MD
LG