رسائی کے لنکس

logo-print

کلائی پر ہیئر بینڈ پہننے والی خاتون کو سرجری کرانا پڑگئی


جب ان کی کلائی کے زخم کی وجہ سامنے آئی تو وہ اس پر یقین نہیں کر پائیں کہ ان کی اس تکلیف کی وجہ معمولی سا ایک ہیئر بینڈ ہے۔

خواتین اکثر بالوں میں لگانے والے خوبصورت ہیئر بینڈز کو کلائیوں میں بھی پہن لیا کرتی ہیں خاص طور پر کم سن لڑکیوں میں ان فیشن ایبل ہیئر بینڈز کو ہاتھوں میں بریسلیٹ کی طرح پہننے کا رواج عام ہے لیکن امریکی خاتون اوڈری کوپ سے کوئی پوچھے کہ انھیں یہ عادت کتنی بھاری پڑی ہے۔

امریکی ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والی اوڈری کوپ کی کلائی پر سوزش اور سوجن تھی جو ختم نہیں ہو رہی تھی۔

مس کوپ کا خیال تھا کہ انھیں شاید مکڑی نے کاٹا ہے لیکن ان کی کلائی پر سوجن مسلسل بڑھتی جا رہی تھی اور یہ ایک بڑے سکے جتنی پھیل گئی تھی جس کے بعد خاتون نے اپنے معالج سے اینٹی بایوٹک علاج شروع کیا جس سے کوئی افاقہ نہیں ہوا بلکہ ان کی کلائی درد ناک حد تک سوج گئی۔

لیکن جب ان کی کلائی کے زخم کی وجہ سامنے آئی تو وہ اس پر یقین نہیں کر پائیں کہ ان کی اس تکلیف کی وجہ معمولی سا ایک ہیئر بینڈ ہے۔

محترمہ اوڈری کوپ نے کینٹکی کے شہر لوئی ویل کے ایک مقامی اخبار ڈبلیو ایل کے وائی کو بتایا کہ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ان کے ہاتھ پر یہ زخم گلیٹر والی چمکدار ہیئر بینڈ پہننے سے ہوا ہے، جو مس کوپ اپنی کلائی پر بریسلٹ کی طرح پہننا کرتی تھی۔

مس کوپ نے کہا کہ خوش قسمتی سے ڈاکٹروں نے وقت پر انفیکشن کا سبب معلوم کر لیا تھا اگر ایسا نا ہوتا تو شاید انفیکشن میرے جسم میں پھیل سکتا تھا۔

ڈاکٹر امیت گپتا نے ذرائع کو بتایا کہ بیکٹیریا مس کوپ کے گلیٹری ہیئر بینڈ سے نکل کر ان کی جلد کے مسام اور بالوں کے ذریعے جلد کے اندر پہنچ گئے تھے اور تین مختلف اقسام کے انفیکشن کا سبب بنا تھا۔

انھوں نے کہا کہ مس کوپ کی کلائی کے پیچھے ایک بڑا پھوڑا سا تھا اور مس کوپ کو بالاآخر کلائی پر سے پیپ کا مواد صاف کراونے کے لیے سرجری کے عمل سے گزرنا پڑا ۔

ڈاکٹر گپتا نے خواتین سے کہا کہ آپ کو ان رنگ برنگی ہیئر بینڈز کو کلائیوں میں بریسلیٹ کی طرح نہیں پہننا چاہیئے کیونکہ اس سے جلد کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ کسی بھی انفیکشن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہو سکتا ہے۔

اس غیر معمولی واقعے کا امریکی ذرائع ابلاغ میں خاصا چرچا رہا ہے کیونکہ یہ عادت دنیا بھر کی خواتین میں عام ہے۔

XS
SM
MD
LG