رسائی کے لنکس

سی آئی اے کی ہزاروں مبینہ دستاویزات وکی لیکس پر جاری


وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی فائل تصویر

وکی لیکس نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ دستاویزات سے ہیکنگ کا وہ وسیع پروگرام بے نقاب ہوگیا ہے جو سی آئی اے چلا رہی تھی۔

خفیہ سرکاری دستاویزات انٹرنیٹ پر جاری کرنے والے ادارے وکی لیکس نے اپنی ویب سائٹ پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ہزاروں مبینہ دستاویزات جاری کردی ہیں۔

منگل کو منظرِ عام پر آنے والی ان دستاویزات کی تعداد 8771 ہے جنہیں وکی لیکس نے 'ایئر زیرو' کے عنوان سے جاری کیا ہے۔

وکی لیکس نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ دستاویزات سے ہیکنگ کا وہ وسیع پروگرام بے نقاب ہوگیا ہے جو سی آئی اے چلا رہی تھی۔

سی آئی اے کے ایک ترجمان جوناتھن لی نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ ان کا ادارہ "مبینہ انٹیلی جنس دستاویزات کے درست ہونے یا نہ ہونے" پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

وکی لیکس کی انتظامیہ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان دستاویزات کی اشاعت سے سی آئی اےکے وہ بیشتر ہتھکنڈے اور ٹولز بے نقاب ہوگئے ہیں جنہیں ایجنسی ہیکنگ کی غرض سے استعمال کرتی تھی۔

بیان کے مطابق یہ دستاویزات سی آئی اے نے امریکی حکومت کے لیے کام کرنے والے بعض سابق ہیکروں کو دی تھیں جن میں سے ایک شخص نے یہ وکی لیکس کے حوالے کی ہیں۔

وکی لیکس کےمطابق 'ایئر زیرو' میں شامل ان دستاویزات سے سی آئی اے کے تحت بین الاقوامی سطح پر چلنے والے خفیہ ہیکنگ پروگرام کی وسعت اور اس کی سمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ان دستاویزات میں ہیکنگ کے ان درجنوں ٹولز اور سافٹ ویئرز سے متعلق معلومات بھی موجود ہیں جنہیں امریکی خفیہ ایجنسی مبینہ طور پر خود امریکی اور یورپی کمپنیوں کی مصنوعات کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

وکی لیکس کے مطابق سی آئی اے ان ٹولز کے ذریعے جو مصنوعات ہیک کر رہی ہے ان میں اپیل کا آئی فون، گوگل کا اینڈرائڈ سسٹم، مائیکروسافٹ کے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم، اور سام سنگ کے ٹی وی تک شامل ہیں جنہیں سی آئی اے مبینہ طور پر ہیک کرنے کے بعد بطور مائیک استعمال کرکے لوگوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اپنے بیان میں وکی لیکس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سی آئی اے کے پاس ایسے ہیکنگ سافٹ ویئرز کی ایک لائبریری بھی موجود ہے جو روس سمیت دیگر ممالک کی حکومتیں استعمال کرتی ہیں۔

وکی لیکس کے مطابق سی آئی اے ان سافٹ ویئرز کو اپنی ہیکنگ کی وارداتیں چھپانے اور تحقیقات کرنے والوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے تاکہ ان کا شک دوسرے ملکوں کی جانب جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG