رسائی کے لنکس

logo-print

’’خلافت‘‘ میں دراڑیں پڑنے کے باوجود، داعش کے مزموم حربے جاری


رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپنی خودساختہ ’’خلافت‘‘ کے دائرہٴ اختیار میں ’داعش‘ عراق، شام، افغانستان اور دیگر مقامات پر اپنی پُرتشدد مغرب مخالف سوچ اور دہشت گردی کے عزائم کو عام کرنے کی تگ و دو کرتے ہوئے، ہزاروں بچوں کو تربیت فراہم کر رہی ہے

چبھتی ہوئی فوجی شکست در شکست اور شدید مالی مشکلات کے باوجود، وہ علاقے جو ’داعش‘ کے زیرِ تسلط ہیں جہاں اُس کا سماجی میڈیا کی تیز دھار مہم پر بس چلتا ہے، یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اپنے اکھڑتے ہوئے ورثے کا داؤ بچوں پر آزمایا جائے، اور کلاس روم کے اندر ہی اپنے شیطانی عزائم کی تربیت کا بندوبست کیا جائے۔

’وائس آف امریکہ‘کی جانب سے سرگرم کارکنوں، مقامی اہل کاروں اور تجزیہ کاروں سے کیے گئے انٹرویوز سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی خودساختہ ’’خلافت‘‘ کے دائرہٴ اختیار میں ’داعش‘ عراق، شام، افغانستان اور دیگر مقامات پر اپنی پُرتشدد مغرب مخالف سوچ اور دہشت گردی کے عزائم کو عام کرنے کی تگ و دو کرتے ہوئے، ہزاروں بچوں کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔

اپنا پیغام پھیلانے کی غرض سے ’داعش‘ بچوں کے لیے انٹرنیٹ اور سماجی میڈیا پر درجنوں زبانوں میں اپنے پروپیگنڈے کی بھرمار جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد زہر اگلنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ’داعش‘ کے مشن کا محور ہے کہ کسی بھی طرح سے انتہا پسندی کے اپنے پیغام کو دوام بخشا جائے، جو گروپ کے حلقے سے دور دور تک پہنچایا جائے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ’داعش‘ کے اِن زہر اگلنے کے ہتھکنڈوں کا اثر ایک لمبے عرصے بعد ظاہر ہوگا، جس سے کئی سال پہلے اُس کا شہروں پر سے تسلط کا دور دورہ ہٹ چکا ہوگا۔

وجیہہ ایک استانی ہیں جو شام کے ’دیر الزور‘ شہر کے ایک ثانوی اسکول کے طالب علموں کو پڑھاتی ہیں، جو علاقہ اِن دِنوں ’داعش‘ کے زیرِ تسلط ہے۔ وہ کہتی ہین کہ ’’شام اور عراق میں داعش کی موجودگی کا نقصان یہ ہوگا کہ اگلی نسل مزید قدامت پسند ہو کر نمودار ہوگی‘‘۔

داعش کے نظریات

شامی معلم جنوبی ترکی میں ایک مہاجر کیمپ میں قائم ایک اسکول میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’داعش‘ کا مقصد یہ ہے کہ ’’دیرپہ نتائج کے حصول کے لیے بچوں پر دھیان مرتکز کیا جائے چونکہ یہ اُس کے نظریات کا معاملہ ہے ناکہ محض اُن کو بھرتی کرنے کی امنگ ہے‘‘۔ اُنھوں نے درخواست کی کہ اُن کے نام کا دوسرا حصہ شامل نہ کیا جائے۔

وقت تیزی سے گزر رہا ہے جب کہ صورت حال میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا، شام میں رقعہ، عراق میں موصل، افغانستان میں صوبہ ٴننگرہار کےفی الواقع ’دارلخلافوں‘ کے علاوہ، دور دراز انڈونیشیا تک کے خطے میں اِس انتہاپسند تنظیم کے کَل پرزے موجود ہیں۔ داعش بچوں کے کیمپ چلا رہی ہے، جنھیں وہ ’’خلافت کے شیر‘‘ قرار دیتی ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے اِس سال کے اوائل میں تحریر کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’داعش‘ بچوں پر منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’دولت اسلامیہ بچوں اور نوجوانوں کو شدید طور پر اور غیرمعمولی شرح سے اثرانداز ہو رہی ہے‘‘۔

ننگرہار میں ’داعش‘ کم از کم آٹھ اسکول اور مذہبی مدارس چلا رہی ہے، جہاں بچوں اور نوجوانوں کے ذہن میں شدید انتہاپسندانہ نظریات ٹھونسے جارہے ہیں۔

مقامی مکینوں اور حکام کے مطابق، جنھوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کی، بتایا کہ ننگرہار کے کوٹ ضلعے میں ’داعش‘ نے دو ہائی اسکول اور ایک دینی مدرسہ کھولا ہوا ہے۔

مقامی ذرائع نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’داعش‘ ایک خودساختہ نصاب کی تعلیم دے رہا ہے جس کا مقصد انتہاپسند اسلام کی ترویج ہے۔ بچیوں کو بھی اسکول میں شریک ہونے کی اجازت ہے۔ تاہم، اُن اوقات میں جب لڑکے موجود نہیں ہوتے۔ ذرائع کے مطابق، ’داعش‘ کے زیر سرپرستی چلائے جانے والے اسکولوں میں زیادہ تر استاد افغان وزارتِ تعلیم اور دولت اسلامیہ سے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔

تعلیم سے متعلق افغان اہل کاروں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اُنھیں ’داعش‘ کے اسکولوں کا علم ہے۔ لیکن، وہ اِن رپورٹوں پر ردِ عمل کا اظہار نہیں کرتے جن میں بتایا گیا ہے کہ داعش میں تدریس کے کام سے وابستہ استادوں کو افغان حکومت تنخواہ فراہم کرتی ہے۔

افغانستان کے ضلعٴ اچین میں، جہاں ’داعش‘ پانچ دینی مدارس چلا رہی ہے، بچوں کو زبردستی داعش کے اسکولوں میں ٹھونسا جاتا ہے۔ ’داعش‘ اُن والدین پر جرمانے عائد کرتا ہے جو اپنے بچوں کو اِن اسکولوں میں نہیں بھیجتے۔ یہ بات مقامی مکینوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتائی ہے۔

داعش کا تعلیمی ماڈل

جو علاقے ’داعش‘ کے زیرِ تسلط ہیں، وہاں دولت اسلامیہ کے معیار کا تعلیمی نمونہ نافذ کیا جاتا ہے۔

موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے، جہاں گذشتہ دو برس سے زائد عرصے سے ’داعش‘ کا قبضہ ہے۔ شہر میں داخل ہونے کے پہلے ہی روز، ’دولتِ اسلامیہ‘ نے مروجہ تعلیمی نظام پر بندش عائد کی اور اپنے قدامت پسند نظرئے کو عام کرنے کا بندوبست کیا۔

عصمت رجب موصل میں ’کردستان ڈیموکریٹک پارٹی‘ کے صدر دفتر کی سربراہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’’وہ بچوں کو اُن جماعتوں میں داخل کراتے ہیں جہاں وہ ہتھیاروں کا استعمال سیکھیں۔ استاد جو داعش کے نظام ِتعلیم پر اعتراض کرتے ہیں اُنھیں گرفتار کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اُنھیں موت کے گھاٹ چڑھا دیا جاتا ہے، اگر وہ نظام میں ڈھلنے سے انکار کرتے ہیں‘‘۔

داعش کے تعلیمی نظام میں نوجوانوں کو تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ کس طرح خودکش بم حملہ آور بن سکتے ہیں۔

اُن کے الفاظ میں ’’ماضی میں، زیادہ تر خودکش بم حملہ آور غیر ملکی لڑاکے ہوا کرتے تھے۔ اب، یہ اِنہی نوجوانوں پر مشتمل ہیں، جن کا تعلق موصل سے ہے‘‘۔

رجب کو پریشانی لاحق ہے کہ جب داعش موصل سے چلی جائے گی تو نوجوانوں کی بحالی کس طرح ہو پائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’میرے خیال میں ہمیں ابھی تک اصل خطرے کا اندازہ نہیں۔ داعش کے موصل سے چلے جانے کے بعد، ہمیں اِن اثرات کو صحیح اندازہ ہوگا، چونکہ ہمارے اس بڑے شہر میں کچھ بچوں کا ’برین واش‘ کیا گیا ہے‘‘۔

داعش نے عراق اور شام کے کچھ بچوں کا سخت گیر تعلیم میں اندراج کیا ہے۔

داعش کے لوگ عراق میں یزیدی مذہبی اقلیت کے سینکڑوں نوجوانوں کو غلام بنا کر شام لے گئے ہیں۔

خودکش بم حملہ آور

رقعہ میں، جو شام میں داعش کا فی الواقع دارالحکومت ہے، یزیدی بچوں کو زبردستی مسلمان بنا کر اُنھیں ہتھیار اور خودکش بیلٹ کے بارے میں سبق پڑھائے گئے ہیں۔

ایک 12 برس کے یزیدی بچے نے گذشتہ برس ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا تھا کہ ’’ہمیں صبح 4 بجے نمازِ فجر کے لیے جگا کر پھر 8 بجے فارغ کیا جاتا تھا‘‘۔

بقول اُن کے ’’آٹھ سے 9 بجے تک ہم ناشتہ کرتے تھے، پھر 12 بجے قرآن کی تعلیم دی جاتی تھی۔ پھر ہمیں دوپہر کا کھانہ دیا جاتا تھا؛ جس کے بعد، 5 بچے شام تک ہمیں اسلحے کی تربیت دی جاتی تھی۔۔۔ ہم سیاہ رنگ کا کپڑا پہنتے تھے، جس کے نیچے ہلکا سفید استر ہوتا تھا، جسے بم پھاڑنے کے استعمال کرتے تھے‘‘۔

حکام نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ بالآخر، وہ لڑکا ترک سرحد کے قریب واقع علاقے میں بھاگ کھڑا ہوا، جس کی کُرد افواج نے مدد کی۔ اس سال اُنھیں مہاجر کے طور حکومت ِجرمنی کی امداد سے چلائے گئے بحالی کے پروگرام کے تحت جرمنی میں بسایا گیا ہے۔

داعش کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے سرگرم کارکنوں کے مطابق، رقعہ میں، داعش نے سنہ 2015میں مردوں اور خواتین کے لیے کم از کم 12 اسکول قائم کیے ہیں۔ سنہ 2014 میں شہر پر کنٹرول کے بعد، گروپ نے نیا نصاب نافذ کیا، جس کی بنیاد انتہا پسند نظریات پر ہے۔

XS
SM
MD
LG