رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کا خطرہ، عالمی رہنماؤں نے مصافحے کی جگہ 'نمستے' کا انداز اپنا لیا


(فائل فوٹو)

کرونا وائرس کے پیش نظر دنیا بھر میں عام لوگوں کے ساتھ عالمی رہنماؤں نے بھی ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا بند کر دیے ہیں۔ وہ ہاتھ ملانے کے بجائے بھارتی شہریوں کی طرح ایک دوسرے کو دونوں ہاتھ جوڑ کر 'نمستے' کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

'نمستے' کے انداز میں خوش آمدید کہنے کے طریقے کو 'وائرس پروف' بھی کہا جا رہا ہے۔ چونکہ کرونا وائرس چھونے سے بھی پھیلتا ہے، اسی لیے ہاتھ ملانے کے بجائے نمستے کا رجحان عام ہو رہا ہے۔

بھارت دنیا بھر میں یوگا کو متعارف کرانے پر فخر کرتا ہے۔ اب شاید اسے وائرس پروف نمستے کا رجحان عام کرنے پر بھی فخر محسوس ہونے لگے۔ کیوں کہ عالمی رہنما اب سلام کا یہی طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔

رواں ہفتے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب آئرش وزیرِ اعظم لیو وراڈکر سے ملاقات کی دو دونوں رہنماؤں نے ہاتھ ملانے کے بجائے ایک دوسرے کو نمستے کے انداز میں سلام کیا۔

صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں حال ہی میں بھارت کے دورے سے لوٹا ہوں۔ وہاں میں نے کسی سے ہاتھ نہیں ملایا۔ کیوں کہ بھارت میں سب ایک دوسرے کو ہاتھ جوڑ کر 'نمستے' کہتے ہیں جب کہ جاپان میں بھی لوگ ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہوئے ہاتھ نہیں ملاتے۔

برطانوی شہزادہ چارلس نے بھی ایک تقریب میں اپنے مہمانوں کا استقبال 'نمستے' کے انداز میں ہاتھ جوڑ کر کیا۔ لندن میں ہونے والی ایک تقریب میں مہمانوں سے ملاقات کے وقت انہوں نے مصافحہ نہیں کیا بلکہ نمستے کے انداز میں ہاتھ جوڑے۔

فرانسیسی صدر نے بھی اسی روایتی انداز میں اپنی دونوں ہتھیلوں کو جوڑ کر اور ذرا سا جھکتے ہوئے پیرس کے صدارتی محل میں اسپین کے بادشاہ فلپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا کا استقبال کیا۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو نے اپنے شہریوں کو ہاتھ جوڑ کر سلام کرنے کی ہدایت کی اور پریس کانفرنس کے دوران اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔

بھارتی وزیر اعظم بھی اپنے ملک میں لوگوں کو نمستے کرنے کا روایتی انداز اپنانے کی تاکید کر رہے ہیں۔ تاکہ یہ رجحان عام ہو سکے۔

نمستے، سنسکرت کے دو الفاظ کا مرکب ہے جس کا ترجمہ کسی کے استقبال میں جھکنا ہوتا ہے۔ اس کے دو بنیادی فائدے ہیں۔ ایک تو لوگوں کے درمیان فاصلہ برقرار رہتا ہے اور دوسرا دونوں افراد کے جسم ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں آتے۔

کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر میں بھی یہی بیان کیا جاتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ نا ملائیں اور درمیان میں کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں۔

کورونا وائرس کے خدشے کے سبب لوگوں کی بڑی تعداد ہاتھ ملانے کے متبادل طریقوں سے سلام کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG