رسائی کے لنکس

logo-print

انسدادِ دہشت گردی، ’انفرادی عناصر‘ بڑے خطرے کا باعث: تجزیہ کار


ایک نامور تجزیہ کار کے مطابق، یہ حملہ اس بات کا غماز ہے کہ متعدد مسلمان نوجوان داعش کے پیغام سے کس طرح متاثر ہو رہے ہیں، جن کے اس گروپ کے ساتھ کوئی رابطے نہیں۔ تاہم، وہ ناراض اور گم سم ہیں اور اُس کے تشدد اور تباہی کے نصب العین کی طرف راغب ہیں

انسداد ِدہشت گردی کی کوششوں کے حوالے سے امریکہ اور دیگر ملکوں کی جانب سے توجہ مرکوز کیے جانے اور وسائل پر دھیان دینے کے باوجود، اتوار کے روز فلوریڈا کے شہر اورلینڈو کے قتلِ عام سے ’انفرادی عناصر‘ سے لاحق خطرات کا پتا چلتا ہے، جس سے لڑنا حکومت کے لیے خصوصی طور مشکل کام ہے۔

اس مرحلے پر ایسا کوئی عندیہ نہیں ملا آیا اورلینڈو حملہ آور کے داعش کے ساتھ براہِ راست واسطہ تھا، جب کہ ’ایف بی آئی‘ کے سربراہ جیمز کومی نے پیر کے روز کہا ہے کہ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے شدت پسندی کی جانب راغب ہوا۔

ایرک روزینڈ ’بروکنگز انسٹی ٹیوشن‘ میں امورِ خارجہ پر سینئر فیلو ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حملہ اس بات کی مثال ہے کہ متعدد مسلمان نوجوان داعش کے پیغام سے کس طرح متاثر ہو رہے ہیں، جن کے اس گروپ کے ساتھ کوئی رابطے نہیں۔ تاہم، وہ ناراض اور گم سم ہیں اور اُس کے تشدد اور تباہی کے نصب العین کی طرف راغب ہیں۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’ملکوں کو اس معاملے سے نمٹنے کے لیے خاص طور پر اپنے ہی اوپر انحصار کرنا ہوگا۔ اُنھیں کسی نہ کسی طور پر اپنے معاشروں سے نمٹنا ہوگا، جو برادریاں محسوس کررہی ہیں کہ وہ معاشرے سے کٹی ہوئی ہیں، افراد جنھیں شکست کا احساس ہے، اور اس سے جان بچانے کا کوئی طریقہٴ کار میسر نہیں، درکار وسائل موجود نہیں، جب کہ سائنسی ایجادات کا ملک کے داخلی مسئلے سے بچاؤ میں کوئی کردار نہیں‘‘۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے اسی ماہ کے اوائل میں ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ سال دنیا بھر میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 13 فی صد کم ہوئی، جب کہ ہلاکتوں مین 14 فی صد کی شرح سے کمی واقع ہوئی۔

ایمی پیٹ ’میری لینڈ یونیورسٹی‘ میں دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق مطالعے پر تحقیق کے ’نیشنل کنسورشئم‘ کی سربراہ ہیں، جس نے اس رپورٹ کے لیے اعداد و شمار تیار کیے۔ وہ کہتی ہیں کہ پُرتشدد انتہاپسندی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے، جب انھیں نہیں لگتا کہ اس کا مکمل خاتمہ لانا حقیقت پسندانہ ہے۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ جو کچھ دنیا کو نظر آتا ہے وہ محض چند مہلک حملوں کا سلسلہ ہوتا ہے۔

اُنھوں نے کہا ’’ایک مرحلہ آتا ہے جب دہشت گرد لوگوں کو ہلاک کرنے سے رُک جاتے ہیں۔ اُنھیں اس طرح کی پبلسٹی درکار ہوتی ہے۔ تاہم، ہلاکتوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی منفی پبلسٹی سے وہ بچنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ ’آئی آر اے‘ یا ’اِی ٹی اے‘ جیسےچند یورپی گروپوں پر نظر ڈالیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ اسی طریقہٴ کار پر عمل پیرا تھے۔ وہ دھیان چاہتے تھے۔ لیکن نہیں چاہتے تھے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کو شمار کیا جائے۔‘‘

تقریباً دو برس قبل، امریکی صدر براک اوباما نے داعش کو نیست و نابود کرنے کے ہدف کا اعلان کیا تھا، جس سلسلے میں اُنھوں نے ایک اتحاد ترتیب دیا، تاکہ فوجی طور پر اس گروپ پر حملہ کیا جائے اور اُس کے مالی وسائل کو بند کیا جائے اور بیرونی ملکوں کے لڑاکوں کی جانب سے اس میں شمولیت کی رغبت ختم کی جاسکے۔ عراق اور شام میں شدت پسندوں کے زیر تسلط علاقے کو خالی کرانے میں تو کامیابی ہوئی ہے، لیکن اِن ملکوں کے وسیع تر علاقوں پر یہ گروپ اب بھی قابض ہے، جب کہ دیگر علاقوں میں اس کا اثر و رسوخ جاری ہے۔

ربیکا زِمرمن ’رینڈ کارپوریشن‘ میں ایک تجزیہ کار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ داعش کو ختم کرنے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ اُن علاقوں میں جہاں یہ ریاست کے طور پر عمل پیرا ہے اور اپنا فوجی داؤ پیچ دکھا رہی ہے، اُسے نشانہ بنایا جائے۔ تاہم، اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ داعش کے ہاتھوں سے علاقہ جا چکا ہے، تب بھی یہ تباہ کُن اور مشکل نوعیت کا خطرہ ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG