رسائی کے لنکس

logo-print

سامعہ قتل کیس: رکنِ پارلیمان کو دھمکیاں، خاتون گرفتار


ناز شاہ کو ایک پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کے پاکستان میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کی تحقیقات کے مطالبے کے بعد, قتل کی دھمکیاں ملی تھیں۔ ویسٹ یارکشائر پولیس نے کہا ہے کہ منگل کی شام ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا تھا

بریڈفورڈ کی پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمان، ناز شاہ کےخلاف مبینہ دھمکیوں کے سلسلے میں ویسٹ یارکشائر پولیس نے ایک عورت کو گرفتار کیا ہے۔

ناز شاہ کو ایک پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کے پاکستان میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کی تحقیقات کے مطالبے کے بعد, قتل کی دھمکیاں ملی تھیں۔

ویسٹ یارکشائر پولیس نے کہا ہے کہ منگل کی شام ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ویسٹ یارکشائر پولیس اس بات کی تصدیق کر سکتی ہے کہ ایک 32 سالہ خاتون کو رکن پارلیمان ناز شاہ کو دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ خاتون کو حراست میں رکھا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ویسٹ یارکشائر پولیس پاکستان میں متعلقہ حکام کے ساتھ ملکر اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اخبار ’گارڈین‘ کے مطابق رکن پارلیمان ناز شاہ نے اس ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ بریڈفورڈ سے تعلق رکھنے والی خاتون کی پاکستان میں موت کے واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں جس میں مقتولہ کے شوہر کا دعویٰ ہے کہ یہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل ہوسکتا ہے۔

رکن پارلیمان نازشاہ نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی سامعہ شاہد کی موت کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو لکھا کہ ''جب تک مجھے اس واقعے کی تحقیقات مطمئن نہیں کرتی ہیں میں چین سے نہیں بیٹھوں گی۔ مجھے اس کی موت کی وجہ معلوم ہے ہمیں مکمل طور پر اس واقعے کی چھان بین کرنے کی ضرورت ہے''۔

بریڈفورڈ کی رہائشی بیوٹی تھراپسٹ سامعہ شاہد نامی 28 سالہ خاتون، جہلم میں اپنے آبائی گاؤں پندوری میں رشتہ داروں سے ملنے گئی تھیں، اس دوران پچھلے بدھ کے روز ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

مقتولہ کے شوہر سید مختار کاظم کی جانب سے غیرت کے نام پر اس کی بیوی کے قتل کئے جانے کے الزام کے بعد پاکستان میں سامعہ شاہد کی موت کے واقعے پر قتل کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔

سید مختار کو یقین ہے کہ سامعہ شاہد کو گھر والوں نے قتل کیا ہے،جو سامعہ کی خاندان سے باہر دوسری شادی سے خوش نہیں تھے۔

سامعہ نے پاکستان میں مقیم اپنے پہلے شوہر، جو ان کا فرسٹ کزن تھا اس سے علحیدگی اختیار کر لی تھی اور سامعہ سید مختار کاظم سے لیڈز میں 2014 میں شادی کی تھی۔

محترمہ شاہد کے شوہر مختار کاظم کے مطابق انھیں بتایا کیا تھا کہ سامعہ کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی ہے،جبکہ خاندان کے ایک قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی موت دمے کا خطرناک دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سامعہ کے گھر والےجو پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں سامعہ کے پاکستان جانے سے پہلے اسے فون پر جان سے مارنے کی دھمکی دے چکے تھے۔

سامعہ کے گھر والوں اور ان کے والد نے سامعہ کے شوہر کے دعویٰ کو بے بنیاد بتایا ہے اور کہا ہے کہ کاظم نے ان پر چھوٹے الزامات عائد کئے ہیں اور وہ تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔

بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق محترمہ سامعہ شاہد کے مبینہ قتل کیس سے متعلق رکن پارلیمان ناز شاہ کو دھمکیاں دینے کے الزام میں منگل کے روز ان کے ایک رشتہ دار کو ویسٹ یارکشائر پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک سینتیس شخص کو بھی اسی الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بتیس سالہ خاتون اور یہ شخص ویسٹ یورکشائر پولس کی حراست میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG