رسائی کے لنکس

صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع بہاولپور کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ایک شخص پر تیزاب پھینکنے کے جرم میں ایک خاتون کو 14 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پولیس کے مطابق ضلع رحیم یار خان کے ظاہر پیر پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع منگلا شیخاں کے قصبے کی رہائشی خاتون عفت بی بی سے مظہر ہاشمی نامی شخص نے مبینہ طور پرشادی کرنےکا وعدہ کیا تھا لیکن بعدازاں جب وہ اپنے وعدے سے پھر گیا تو خاتون نے انتقاماً گزشتہ سال جولائی میں اس پر تیزاب پھینک دیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔

پولیس نے مظہر کی درخواست پر خاتون کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش مکمل کر کے اس کا چالان بہاولپور کی انسداد دہشت گردی میں پیش کر دیا اور رواں ہفتے عدالت نے اس مقدمے کی سماعت مکمل کر کے عفت کو سزا سنا دی۔ وہ اپنی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتی ہیں۔

پاکستان میں ہونے والے تیزاب حملوں کا نشانہ اکثر اوقات خواتین بنتی ہیں تاہم بعض اوقات مرد بھی ان کا نشانہ بنتے ہیں۔

حقوق نسواں کمیشن پنجاب کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے ہفتہ کووائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تیزاب کے حملوں میں چاہے مرد ملوث ہوں چاہے خاتون ان کے بقول یہ ایک گھناؤنا فعل ہے اور ان کی روک تھام کے لیے ریاست اور سماج کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔

انہو ں نے کہا کہ جن واقعات میں خواتین نشانہ بنتی ہیں ان پر اس لیے بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ خواتین کے مدد کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اور وہ اپنے مقدمات کی پیروی نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کے اپنے وسائل نہیں ہوتے۔

فوزیہ وقار نے مزید کہا کہ " چونکہ مردو ں کے پاس اپنے وسائل ہوتے ہیں جن کو وہ بروئے کار لا کر وہ کیس کی اچھی طریقے سے پیروی کر سکتے ہیں۔ اس لیے خواتین کے خلاف تیزاب حملوں کے مقدمات کو بھی جلد سماعت مکمل کر کے ارتکاب کر نے والوں کو کڑی سزائیں ملنی چاہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیزاب کی خرید و فروخت کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہیں تاہم ان کے بقول انپر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

"تیزاب کا آسانی سے ملنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، خواتین اور مردوں کے خلاف یہ گھناؤنا جرم کرنے کے لیے یہ بڑی آسانی سے مل جاتا ہے اس کی وجہ سے یہ آسانی سے زیادہ تر خواتین کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔"

فوزیہ وقار نے کہا کہ پاکستان میں تیزاب حملوں کے 80 فیصد واقعات میں اکثر خواتین نشانہ بنتی ہیں اور گزشتہ سال صوبہ پنجاب میں تیزاب پھینکنے کے لگ بھگ 170 واقعات رپورٹ ہوئے اور رواں سال اب تک ایسے 86 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG