رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں جرائم کی شرح کم اور جائیداد کی قیمتیں بڑھ گئیں


ایسے علاقے جہاں کبھی امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش تھی اور وہاں کے رہائشی اپنے اپنے مکانات اور دیگر جائیدادیں بیچ بیچ کر مجبوراً دوسرے علاقوں یا نسبتاً پرامن علاقوں میں منتقل ہورہے تھے، اب وہاں ناصرف جائیداد کی دوبارہ خرید و فروخت شروع ہوگئی ہے، بلکہ ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے

کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگیٹیڈ آپریشن کے سبب جیسے جیسے امن بحال ہو رہا ہے، زمین جائیداد کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ صرف دو ماہ پہلے ختم ہونے والے سال میں جائیداد کی قیمتوں میں 23 فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے، رائٹرز نے رئیل اسٹیٹ سے وابستہ ایک مشہور ادارے کی ویب سائٹ ’زمین ڈاٹ کام‘ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایسے علاقے جہاں کبھی امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش تھی اور وہاں کے رہائشی اپنے اپنے مکانات اور دیگر جائیدادیں بیچ بیچ کر مجبوراً دوسرے علاقوں یا نسبتاً پرامن علاقوں میں منتقل ہو رہے تھے، اب وہاں ناصرف جائیداد کی دوبارہ خرید و فروخت شروع ہوگئی ہے، بلکہ ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عوام جس سیکٹر میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہے وہ جائیداد یا رئیل اسٹیٹ ہی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں لگائے گئے سرمائے کی اصل مالیت کے بارے میں سرکاری اعدد و شمار دستیاب ہی نہیں۔ لیکن، زمین کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ شہر کے تقریباً ہر علاقے میں نئے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں۔

گزشتہ سال کراچی میں 134نئے رہائشی منصوبے شروع ہوئے۔ یہ تعداد دوہزار تیرہ اور دو ہزار چودہ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ 2014 میں 106اور 2013ء میں 72 نئے تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے تھے۔

جرائم کی شرح
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ شہر میں جرائم کی شرح گھٹ رہی ہے۔ سندھ پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کراچی میں 650افراد قتل کئے گئے جو دوہزار تیرہ میں قتل کئے گئے افراد کی تعداد کے مقابلے میں 75 فیصد کم ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بھتہ خوری کے واقعات میں 80 فیصد اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG