رسائی کے لنکس

logo-print

'بائیک تفریح کے لیے نہیں، اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے سیکھی'


"ایک صاحب نے قائدِ اعظم کے مزار کے قریب سگنل پر روک کر مجھے ہیلمٹ گفٹ کر دیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا کیا واقعی میں یہ رکھ لوں؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں یہ میری طرف سے آپ کے لیے تحفہ ہے۔ کیوں کہ مجھے آپ کو یوں بائیک چلاتا دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔"

ان خیالات کا اظہار کیا کراچی کی سکینہ اشفاق نے جو داؤدی بوہرہ جماعت سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنی کمیونٹی کی پہلی خاتون بائیکر ہیں۔

صدر کی گنجان گلیوں اور شہر کی اہم شاہراہوں سے گزرتے ہوئے سکینہ کا اعتماد دیدنی ہوتا ہے۔ چار برس قبل انہوں نے بائیک چلانا سیکھی۔ بائیک چلانا سیکھنے کا مقصد ان کی ضروریات تھیں۔ سکینہ کے بہت سے کام محض اس لیے رک رہے تھے کہ ان کے پاس کوئی سواری نہیں تھی۔

خواتین کی اپنی سواری، مطلب خود مختاری
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:11 0:00

سکینہ ایک اسکول میں پڑھاتی ہیں اور ساتھ ہی اپنے شوہر اور گھر کے اخراجات کا بوجھ بانٹنے کے لیے وہ بوہری کھانے گھر پر بنا کر دفاتر میں پہنچاتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سکینہ نے بتایا کہ میرے چار بیٹے ہیں۔ انہیں اسکول لے کر جانے، واپس لانے، ٹیوشن بھیجنے اور بازار سے سودا سلف لانے سے لے کر اسکول پڑھانے جانے کے لیے میں اس بائیک کو استعمال کرتی ہوں۔

سکینہ کے بقول "شروع شروع میں جب میں نے بائیک چلانا سیکھی تو میری برادری اور خاندان کی کچھ خواتین نے مجھے بہت سپورٹ کیا اور کہا تھا کہ سکینہ تمہیں مستقبل میں بہت کچھ سننا اور سہنا پڑ سکتا ہے۔ میں نے کہا میں اس کے لیے تیار ہوں۔ کیوں کہ میں نے بائیک کسی تفریح کے لیے بلکہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے سیکھی تھی۔"

سکینہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی جمع پونجی سے صدر میں اکبر مارکیٹ سے بائیک خریدی۔ اس وقت یہ سستی تھی۔ پھر وہ سڑک پر اسے چلانے لگیں۔ جب وہ پہلی مرتبہ بائیک چلا کر اپنے محلے میں گئیں تو ان کے بقول سب انہیں دیکھ کر حیران ہو گئے کہ ایک لڑکی بائیک چلا رہی ہے۔

سکینہ کے مطابق خواتین مجھے دیکھ کر خوش ہوتیں اور بات کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ کئی لڑکیاں میرے پاس آتیں کہ ہم بھی بائیک چلانا سیکھنا چاہتے ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ کچھ مرد حضرات نے جب اپنے درمیان ایک خاتون بائیکر کو دیکھا تو ان کی انا آڑے آگئی اور انہوں نے بے وجہ مجھ سے آگے نکلنے کی کوشش کی۔

ان کے بقول میرے قریبی دوستوں نے بھی کہا کہ سکینہ اچھا نہیں لگتا، یہ کیوں کر رہی ہو؟ میں نے انہیں ایک ہی جواب دیا کہ مجھے اچھا لگتا ہے اور میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ میرے بچے اور شوہر کیا سوچتے ہیں۔

سکینہ کا کہنا تھا کہ ان کے بائیک چلانے سے سب سے اہم مسئلہ جو ان کے گھر والوں کو ہوا، وہ یہ تھا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ ان کے بقول "میں نے کہا کہ کیا لوگ آ کر کھانا کھلاتے ہیں؟ لوگ ہماری فیملی کی پریشانیاں آ کر دیکھتے ہیں؟ ہم نے ہی دیکھنی ہیں۔ یہ ہماری زندگی ہے اور ہم کو اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔"

"پہلے جب میں اپنے بڑے بیٹے کو اسکول چھوڑنے جاتی تھی تو اسے اس کے کلاس فیلوز نے کہا کہ تمہاری امی تو بائیک چلاتی ہیں۔ ایسی باتیں بار بار سننے سے وہ پریشان ہو گیا اور اس نے مجھے کہا کہ آپ مجھے اسکول چھوڑنے نہ جایا کریں۔ پھر میں اس کی ٹیچر سے ملی اور ساری صورتِ حال بتائی تو انہوں نے مجھے بہت سراہا اور میرے بیٹے کو سمجھایا کہ جو تمہاری امی کر رہی ہیں، وہ بہت بڑا کام ہے۔ یہ ہم سب نہیں کر سکتے تم ان پر فخر کرو۔"

سکینہ کے بقول آج جب ان کے بیٹے ان کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر کہیں بھی جاتے ہیں تو سفر کے دوران بتاتے جاتے ہیں۔ "وہ دیکھو ممی! وہ ایک آنٹی بائیک چلا رہی ہیں۔ وہ دیکھو ایک آنٹی برقع میں بائیک چلا رہی ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ مجھے دیکھ کر بہت سی خواتین نے ہمت کر کے بائیک چلانا شروع کی ہے اور اب یہ کاروان بنتا جا رہا ہے۔

لوگوں کی تنقید اور اپنوں کی مخالفت کا اثر جب گھریلو زندگی میں آنے لگا تو سکینہ کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو گئیں۔ لوگوں کی جانب سے کی جانے والی باتوں کے دباؤ کو سکینہ کے شوہر بھی محسوس کر رہے تھے۔ لیکن ایک واقعے نے اس سارے منفی رویے کو زائل کر دیا۔

سکینہ کے مطابق حال ہی میں ان کے شوہر کی طبیعت خراب ہوئی اور انہیں دل میں تکلیف محسوس ہوئی جس کے سبب انہیں ایمبولینس میں اسپتال لے جانا پڑا۔ دوسرے دن اچانک جب دوبارہ ان کے شوہر کی طبیعت بگڑی تو سکینہ نے کسی کا بھی انتظار نہیں کیا اور اپنے شوہر کو بائیک پر بٹھا کر اسپتال پہنچ گئیں۔

ان کے بقول "اس وقت جب میں جناح اسپتال پہنچی تو وہاں موجود لوگوں نے خاصی حیرت کا اظہار کیا کہ ایک عورت اپنے شوہر کو بائیک پر لے کر آئی ہے۔ وہاں ایک پروفیسر صاحب کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ بی بی یہاں بائیک پارک نہ کریں۔ تو میں نے انہیں جواب دیا کہ کیا کروں؟ میرے شوہر کو اٹیک ہوا ہے اور میں انتظار کروں؟ یہ وہ دن تھا جس کے بعد ہمارے گھر میں ہونے والے تمام جھگڑے ختم ہو گئے اور میرے شوہر کو سمجھ آیا کہ اس سواری کے کیا مثبت پہلو ہیں۔"

بائیک چلانے سے پہلے زندگی کیسی تھی اور اب کیا فرق آیا؟ اس سوال کے جواب میں سکینہ کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی آسانی جو ہوئی وہ پیسوں کی بچت ہے۔ پہلے کہیں بھی آنا جانا ہوتا تو رکشے یا ٹیکسی کے کرائے بہت پیسے لگ جاتے تھے۔ اب کوئی بھی کام ہو، با آسانی ہو جاتا ہے۔

سکینہ نے کہا کہ "میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں ڈرتی بہت ہیں۔ ہمارے آدھے سے زیادہ خواب اس لیے ادھورے رہ جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ یہ بات ہمیں کچھ کرنے نہیں دیتی۔ لوگوں کو سمجھنا ہو گا کہ خواتین کا بائیک چلانا کوئی انہونی بات نہیں۔ عورتوں کو استعمال کرنے کے لیے یوں تو بہت سی مشینیں دے دی گئی ہیں۔ تو یہ بھی دو پہیوں کی مشین ہی ہے۔ اگر عورت اسے آپریٹ کر لے تو کیا الگ ہے؟"

سکینہ کے مطابق بائیک ان کی خوشی اور جنون ہے۔ بائیک چلنا سیکھنے اور لوگوں کی مخالفت کے باوجود اپنا کام جاری رکھنے سے انہیں بہت حوصلہ ملا ہے۔ ان کے بقول "اب مجھے کوئی مشکل، مشکل نہیں لگتی۔ یہی محسوس ہوتا ہے کہ اگر میں یہ کرسکتی ہوں تو سب کرسکتی ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG