رسائی کے لنکس

برسوں بیت گئے. لیکن, انہیں شناخت نہیں مل سکی۔ انہیں قانونی دستاویزات کی کمی کا سامنا ہے, جس سے شناخت کے بحران میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سن 1971 سے قبل پاکستان کے ’پانچویں صوبے‘ کی حیثیت رکھنے والے ’مشرقی پاکستان‘ سے مغربی پاکستان آنے والے مقامی افراد کی زبان میں آج بھی بنگالی کہلاتے ہیں۔ ان میں وہ سینکڑوں افراد بھی شامل ہیں جو سالوں تک پاکستان آنے کے منتظر رہے اور عمر کا ایک طویل حصہ کسمپرسی کے عالم میں عارضی کیمپوں میں گزار دیا۔

تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ ان میں سے کچھ خوش نصیبوں کو حکومت پاکستان نے آنے کی اجازت دے دی. لیکن اس سے بھی بڑی تعداد میں لوگ پاکستان آمد کا انتظار ہی کرتے رہے, جبکہ سینکڑوں لوگ مختلف اور غیر قانونی طریقوں سے پاکستان آبسے اور سالوں سے یہیں مقیم ہیں۔

ابتدائی سالوں سے کچھ ماہ پہلے تک ان افراد نے کسی نہ کسی طرح پاکستان کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرلئے۔ برسوں بعد حالیہ مہینوں میں چھان بین ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کا خاندانی ریکارڈ موجود ہی نہیں. لہذا, بڑی تعداد میں ایسے افراد کے شناختی کارڈ منسوخ کردیئے گئے, جبکہ شناختی کارڈ جاری کرنے والے وفاقی ادارے، ’نادرہ‘ (نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی) جو وزارت داخلہ کے ماتحت آتا ہے اس نے بغیر چھان بین کے نئے کارڈوں کا اجرا روک دیا۔

کراچی میں اس وقت بھی 25 لاکھ بنگالی مقیم ہیں جو اپنی شناخت کے متلاشی ہیں۔ ان کی نمائندہ تنظیموں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شہر کے90 سے زائد مقامات پر بنگالی برادری رہتی ہے۔ شناختی کارڈ منسوخ ہونے کی وجہ سے اس بار 57ہزار بچے نائنتھ اور میٹرک کے امتحانات میں نہیں بیٹھ سکے۔ والدین کے شناختی کارڈ منسوخ ہونے سے ان کے ’ب فارمز‘ بھی کسی کام کے نہیں رہے۔ یوں، ہزاروں بچوں کا مستقبل داؤں پر لگ گیا ہے۔

انہی افراد میں سے ایک محمد بلال بھی ہیں۔ بلال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ وہ سن 1986 میں تقریباً 30 افراد کے ہمراہ بنگلا دیش سے بذریعہ کراچی، سعودی عرب جانے کے لئے نکلے تھے۔ لیکن، ایجنٹ انہیں کراچی میں چھوڑ کر راتوں رات غائب ہوگیا اور آج تک اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

محمد بلال ایک دو دن تو صدر کے ایک ہوٹل میں مقیم رہے اور ایجنٹ کو تلاش کرتے رہے۔ لیکن، نہ اس نے واپس آنا تھا اور نا وہ آیا۔ آخرکار انہیں ہوٹل بھی خالی کرنا پڑا۔ کئی دن فٹ پاتھ پر بے یار و مددگار رہے پھر کراچی کی ایک بستی موسیٰ کالونی میں کسی جاننے والے کے یہاں آکر ٹھہر گئے۔

بقول محمد بلال، ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ واپس جاسکتے اور آسرا بھی کوئی نہیں تھا۔ لہذا، کراچی میں ہی کچھ دن قیام کرنے اور کوئی چھوٹا موٹا کام کرکے پیسے جمع کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔

کسی کے کہنے پر ایک فیکٹری میں نہایت کم پیسوں پر ملازمت مل گئی۔ پھر کچھ رشتے داروں کا بھی پتہ چلا جو کراچی میں پہلے سے ہی مقیم تھے۔ انہوں نے اپنے گھر میں ٹھہرنے کا انتظام بھی کیا اور ایک دن اپنی ہی برادری کی لڑکی پروین سے ان کی شادی کردی۔

گھر بسا تو بنگلہ دیش جانے کا خیال بھی دل سے جاتا رہا۔ بس والدین اور دیگر اہل خانہ سے خط کے ذریعے یا فون پر بات چیت رہتی تھی۔ بلال بتاتے ہیں ’’شادی سے پہلے ہی میں نے شناخت کارڈ اور پاسپورٹ بنوا لیا تھا، جس پر میں نے کئی مرتبہ بنگلا دیش کا سفر بھی کیا۔ لیکن، پچھلے سال دہشت گردی کے واقعات بڑھے، شناختی کارڈز کی نئے سرے سے جانچ پڑتال ہوئی تو ان سمیت سینکڑوں افراد کے کارڈز منسوخ کردیئے گئے۔

اب بلال اور ان جیسے لاکھوں افراد اپنی شناخت کے متلاشی ہیں۔ برسوں بیت گئے لیکن انہیں شناخت نہیں مل سکی۔ انہیں قانونی دستاویزات کی کمی کا سامنا ہے جس سے شناخت کے بحران میں اضافہ ہو رہا ہے۔

محنت، ٹرانسپورٹ اور اطلاعات کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ ’’پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر بنگالی برادری کی نمائندہ تنظیم ’بنگالیز ایکشن کمیٹی‘ سے انہیں درپیش مسائل کے حل کے لئے بات چیت جاری ہے اور ترجیح دی جا رہی ہے، چونکہ یہ لوگ سندھ کے مستقل رہائشی ہیں۔ لہذا، ان کی باقاعدہ تصدیق کے بعد انہیں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کرائے جائیں اور انہیں بھی شناخت مل سکے۔

شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث حال ہی میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا۔ پچھلے نومبر میں گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں موجود ایک بحری جہاز کے فیول ٹینک میں آگ لگ گئی جس سے جہاز پر کام کرنے والے 30سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک درجن کے قریب افراد لاپتہ قرار دے دیئے گئے۔

لاپتہ افراد میں محمد شفیق کا نام بھی شامل تھا۔ ان کی والدہ سائرہ بانو کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ بنگالی ہونے کی بنا پر اس کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے انہیں اسپتالوں اور مردہ خانوں میں اپنے بیٹے کی تلاش اور شناخت میں سخت پریشانی اٹھانا پڑی۔ وہاں ہر کام کے لئے شناختی کارڈ مانگا جا رہا تھا۔ شفیق کو تلاش کرنے کے لئے ان کے سوتیلے باپ کا شناختی کارڈ استعمال کرنا پڑا۔ شناختی کارڈ کے بغیر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی معاوضہ ملنا تو ممکن ہی نہیں۔‘‘

بنگالی برادری کی نمائندہ سیاسی تنظیم، ’پاکستان مسلم الائنس‘ کے صدر خواجہ سلمان خیرالدین کے مطابق، کراچی کے 94مقامات پر 25 لاکھ بنگالی مقیم ہیں، ان میں ابراہیم حیدری، مچھر کالونی، کورنگی اور نیو کراچی اکثریت والے علاقے ہیں۔

سلمان کے مطابق، شناخت کے حوالے سے گورنر سندھ محمد زبیر سے بھی مذاکرات ہوچکے ہیں جس میں شناختی کارڈ جاری نہ کئے جانے جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر سندھ کو بتایا گیا کہ بنگالی کمیونٹی کو گزشتہ 40 برس سے زبان کی بنا پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جس کے تحت وہ کونسلر منتخب کئے جاتے ہیں، ووٹرز کی فہرست میں ان کا نام شامل ہوتا ہے۔ لیکن، اس کے باوجود وہ اب تک شناختی کارڈ کی تجدید کروانے میں ناکام ہیں۔

محمد بلال کے بقول وہ لاسی گوٹھ نیو کراچی میں رہتے ہیں۔ نالے پر بنا ہوا ایک پل لاسی گوٹھ کو دوسرے علاقوں سے ملاتا ہے۔ گوٹھ کے بے شمار شہری اسی پتلے سے پل سے گزر کر صبح کام پر جاتے اور شام کو گھر واپس آتے ہیں۔ لیکن جب سے شناختی کارڈ بلاک ہوئے ہیں بعض افراد خود کو پولیس اہلکار بتا کر پل پر سے گزرنے والے ہر شخص سے شناختی کارڈ طلب کرتے ہیں اور نہ دکھانے کی صورت میں جیب میں پڑے پیسوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ بسا اوقات وہ بڑی بڑی رقموں کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔جان چھڑانے کے لئے ہمارے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا۔‘‘

کئی واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں کہ کچھ افراد نے انہیں پرانے شناختی کارڈ دکھائے تو انہوں نے وہ بھی چھین کر اپنے پاس رکھ لئے یا وہیں کھڑے کھڑے جلا دیئے۔

پاکستان مسلم الائنس کے صدر، حسین بخش نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شناخت نہ ملنے کے سبب ہمارا اور ہمارے بچوں کا مستقبل اندھیرے کی نذر ہوگیا ہے۔ جو بچے یہیں پیدا ہوئے ہیں اور جنہوں نے بنگلہ دیش دیکھا تک نہیں انہیں بلا قصور کے سزا مل رہی ہے۔ اپنا یہ دکھ کہیں بھی تو کس سے؟ ’مرے پر سو درے‘ کے مصداق، ’’اس بار مارچ سے مئی تک جاری رہنے والی مردم شماری میں بھی ہمارا اندراج نہیں ہوسکا۔ نہ ہم سر چھپانے کے لئے مکان خرید سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور جائیداد۔ اور جو خرید بھی لیں تو ہمیشہ ’ناجائز قبضہ‘ شمار ہوتی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG