رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: پیپلز پارٹی کی سات خواتین میدان میں، مقابلہ ایم کیو ایم سے


ی پی پی کی خواتین امیدوار جن حلقوں سے انتخابی میدان میں اتریں گی وہ ایم کیوایم کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں ان حلقوں میں پی پی پی کا ووٹ بینک کمزور ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی روایت رہی ہے کہ وہ براہ راست انتخابات میں خواتین امیدواروں کو نمائندگی دیتی ہے۔

پارٹی نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں بھی یہ روایت برقرار رکھی ہے اور کراچی سے سات اور باقی سندھ سے 5 خواتین کو ٹکٹ جاری کیے ہیں۔

یہ تمام خواتین جنرل نشستوں پر انتخابات لڑیں گی، ان میں سے سات خواتین کا تعلق کراچی سے ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی پی پی کی یہ خواتین امیدوار جن حلقوں سے انتخابی میدان میں اتریں گی وہ ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور ان حلقوں میں پی پی پی کا ووٹ بینک کمزور ہے جیسے کراچی کا ضلع وسطی اور ضلع شرقی۔

شہلا رضا

سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا این اے 243 سے انتخابی میدان میں اتریں گی۔ یہاں ان کا مقابلہ ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے بھی ہو گا لہذا اس حلقے میں کانٹے دار مقابلے یقینی ہیں۔

ناز بلوچ

پی ٹی آئی کی سابق رہنما ناز بلوچ پی ایس 127سے الیکشن لڑیں گی۔ انہوں نے 2013 کا انتخاب اس وقت کے حلقہ این اے 240سے جنرل نشست کے لیے لڑا تھا اور دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے ۔ انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختتار کرلی تھی لیکن جولائی2017میں وہ دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئیں۔

شمیم ممتاز


وزیراعلیٰ سندھ کی سابق مشیر برائے سماجی بہبود اور رکن صوبائی اسمبلی شمیم ممتاز کو اس بار مخصوص نشست کے لئے ٹکٹ دیا گیا۔

شاہدہ رحمانی


شاہدہ رحمانی بھی پی پی کی رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں ۔ وہ اس بار صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 118 ڈسٹرکٹ ویسٹ سے انتخابات لڑیں گی۔

انجم نذیر،گل رعنا اور رابعہ عباسی

ڈسٹرکٹ کورنگی کی پی ایس 93، پی ایس 94 اور پی ایس 95کے لئے بالترتیب انجم نذیر،گل رعنا اوررابعہ عباسی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔یہ ایس نام ہیں جن کے بارے میں لوگ کم ہی جانتے ہیں۔

سندھ کے دہی علاقوں کی خواتین امیدوار

کراچی کے علاوہ اندرون سندھ کے دیہی علاقوں سے جن پانچ خواتین کو ٹکٹ دیئے ہیں یہ نامور اور منجھی ہوئی خواتین سیاستدان ہیں ۔ ان میں سے کچھ پہلے بھی یا توعام انتخابات میں جنرل نشستوں پرالیکشن لڑچکی ہیں یا پھر خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پرمنتخب ہوچکی ہیں۔

فریال تالپور اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما
فریال تالپور اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما

فریال تالپور اور عذرا فضل پیچوہو


یہ تمام خواتین بااثر پارٹی رہنماؤں کی رشتہ دار ہیں اور الیکشن جیتے کے لئے مضبوط پوزیشن میں ہیں۔مثلاًسابق صدر آصف علی زرداری کی دو بہنیں فریال تالپور اور عذرا فضل پیچوہو جو پی ایس 10لاڑکانہ اور پی ایس 27شہید بینظیر آباد سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ فریال تالپور 2008 اور 2013میں قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔وہ 2001میں ڈسٹرکٹ مئیر بھی رہ چکی ہیں۔

نفیسہ شاہ


خیرپور کی نشست این اے208سے پی پی پی کی رہنما اور سابق ڈسٹرکٹ مئیر نفیسہ شاہ الیکشن میں حصہ لیں گی۔ نفیسہ شاہ سابق وزیراعلی سندھ قائم علیشاہ کی صاحبزادی ہیں۔

شازیہ عطا مری


یہ بھی تجربہ کار سابق رکن پارلیمنٹ ہیں۔ وہ ڈسٹرکٹ سانگھڑ کے حلقے این اے 216سے ایک بار پھر قومی اسمبلی کے لئے انتخاب لڑ رہی ہیں۔شازیہ مری 2013، 2002اور 2008 کے انتخابات میں کامیاب ہوکر صوبائی اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔

شمس النسا میمن
ٹھٹھہ کے حلقے این اے232سے شمس النسا میمن کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔انہوں نے ضمنی انتخاب میں ٹھٹھہ کے بااثر شیرازی گرو پ کے ریاض حسین شاہ شیرازی کو ہرایا تھا۔

XS
SM
MD
LG