رسائی کے لنکس

logo-print

سڑکوں کی وراثت میں حصہ ڈھونڈتی خواتین


کراچی میں خواتین کو تربیت دینے والی بائیکر محوش خلیق۔ فائل فوٹو

بڑے شہر کی سڑکوں پر کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی اکا دُکا لڑکیاں دو پہیوں والی سواری چلاتی نظر آ ہی جائیں تو خود کو سڑکوں کا راجا مہاراجہ سمجھنے والے مرد حضرات کو حیرانگی کا غم تو کم کھاتا ہے البتہ عادت سے مجبور بھائی بندووں کا سب سے پہلے تو مخالف جنس کو اُوپر سے نیچے تک پھٹی آنکھوں سے گھورنےکاسلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پھر کوئی ایک صاحب اپنی سواری اُن کے پیچھے لگاتے ہیں تو کوئی ساتھ ساتھ چلنا پسند فرماتے ہیں اور تب تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک بھولی بسری یادوں کی کھڑکی کوئی کھٹکھٹائے اور بتائے کہ بھائی جس کام کے لئے نکلے تھے وہ تو پیچھے چھوٹ گیا۔ بعض افراد ایک نظر ڈال کر اپنا راستہ تو ناپ لیتے ہیں لیکن کھسیانی ہنسی کا تحفہ دینا نہیں بھولتے۔

یہ ہے ہمارا وہ معاشرہ جس کے چند بے شعور ذہنی بیمار افراد اپنے آپ کو ہماری قوم کا کُل سمجھتے ہیں، جنہوں نے اُن باغی لڑکیوں/ خواتین کو اپنی للچائی نظروں اور طنزیہ ذہنوں سے ڈرانے کی بُہت کوشش بھی کی لیکن اس کے باوجود وہ چلتی رہیں۔ آہستہ آہستہ اُٹھنے والی آندھی کو طوفان بننے میں زیادہ وقت نہ لگا۔۔

زمانے کے ساتھ چلنے والی اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد تب سامنے آئی، جب پنجاب حکومت کی جانب سے سات سو دس طالبعلم، نوکری پیشہ خواتین اور ہاوس وائوز میں تیس فیصد سبسڈی پر موٹر سائیکلیں تقسیم کی گئیں۔ اس کے بعد بُہت سی لڑکیوں میں اس کے حصول کی خواہش جاگی۔ دو ہزار سولہ میں وزیراعلی پنجاب کے اسپیشل اسٹریٹیجک مانیٹرنگ یونٹ نے سٹی ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر خواہش مند لڑکیوں کے لئے مفت تربیت کا آغاز کیا، جہاں لڑکیوں کو پہلے سائیکل پر توازن برقرار رکھنے کی الف ب سکھائی گئی اور پھر اُنہیں موٹر سائیکل چلانے کی تربیت ملی۔

ایل او ایس میں پنجاب ٹریفک پولیس کی جانب سے خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی عملی تربیت دیتے ٹریفک وارڈن عرفان علی نے بتایا کہ "دو ہزار سولہ سے لیکر اب تک 3026 خواتین نے رجسٹریشن کروائی، لگن اور محنت کا مظاہرہ کیا اور موٹر بائیک چلانے کا گر سیکھ لیا۔ ہمارے پاس آنے والی خواتین میں کوئی طالبعلم ہے تو کوئی ہاؤس وائف۔ ڈاکٹرز، وکیل اور دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی بائیک چلانے کی تربیت حاصل کرنے یہاں آرہی ہیں۔ اُنہوں نے روزانہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کوئی سا ایک گھنٹہ اپنے لئے چُنا تاکہ روزمرہ کا کام بھی مُتاثر نہ ہو اور اُن کے ہاتھ ایک اور ہُنر لگ جائے" اُنہوں نے مزید کہا کہ "لڑکیوں کو سکھانا مُشکل تو ہے لیکن وہ حاضر دماغی کے باعث جلد ہی سیکھ جاتی ہیں"۔

یہاں سے تربیت حاصل کرنے والوں میں پانچ بچوں کی ماں مہروز بھی ہے، شوہر کمانے کی غرض سے دُبئی چلا گیا اور بچوں کو اسکول سے لانے لے جانے کی ذمہ داری سے لیکر ضرورت کی اشیاء خریدنے جانے تک سب اُسے خود کرنا پڑتا ہے۔ فی الحال وہ ویگنوں بسوں کے دھکے کھاتی ہیں لیکن اُن کا کہنا ہے کہ بائیک کی مکمل تربیت لینے کے بعد وہ اس جھنجھٹ سے جان چُھڑا لیں گی۔ اپنے مُستقبل کو روشن دیکھنے والی مہروز کا کہنا ہے کہ " میں یہ ہُنر صرف اپنے تک نہیں رکھوں گی، بلکہ بائیک ٹریننگ سینٹر کھولوں گی۔ اس طرح سے مجھے روزگار بھی ملے گا اور دوسری لڑکیوں کو خاتون انسٹرکٹر اور سیکھنے کی جگہ بھی"۔

مضبوط اعصاب اور حوصلوں والی ان لڑکیوں کی تربیت کا عملی مظاہرہ پہلی بار لاہور کی سڑکوں پر 10 جنوری دو ہزار سولہ کو ہوا اور اب ایک بار پھر تیرہ مئی دو ہزار اٹھارہ کو نارنجی شرٹس اور ہیلمٹ پہنے 100 سے زائد لڑکیاں کشمیر روڈ پر جمع ہوئیں اور مال روڈ پر ریلی نکال کر سب کو دکھا دیا کہ وہ کسی صورت پیچھے نہیں۔ اور اب لاہور کی سڑکوں پر صرف لڑکوں کا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کا بھی راج ہوگا۔ اُن کا حوصلہ بڑھانے قانون دان حنا جیلانی، نوجوانوں کی ترجمان خدیجہ صدیقی، میشا شفیع سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موقع پر پُہنچی اور لڑکیوں کے ساتھ ڈبل سواری بھی کی۔

دو پہیوں والی سواری پر بیٹھ کر خود کو ہوا میں محسوس کرنے والی ندا کا کہنا تھا کہ "زمانہ بدل رہا ہے اور لوگوں کی سوچ بھی۔ ہمارے والدین اور گھر والوں نے ہم پر بھروسہ کیا اور آج ہم ہر میدان میں آگے ہیں۔ اگر تمام لوگ لڑکیوں کے خود مختار ہونے پر تنگ نظری کا اظہار نہ کریں اور اپنی بہنوں، بیٹیوں یا بیویوں کو اُنکے کام خود کرنے کی اجازت دیں تو ہم اسلامی حدود میں رہتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں"۔

ایک اور بائیک پر بیٹھی فضاء نے بتایا کہ وہ وکیل ہیں اور حافظ آباد سے یہاں پریکٹس کرنے آئی ہیں۔ ہاسٹل سے عدالت جانے اور دیگر کاموں کے لئے اُنہوں نے بائیک چلانا سیکھی ہے اور اب وہ ہر جگہ باآسانی جا سکیں گی"۔ اپنی بیٹی کے ساتھ آئیں والدہ کا کہنا تھا کہ " اس کے باپ کا بوجھ بھی ہلکا ہوا ہے اور بھائی کا بھی۔آج کل کی لڑکیاں بیٹیاں نہیں بیٹے ہیں"۔

بُلند ارادوں کی مالک نادیہ بتول نے کہا کہ جب تک لڑکوں کو پتہ چلے گا کہ کوئی لڑکی بائیک چلا رہی ہے تب تک ہم بُہت آگے نکل چُکے ہوں گے۔ جب چند لڑکیاں یہ سواری چلاتی تھیں تو لوگوں کو عجیب لگتا تھا لیکن ہمیں اُمید ہے کہ جب سڑکوں پر ہماری اکثریت آئے گی تو آہستہ آہستہ اس میں کُچھ عجیب نہیں رہے گا اور سب کے لئے یہ معمول کی بات ہوگی"۔

اس میدان میں قدم رکھنے والی خواتین اور اُنکے گھر والوں کی سوچ تو اچھی ہے لیکن ایسی سوچ کو مزید لوگوں میں فروغ پانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اُن خود اعتماد حضرات کا معاشرہ ہے جہاں اگر کہیں ٹریفک کا نظام خراب ملے تو پیچھے سے آنیوالوں کے دماغ میں یہی آتا ہے کہ یہ کسی بی بی کی ہی کرنی کا نتیجہ ہوگا یا اگر کوئی اگلی گاڑی آہستہ چل رہی ہو تو تب بھی اعلیٰ ظرف کے مالک ڈرائیور یہی سوچتے ہیں کہ ضرور کوئی خاتون گاڑی لیکر نکلی ہو گی اور سونے پر سُہاگہ اگر واقعی ہی ایسا ہو تو خود ہی اپنے شانے اُچکتے ہیں اور اپنا کندھا تھپتھاتے کہتے ہیں کہ دیکھا ، کہا تھا نہ کہ بی بی کو گاڑی چلانے کا شوق چڑھا ہوگا۔

اب مرد ڈرائیوروں کی اس سوسائٹی میں موٹر سائیکل خواتین ڈرائیوروں کو ہضم کیا جاتا ہے کہ نہیں، اس کے آنکھوں دیکھے واقعات سڑکوں پر دیکھنے کو مل ہی جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG